ایک کامیاب بلاگر کیسے بنا جا سکتا ہے؟

آپ جس موضوع پر بھی بلاگ لکھنا چاہیں، نہ صرف یہ کہ آپ کو کچھ نیا اور قیمتی کانٹینٹ بنانے کا موقع ملے گا بلکہ یہ آپ کی زندگی میں نئے لوگوں کو بھی لائے گا۔بلاگنگ ایک ہائپ سے کہیں زیادہ ہے ، ذاتی ترقی اور شہرت کا ایک زبردست آلہ، اور بہت ہی اچھا طریقہ۔

بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ بلاگ پیسہ کمانے کا ایک ذریعہ ہے، کسی حد تک ، یہ ہے بھی۔ لیکن یہ اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ ایک بلاگ معلومات کا ڈھانچہ تیار کرتا ہے اور آپ کو اسے مختلف انداز میں اور وسیع آڈینس کے سامنے بیان کرنے میں مدد دیتا ہے۔

بہت سے طریقوں سے ، ایک بلاگ آپ کا ذاتی برانڈ بن سکتا ہے۔ اور اگر آپ نہیں جانتے کہ ذاتی برانڈ کیا ہے ، تو شاید یہ جاننے کا وقت آگیا ہے: ایک ذاتی برانڈ آپ کا ایک غیرمعمولی ورژن ہے ، یعنی اپنے لیے کام کرنا یہاں تک کہ جب آپ وہاں موجود بھی نہیں ہیں۔ اور ایک بلاگ آپ کی اس ورژن میں (یعنی ذاتی برانڈ میں) خود کو تبدیل کرنے میں کسی دوسرے ذرائع سے زیادہ تیزی سے مدد کر سکتا ہے۔

شاید آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی زندگی بلاگر بننے کے لیے کافی اچھی نہیں ہے۔ ٹھیک ہے ! آپ کو اس وقت تک پتہ نہیں چلے گا جب تک کہ آپ واقعی کوشش نہ کریں۔

بلاگ کیسے شروع کیا جائے؟

مختصر جواب: کمپیوٹر پر جائیں اور لکھنا شروع کریں۔

تفصیلاً جواب کچھ یوں ہے۔

لکھنا شروع کریں

جی ہاں ، یہ لازمی ہے ، آپ کے پاس بلاگ نہیں ہو سکتا جب تک آپ لکھنا شروع نہ کریں۔ اور وہ بھی بہت سارا. بلاگ کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ہفتے (اگر ہر روز نہیں) آپ کے دل و دماغ سے بہت سارے الفاظ نکلنا اور کمپیوٹر کے کی بورڈ پر ٹائپ ہونا ضروری ہیں۔ اور ساتھ اس کام میں اس میں بہت زیادہ نظم و ضبط شامل ہے اور بہت کچھ سیکھنا بھی، کیونکہ سیکھے بغیر آپ کچھ بھی نہیں لکھ سکتے۔

اچھی خبر یہ ہے کہ آپ کے اندر قدرتی طور اس کا ٹیلنٹ ہونا ضروری نہیں، حالانکہ قدرتی ٹیلنٹ کا بھی بہت بڑا عمل دخل ہے، اگر آپ کے پاس پہلے سے لکھنے کا ٹیلنٹ موجود ہے تو اچھا ہے۔ لیکن اگر آپ کے پاس ایسا ٹیلنٹ موجود نہیں تو ، مایوس نہ ہوں۔ اب بھی امید ہے۔آپ اب بھی کچھ سادہ تکنیکوں کا استعمال کرکے اپنی تحریری صلاحیتوں کو اپنی انتہائی توقعات سے بالاتر بنا سکتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر اس سے متعلق سیکھنے کے لئے بہت سارے مفت وسائل موجود ہیں۔ “رائٹنگ ٹولز” کی شکل میں سادہ “گوگل کوئیری” ایک اچھا نقطہ آغاز ہوسکتا ہے۔

لیکن تھوڑی دیر کے بعد ، جب تک آپ لکھتے رہیں گے ، کچھ دلچسپ ہوگا: آپ کو “اپنی آواز مل جائے گی”۔ اور اب آپ کو کسی ویب سائٹ یا ٹول کی مدد یا مشورے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ آپ کے دماغ میں خودبخود الفاظ بننا شروع ہو جائے گے اور الفاظ مل کر جملے اور جملے مل کر ایک مکمل تحریر کی شکل اختیار کرنے لگیں گے۔

ربط قائم کرنا یا جڑنا

جب تک آپ دوسرے لوگوں سے ربط قائم نہ کریں تب تک آپ کو رائے نہیں مل سکتی۔ اگر آپ اپنے بلاگ کو صرف ذاتی تجربات بانٹنے تک محدود رکھتے ہیں تو آپ کا بلاگ ،بلاگ کم اور عوامی جریدا زیادہ بن کررہ جائے گا۔ بلاگنگ، بنیادی جریدے سے کہیں زیادہ کمپلیکس اور مختلف ہے۔ اس تجربے کا ایک بہت اہم حصہ تعامل پر مبنی ہے ، دوسرے لوگ آپ کے بلاگ پر کیا کہہ رہے ہیں ، یا اس کے بارے میں وہ آپ کو پڑھنے کے بعد کیا کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں وہ کیسے آپ کے بلاگ کا آگے اشتراک کرتے ہیں۔ اور کنکشن یا ربط قائم کرنے سے میرا مطلب صرف کمینٹس کا جواب دینا نہیں ہے (اگر آپ کے بلاگ پر کمنٹس ہیں)۔ یہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ دوسرے بلاگز کو پڑھنے اور اسی طرح کی (یا تکمیلی) آوازیں تلاش کرنے کی کوشش کرنا ہے، یہ دوسرے بلاگز میں بطور تبصرہ نگار/کومینٹر شامل ہونا بھی ہے۔ یہ سوشل میڈیا پر ہمیشہ فعال رہنا بھی ہے۔ اور اس میں دوسرے میڈیا (جیسے ای میل ، یا لائیو ایونٹس) کے ذریعے اپنے قارئین سے رابطہ قائم کرنا بھی شامل ہے۔ بلاگ بنیادی طور پر ایک پلیٹ فارم ہے ، ایک ٹول نہیں۔ اور اس پلیٹ فارم کا ایک بہت اہم حصہ کنکشن/ربط ہے۔

تجربات

اب جب کہ آپ کے پاس پہلے دو اہم ترین نکات ہیں ، اب تجربہ کرنے کا وقت آگیا ہے۔ مجھے تجربات کرنے کی یہ آزادی بلاگنگ کا سب سے دلکش حصہ معلوم ہوتی ہے اور میں بہت شکر گزار ہوں کہ میں ایسے حیرت انگیز اوقات میں رہتا ہوں۔ صرف 20 یا 30 سال پہلے یہ تصور کرنا مشکل تھا کہ آپ محض لکھ کر کچھ لمحوں میں دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھے شخص سے مخاطب ہو سکیں گے۔

تو ، آگے بڑھیں. تجربات کے نام پر ہر قسم کی پاگل پن پر مبنی چیزیں کریں،کیونکہ ایک بہترین بلاگر بننے کے لئے تجربات کرنا بھی ایک ضروری عمل ہے۔ اپنے مضامین کی لمبائی کو تبدیل کریں ، ان دنوں یا گھنٹوں کو تبدیل کریں جن میں آپ پوسٹ کرتے ہیں ۔ متبادل موضوعات استعمال کریں(اگرچہ اس میں سے بہت زیادہ آپ کے قارئین کو بالآخر آپ سے الگ بھی کر سکتے ہیں) اور ہر بار مضوعات کو بدلیں اور تلاش کریں کہ کیسے مضوعات آپکے پڑھنے والوں کو آپکا دیوانہ کرسکتے ہیں۔

میں نے ایک بہت ہی جانے مانے انگلش بلاگر سے جب تجربات کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: “میں جانتا ہوں کہ میں ان تجربات میں اپنے قارئین کی پسند ناپسند کو سمجھنے کے لئے تقریباً آٹھ سال پہلے زیادہ بہت زیادہ گھوما ہوں،یعنی بہت زیادہ تجربات کئے ہیں۔ کبھی اپنے مضامین کی لمبائی کو کم زیادہ کرتا، کبھی اوقات کو تبدیل کرتا، کبھی ہفتے میں دو بار پوسٹ کرتا تو کبھی مہینے میں تین یا چار بار, اور کبھی موضوعات کو تبدیل کرتا، میرے پہلے 50 مضامین واقعی خراب تھے۔ میں انہیں مشکل سے ہی پڑھ سکتا ہوں یا سمجھ سکتا ہوں، لیکن میں رکا نہیں۔ اگلے 50 مضامین پہلوں کی بنسبت بہتر تھے۔ لیکن میں پھر بھی نہیں رکا۔ اگلے 100 اوسط درجے کے تھے۔ اور ، آخر کار میرے مضمون نمبر 200 کے آس پاس کہیں ، چیزیں بہتر ہونا شروع ہوئیں۔ میرے پاس چند درجن مضامین ہیں ( 750 مضامین میں سے) جو کہ واقعی میرے قریب ہیں ، اور یہ کہ میں اب بھی ان کو بڑی خوشی سے پڑھتا ہوں.”

مشاہدہ کرنا

ہر بار تھوڑی دیر میں ، اس بلاگنگ کو روکیں اور مشاہدات کریں۔ آپ کے ارد گرد ایک دنیا ہے اور یہ مسلسل بدل رہی ہے۔ اور اسے اپنی عادت بنائیں۔ مشاہدات تحریروں کی روح ہیں۔

لکھتے رہیں

اور ، یقینا ، سب سے اہم بات: رکنا نہیں۔ بس لکھتے رہیں۔اور ایک وقت آئے گا کہ آپ بطور بلاگر یا کالم نگار یا مضمون نگار کسی اچھے مقام پر ہوں گے۔

Syed Muhammad Ali

Student of Electrical Engineering,Blogger, Website Designer, Graphic Designer, Website Manager and Social Media Manager

One thought on “ایک کامیاب بلاگر کیسے بنا جا سکتا ہے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: