اخلاقی پستی … حل کیا ہے ؟؟

‏اخلاقی پستی! حل کیا ہے؟
تحریر: افتخار حسین
‎@I_H_101
آج کی یہ چند سطور لکھنے کی وجہ حالیہ دنوں میں پیش آنے والے چند واقعات ہیں۔ ان پہ کچھ لکھنے سے پہلے سرسری سا تقابل مغرب کے غیر مسلم معاشروں اور اسلامی احکامات و تعلیمات میں عورت کو دئیے گئے حقوق اور عزت کے حوالے سے کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
مغرب میں عورت کے حقوق کی تحریک انیسویں صدی میں شروع ہوئ جسے

Feminism

(نسائیت)کا نام دیا گیا۔ اس تحریک کی ابتداء فرانس سے ہوئ جسکا بنیادی مقصد خواتین کو سماجی حقوق کے ساتھ ساتھ خواتین کو رائے دہی کا حق دلوانا تھا۔ نسائیت کی تحریک کے مقاصد میں عورتوں کے لیے حقِ رائے دہی، مساوات، عورتوں کی ضروریات، حق وراثت، آزادیٴ رائے، خود کفالت اور آزاد خیالی کے ساتھ ساتھ گھریلو تشدد اور آبروریزی سے تحفظ وغیرہ بھی شامل تھے۔
 آج اگر ہم اس تحریک کے نتائج کے اعداد و شمار دیکھتے ہیں تو واضع ہوتا ہے کہ مغرب میں خواتین کے ساتھ صنفی نا انصافی کا مسئلہ ابھی تک موجود ہے۔جبکہ ہمارے ہاں خوش فہمی یا غلط فہمی پائ جاتی ہےکہ مغرب میں عورتوں کو عزت اور تحفظ  کی نعمتیں حاصل  ہو گئی ہیں۔ جبکہ حقائق اسکے برعکس ہیں۔
2012 کے ایک غیر جانبدارانہ جائزہ کے مطابق یورپ میں 28 فیصد خواتین کو  دوران ملازمت محض عورت ہونے کی بنا پر جنسی حراسگی یا تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ جب کہ حالیہ سالوں کے ایک اور جائزے کے مطابق تفریق و امتیاز کا سامنا 57 فیصد خواتین کو پیش آیا ۔ جن میں سے 43 فیصد وہ ہیں جو بغیر شادی کے حاملہ ہوئیں اور اسی معاشرے میں صرف ماں بننے کی سزا میں تفریق وتعصب کا شکار ہونا پڑا۔ سرمایہ داری نظام کی زیادہ سے زیادہ افرادی قوت کو استعمال کرنے کیلئے ملازمت کے یکساں مواقع اور مخلوط تعلیم کی خوائش کے نتیجے میں صنف کی قدرتی ہیت سے صرف نظر کرتے ہوئے عورت اور مرد کی برابری کے خمار اور نئے قوانین کے ڈر سے عورتوں کو ملازمتیں دی گئیں۔ یہی کلیہ تعلیمی اداروں میں بھی رکھا گیا۔ اس مخلوط معاشرت اور مخلوط تعلیم کے نتائج یہ نکلے ہیں کہ ان کا معاشرتی نظام مکمل طور پر تباء ہو چکا ہے۔ کام والی جگہوں اور تعلیمی اداروں میں جنسی تعلق استوار ہونا عام سی بات بن گئ ہے۔ 15 سال تک کی بچیاں بغیر شادی کے حاملہ ہو رہی ہیں۔ ان کی نئ نسل کی اکثریت کو اپنی ولدیت ہی معلوم نہیں۔ اس کے برعکس جب ہم مسلمان عورت کے حقوق کو اسلام کی تعلیمات کے آئینے میں دیکھتے ہیں تو ایک خوشگوار حیرت ہوتی ہے کہ مغرب جس عورت کے نام نہاد حقوق کی جدوجہد کی انیسویں صدی میں بنیاد رکھتا ہے اسی عورت کی عزت و تکریم اور مقام و مرتبہ اسلام اس سے ٹھیک چودہ سو سال پہلے واضع کر دیتا ہے۔ مرد کو عورت کی نسبت گھرانے کی کئیں زیادہ ذمہ داریاں دے کر عورت کے ماں بہن بیٹی اور بیوی کے خوبصورت رشتوں کے حقوق و فرائض بھی طے کر دئے۔ جنت کو ماں کے قدموں میں بچھا دیا۔ بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے والے اپنی جانوں سے بھی زیادہ عزیز رکھنے لگے۔
اب اگر ہم حالیہ چند دنوں میں رونما ہونے والے واقعات کو دیکھتے ہیں تو سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ اسلام کی عورت کی عزت و تکریم کی واضع تعلیمات کے باوجود ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ جبکہ جن عورتوں کے ساتھ ناروا سلوک ہوا وہ بھی مسلمان تھیں اور جنھوں نے یہ حرکات کیں وہ بھی مسلمان تھے بلکہ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ انھوں نے بھی عورت کے بطن سے ہی جنم لیا تھا۔ مغرب میں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ عورت کے حقوق اور عزت و تکریم کے حوالے سے وہ اسلام کے بتائے ہوئےراہنما اصولوں سے بے بہرہ ہیں مگر ہمیں کیا ہو گیا ہے؟ یوں لگتا ہے کہ کئیں کوئ گڑ بڑ ضرور ہے جسکے لئے میری اس ملک کے فیصلہ سازوں اور اداروں سے درخواست ہے کہ آپ ضرور ان چار سو کو پکڑ کر ملکی آئین اور قانون کے تحت سخت سے سخت سزائیں دیں کیونکہ جن معاشروں میں سزا اور جزا کا عمل رک جائے وہ تباہ و برباد ہوجاتے ہیں لیکن یہ مسلے کا مستقل حل نہیں ہے۔ ہم نے معصوم زینب کے قاتل کو پھانسی دے کر بھی دیکھ لیا مسلہ جوں کا توں ہے۔ آپ ان چار سو میں سے صرف ایک سو مجرموں کے خاندانوں کو تختہ مشق بنائیں۔ نفسیات، معاشرت، کمیونٹی اور قانون کے شعبوں میں کام کرنے والے اذہان پر مشتمل ایک کمیٹی بنا کر ان سو خاندانوں پر ریسرچ کروائیں کہ وہ کونسے عوامل ہیں جن کی بنیاد پر ان خاندانوں کے نوجوان سر عام اخلاقی پستی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ان نتائج کی بنیاد پر ریاست ضروری اقدامات اٹھا سکتی ہے اور ان ایک سو پر کی ہوئ محنت بائیس کروڑ کیلئے راہ راست کا تعین کر سکے گی۔ اور اگر مناسب سمجھیں تو ان چند گھرانوں پہ بھی کچھ کام کر لیں کہ کیوں مسلمان گھرانوں کی نوجوان لڑکیاں یہ ٹک ٹاک اور اس جیسی دوسری بے ہودہ ایپس کا استعمال کر کے عزتیں گنوا رہی ہیں۔ ان چند سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کی کوشش ضرور کریں کہ ان کے رہن سہن اور والدین کے روزمرہ کے معمولات کیسے ہیں؟ ان کی مالی پوزیشن کیا ہے؟ اخلاقی حالت کیسی ہے؟ دین کی آفاقی تعلیمات، تحفظ اور تکریم کے باوجود اپنی نوجوان بچیوں کو کیوں سر بازار لٹنے کیلئے چھوڑ دیتے ہیں؟ ایک بار یہ محنت کر لیں پھر آپکو اپنا تعلیمی نصاب بنانے میں بھی شاید آسانی ہو جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: