یوکرائنی حکام ایٹمی حملے کی تیاری کررہے ہیں

یوکرین پوٹن کی دھمکیوں کو نظر انداز نہیں کر سکتا
روس کے یوکرین پر حملہ کرنے کے کچھ ہی عرصہ بعد، روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے عالمی رہنماؤں کو بتانا شروع کر دیا تھا کہ وہ بگ گنز استعمال کرنے اور ضرورت پڑنے پر ملک کے جوہری ہتھیاروں کے وسیع ذخائر کو استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں۔

اگرچہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ پوٹن کی دھمکیاں یوکرین کو خوفزدہ کرنے کے لیے خالی الفاظ ہیں، مگر کچھ کے مطابق یوکرین کے باشندوں کو تمام امکانات پر غور کرنا چاہیے اور بدترین حالات کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

پولیٹیکو نے اطلاع دی ہے کہ سرہی پریتولا چیریٹی فاؤنڈیشن جو کیف کے مرکز میں واقع ہے، ممکنہ جوہری حملے سے بچنے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ فاؤنڈیشن کے پاس دو بم شیلٹر ہیں: ایک عمارت کے نیچے پارکنگ گیراج میں “عام” روسی بموں کے لیے اور دوسرا بم شیلٹر جو خصوصی طور پر جوہری حملے کی صورت میں استعمال کیا
جائے گا۔
فاؤنڈیشن کے سربراہ یوکرائنی ٹی وی اسٹار سرہی پریتولا نے پولیٹیکو کو بتایا: “دوسری پناہ گاہ ایٹمی حالات کے مطابق لیس ہے۔ اس میں ادویات، خوراک، پینے کا پانی، فلیش لائٹس اور بیٹریاں موجود ہیں۔”

پریتولا نے میڈیا کو یہ بھی بتایا کہ جب بات روس کی ہو تو آپ کو کسی بھی چیز کے لیے تیار رہنے کی ضرورت ہے: “روسی فوجی اور سیاسی قیادت کے اقدامات کی پیشین گوئی کرنا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جوہری خطرے سے جڑی کسی بھی چیز کو ایک حقیقی خطرے کے طور پر بہت سنجیدگی سے لینا چاہیے اور اس کے مطابق تیاری کرنی چاہیے”۔

سرہی پریتولا چیریٹی فاؤنڈیشن یوکرین پر ممکنہ جوہری حملے کی تیاری میں تنہا نہیں ہے۔ نیویارک ٹائمز نے اطلاع دی ہے کہ کیف کے ایک اہم اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ دارالحکومت میں 425 فال آؤٹ شیلٹر تیار کیے جا رہے ہیں اور انہیں سامان فراہم کیا جا رہا ہے۔

کیف کی علاقائی فوجی انتظامیہ کے سربراہ اولیکسی کولیبا نے یوکرین کے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ملک بھر میں فال آؤٹ شیلٹرز کو تیار کیا جا رہا ہے۔

کولیبا نے یوکرینی خبررساں ادارے کو بتایا، “گزشتہ آٹھ مہینوں نے ہمیں سکھایا ہے کہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ایک اہلکار کے طور پر، میں بدترین صورت حال کے لیے تیاری کر رہا ہوں، لیکن مجھے امید ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا”۔

کولیبا نے مزید کہا کہ پناہ گاہیں ہوادار، زیر زمین، دو داخلی راستوں پر مشتمل ہوں گی، اور ریڈیو سے لیس ہوں گے جو کہ ایٹمی حملے کے بعد بیرونی دنیا سے رابطے کا واحد ذریعہ ہو سکتا ہے۔

کیف کے دارالحکومت کی انتظامیہ نے مقامی حکومت کے ویب پیج پر بتایا کہ شہر میں پوٹاشیم آئوڈائڈ گولیوں کا مکمل ذخیرہ ہے جو تابکاری کو جسم میں جذب ہونے سے روکنے میں مدد کرتی ہیں۔

یوکرین کے حکام کے پاس یقینی طور پر جوہری حملے کے بارے میں فکر مند ہونے کی وجوہات ہیں، خاص طور پر جب روس کی سلامتی کونسل کے نئے ڈپٹی چیئرمین میدویدیف خبردار کر رہے ہیں کہ یوکرین کا اپنے تمام کھوئے ہوئے علاقوں پر دوبارہ قبضہ کرنے کا ہدف “ہماری ریاست کے وجود کے لیے خطرہ ہے”۔ میدویدیف نے یہ بھی کہا کہ یہ روس کے جوہری ڈیٹرنٹ کو لاگو کرنے کی “براہ راست وجہ” ہے۔

کولیبا نے یوکرینی خبررساں ادارے کے ساتھ انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ ہنگامی کارکنوں کو حفاظتی آلات اور تربیت فراہم کی جا رہی ہے کہ اگر ایٹمی حملہ ہوتا ہے تو انہیں کیا کرنا ہے۔

مزید برآں، ملک بھر کے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں انخلاء کے تمام راستوں کو اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ، نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ یوکرین کے حکومتی حکام “سرکاری ہاٹ لائنز، ریڈیو براڈکاسٹس اور لاؤڈ اسپیکر سے لیس کاروں کے ذریعے” عوام کے لیے اس طرح کی تباہی کے بارے میں آگاہی پھیلانے کے طریقے تیار کر رہے ہیں۔

یوکرین، 1986 کی چرنوبل جوہری حادثے کی وجہ سے جوہری تباہی کا کچھ تجربہ رکھتا ہے۔ حکومت اس علم کو استعمال کر رہی ہے تاکہ شہریوں کو اس بارے میں تیار کرنے میں مدد کی جا سکے کہ حالات مزید خراب ہونے کی صورت میں انہیں کیا کرنا ہے۔

یوکرین کی حکومت نے حال ہی میں انٹرنیٹ پر شہریوں کے لیے واضح ہدایات شائع کی ہیں جس کا عنوان ہے کہ “خود کو “ڈرٹی بم”، جوہری ہتھیاروں کے استعمال یا نیوکلیئر پاور پلانٹ میں ہونے والے حادثے سے کیسے بچایا جائے۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ یوکرین کی حکومت جوہری حملے کو “ممکنہ” سمجھتی ہے لیکن پھر بھی یہ مانتی ہے کہ شہریوں کو اس کے باوجود تیار رہنا چاہیے: “ایک ہی وقت میں، کسی بھی ہنگامی صورت حال کی صورت میں یوکرین کے پاس ایک ایکشن پلان ہونا چاہیے”

ہدایات میں ہر چیز کی تفصیل دی گئی ہے کہ اگر آپ سڑک پر جوہری دھماکے کی زد میں آ جائیں تو کیا کرنا ہے، تابکاری کی بیماری کی علامات سے لے کر اس کی وضاحت تک کہ “ڈرٹی بم” کیا ہوتے۔

جوہری جنگ کے لیے صرف یوکرین کے شہری ہی تیار نہیں ہیں۔ یوکرین کے فوجیوں کو، تربیت میں اور اگلے مورچوں پر، پہلے ہی پوٹاشیم آیوڈین کی گولیاں دی جا چکی ہیں اور انہیں ضروری تربیت دی جا رہی ہے کہ اگر ایٹمی حملہ ہو جائے تو انہیں کیا کرنا ہے۔

روس نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین روس کے زیر قبضہ علاقوں میں ایک “ڈرٹی بم” (ایک دھماکہ خیز مواد جو تابکار مواد کو بکھیرتا ہے) حملے کی تیاریاں کر رہا ہے، جس سے یوکرین اور دنیا بھر کی حکومتوں کو شبہ ہے کہ پیوٹن یوکرین میں اس قسم کے بم استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور حملے کا بعد اس کا الزام یوکرینی حکام پر لگایا جائے گا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے ساتھ ایک انٹرویو میں، صدارتی مشیر میخائیلو پوڈولیاک نے اس بارے میں بات کی کہ یوکرین روس کی طرف سے دھمکیوں کو حقیقی کیوں سمجھتا ہے، انہوں نے کہا: “یقینا یوکرین اس خطرے کو سنجیدگی سے لیتا ہے، کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم کس قسم کے خطرناک دشمن کے ساتھ نمٹ رہے ہیں۔”

Syed Muhammad Ali

Student of Electrical Engineering,Blogger, Website Designer, Graphic Designer, Website Manager and Social Media Manager

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: