بادشاہوں کے واقعات تحریر صابر حسین چانڈیو

بادشاہوں کے واقعات

آپ نے اکثر بادشاہوں کے بارے میں سن رکھا ہو گا، لیکن آج ہم آپ کو جس حکمران کے بارے میں بتائیں گے اس کی باتیں جان کر آپ شدید حیران ہوں گے اور سوچیں گے کہ کیا کوئی حکمران بھی ایسا ہو سکتا ہے۔ یہ سلطان سلطنت عثمانیہ کا حکمران ابراہیم تھا جو کہ 9 فروری 1640ء کو اپنے بھائی مراد چہارم کے بعد 25 سال کی عمر میں خلافت پر فائز ہوا۔
اس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ پیدائش کے بعد ایک ایسی جگہ قید رہا جہاں کوئی کھڑکی بھی نہیں تھی جس کی وجہ سے یہ شروع ہی سے ذہنی مریض بن چکا تھا۔سلطنت سنبھالتے ہی اس نے ایسے کام کئے کہ اسے ایک پاگل بھی کہا جانے لگا۔ جب ابراہیم دو سال کا تھا تو اس کے والد کا انتقال ہو گیا اور اسے شاہی محل میں اس طرح رکھا گیا جیسے وہ کوئی قیدی ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اس کے ذہن پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ اس کے بھائی مراد چہارم نے اپنے بھائیوں کو بے دردی سے قتل کیا، جس کی وجہ سے ابراہیم کے سر پر موت کا خوف رہنے لگا، لیکن وہ خوش قسمت رہا اور ایسی موت سے بچ نکلنے کے بعد وہ سلطان بن گیا۔ خلافت پر بیٹھنے کے بعد بھی وہ ذہنی مسائل کا شکار رہا اور عجیب حرکتیں بھی کرتا رہا، جس میں اپنے نومولود بیٹے کو تالاب میں پھینکنا اور اپنے ایک اور بیٹے کے چہرے پر خنجروں کے وار شامل ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سلطان ابراہیم نے اپنے حرم میں موجود ایک عورت کی بے وفائی پر حرم میں موجود تمام 280 خواتین کو باسفورس میں غرق کر دیا تھا۔ جس کے بعد سلطان ابراہیم کے خلاف شیخ الاسلام نے بھی بغاوت کا اعلان کر دیا تھا اور سلطان کے خلاف ہوئے تھے جو کہ اس کی حکومت کے خاتمے پر منتنج ہوا یہ سلطان صرف 8 سال حکومت میں رہا اور 8 اگست 1648ء کو اسے سلطنت سے بے دخل کر کے قید میں ڈال دیا گیا اور صرف 10 روز بعد یعنی 18 اگست 1648ء کو اسے مار دیا گیا

صابر حسین چانڈیو

@sabirhussainin43

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: