ہمارا کیا بنے گا؟؟ تحریر سید معین الدین بخاری

عنوان: ہمارا کیا بنے گا؟؟؟

ویسے تو انسانی تاریخ میں بہت پہلے سے ہی لادینیت کی موجودگی کے شواہد ملتے ہیں لیکن اکیسویں صدی میں یہ افکار غلیظہ اپنے عروج کو پہنچ گئے ہیں۔ ٹیکنالوجی میں ترقی کے ساتھ جہاں انسان کو بہت زیادہ فائدہ ہوا ہے وہاں پر یہ نقصان بھی ہوا ہے کہ آج انٹرنیٹ کے دور میں عاقبت نااندیش لوگ اپنے پروپیگنڈہ کو آسانی سے پھیلا رہے ہیں جس سے عام انسانی دماغ کو شدید نقصان پہنچا ہے اور جس سے لوگ اپنا مضمون ایجنڈ معصوم ذہنوں تک پھیلا چکے ہیں۔
اس لا دینیت نے کسی بھی مذہب کو نہیں بخشا اور ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے مذہبی پیشوا اور پیرو کاروں کی توہین کرتے رہے ہیں اور شاید کرتے چلے جائیں گے۔ ماڈرنزم کے نام پر یہ لوگ پہلے بد اخلاقی، بدکلامی، اور فحاشی پھیلاتے ہیں اور پھر مذہبی روایات کو نشانہ بناتے ہوئے لوگوں کو لادینیت کی طرف راغب کرتے ہیں۔
بدقسمتی سے اسلام اور اسلامی روایات بھی اس سے کہیں زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ اسلام آسمانی مذاہب میں سب سے آخری اور حتمی مذہب ہے جس کے برحق اور تاقیامت آخری و مکمّل مذہب ہونے کا خود خالق کائنات نے اپنے نبی و رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ خاتم النبیین پر وحی نازل فرما کر فیصلہ صادر فرما دیا۔ ارشادِ ربانی ہے،
اَلْیوْمَ أَکمَلْتُ لَکمْ دینَکمْ وَ أَتْمَمْتُ عَلَیکُمْ نِعْمَتی وَ رَضیتُ لَکُمُ الْإِسْلامَ دیناً ﴿۳﴾
” آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا”

اس آیتِ کریمہ کے نزول سے وحی کا سلسلہ بھی منقطع ہو گیا اور انبیاء کرام علیہم السلام کی آمد کا سلسلہ بھی اختتام کو پہنچ گیا۔ اس کے علاوہ بنی نوع انسان کی تعلیم و تربیت کا کام بھی اس امت مسلمہ کے کاندھوں پر ڈال دیا گیا. حدیث شریف میں آتا ہے،
” بلغوا عني ولو آية”
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما – سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ”میری طرف سے لوگوں کو (احکامِ الٰہی) پہنچا دو اگرچہ ایک آیت ہی ہو۔ ( صحيح بخاری3461)
اس طرح سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین کی طرف سے یہ ذمہ داری تمام مسلمانوں پر ڈال دی گئی۔ لیکن جو لوگ یہ کام پہلی ترجیح پر کرتے ہیں یعنی قرآن و حدیث کا علم حاصل کرتے ہیں اور اسے دوسروں تک تحریری یا تقریری انداز میں پہنچاتے اور محفوظ کرتے ہیں انہیں علماء کرام کہا گیا ہے۔
علماء کرام اسوۃ رسول کریم خاتم النبیین ﷺ کو خود بھی اپناتے ہیں اور دوسروں تک پہنچانے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں علماء کرام نے شروع اسلام سے ہی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ یہ سلسلہ اصحاب صفه سے شروع ہوا اور ان شاءاللہ تاقیامت جاری رہے گا لیکن وقت کے ساتھ بہت سی تبدیلیاں آتی رہی ہیں۔
ان علماء کرام کے مقام کے بارے میں قرآن و حدیث میں بہت سی عظمت اور شان بیان کی گئی ہے۔ جیسے کہ قرآن شریف میں ہے،
“قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ” ۔ (سورة الزمر آیات نمبر9)
ترجمہ : آپ ﷺ فرما دیجیئے کیا علم والے اور بے علم برابر ہیں ؟
ایسے ہی حدیث شریف میں علماء کرام کو انبیاء کرام علیہم السلام کا وارث کہا گیا ہے۔ چنانچہ حدیث پاک ہے،
” علم حاصل کرنے والے کے لیے زمین و آسمان کی سبھی چیزیں دعاء خیر کرتی ہیں حتی کہ پانی میں موجود مچھلیاں بھی۔عبادت گزار پر عالم کی فضیلت ویسے ہی ہے جیسے چاند کی فضیلت سبھی ستاروں پر ہے۔علماء کرام انبیاء عظام کے وارثین ہیں۔ انبیاء کرام نے درہم و دینار وراثت میں نہیں چھوڑے بلکہ انہوں نے وراثت میں علم دین کو چھوڑا ہے” (سنن ابن ماجہ؍223)
علماء کرام اور کا درجہ بہت بلند کیا گیا ہے اور انبیاء کا وارث بھی کہا گیا ہے لیکن علماء اور انبیاء میں فرق ہے کہ علماء انبیاء کرام علیہم السلام کی طرح نہ تو معصوم ہیں اور نہ ہی ان پر وحی اترتی ہے۔ اس لیے علماء سے غلطیاں ہوتی ہیں جو اس اوپر والی بات کی دلیل ہیں۔ اس سب کے علاوہ عوام الناس علماء کرام سے ہی رہنمائی حاصل کرتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو علم کی دولت سے نوازا ہے اور توقع کرتے ہیں کہ علماء کرام انہیں صحیح راستہ کی طرف نصیحت کریں گے۔
آج کے علماء کرام بھی فتنوں کی زد میں ہیں اور ان کے اعمال انکے اقوال سے مناسبت بالکل نہیں رکھتے جس سے عوام کا اعتماد علماء کرام سے اٹھ رہا ہے اور اس وجہ سے عوام الناس میں اہانتِ علماء بھی زور پکڑ رہی ہے۔ ایک وہ وقت تھا جب خلیفۂ وقت ہارون الرشید کے بیٹے اپنے استاذ کے جوتے سیدھے کرنے کیلئے ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہے تھے اور ایک آج کا وقت ہے کہ اللہ کی پناہ۔
جہاں علماء کرام کی اہانت ایک بہت بڑا گناہ ہے وہاں پر علماء کرام کا باوجود علم کے گمراہی کا راستہ ترک نہ کرنا بھی بہت بڑی بدنصیبی کی بات ہے۔ میں نے شروع میں جس لادینیت کی بات کی ہے اسکی بڑی وجہ علماء کرام سے دوری ہے لیکن اس دوری کا سبب بھی علماء کرام کے اندر اوصافِ حمیدہ کی کمی ہے۔
اس بڑھتی ہوئی لادینیت کو لگام ڈالنے اور بگڑتی ہوئی اسلامی تہذیب کو تھام کیلئے ہر کسی کو اپنے حصے کے کام کرنے ہوں گے۔ یعنی عوام الناس کو اہانتِ علماء کرام سے بچنا ہوگا اور علماء کرام کو بھی اپنے مرتبے کو پہچاننا ہوگا۔ کیونکہ گستاخ کو کبھی ہدایت نہیں ملتی اور بغیر عمل کے علم کسی فائدے کا نہیں ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت کی راہ پر چلائے۔ آمین
تحریر:
ٹویٹر آئی ڈی:
@BukhariM9

Syed Moin uddin Shah

Syed Moin uddin Shah Ms. Management Sciences Islamia University Bahawalpur Follow his Twitter account http://twitter.com/BukhariM9‎

One thought on “ہمارا کیا بنے گا؟؟ تحریر سید معین الدین بخاری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: