پیدائش سے موت تک تحریر شہاب ثاقب

پیدائش سے موت تک۔۔۔
خلقت پیدائش اور نئ زندگی کا ایسا شازو نادر موقع نئ سانس نیا ماحول نی دنیا اور نئے لوگوں سے غیر مانوس ہونا۔ہر مادی غیر مادی چیز کا پیدائشی مراحل سے گزرنا جانبدار اور غیر جانبدار سے مبّرا ہونا اور خالق حقیقی کے حکم سے پہلی حرکت اور زبان کا ہلانا غیر مادی چیز کی پہلی حرکت بھی حکم کی تعمیل میں عملاً خود کو پیش کرنا۔سمندروں سے دریاوں کا تشکیل پانا پہاڑوں سے پہاڑیوں کا تشکیل پانا دریاوں سے نہروں کا تشکیل پانا اور نہروں سے نالوں کا تشکیل پانا ثابت شدہ مادی چیز بھی غیر ارادی اور غیر فطری طور پر کام کا نا ممکنات میں شامل ہونا۔
اک سمندر اس کے اندر ہر روز کئ اقسام کی مادی اور غیر مادی اجزاء کا پیدا ہونا۔ہر اقسامِ زندگی پانی کے اندر اور پانی کی فراوانی خشکی کے اوپر اور خشکی کی فراوانی پہلی سانس سے زندہ رہنے کے تمام اجزاء کا بہترین نظام کا تشکیل پانا۔گرمیوں اور سردیوں کی علیحدہ علیحدہ نسل اور نظامِ خوراک کا تشکیل پانا بعض مقامات اور نسلوں کا موسم کی تبدیلی اور نظام کی تبدیلی خود کار تشکیل ناممکنات میں شمار کرنا۔
زندگی کا بہترین ماحول اور اس کے ارتقائ مراحل میں اپنی جدوجہد کا ایک خواب کے طور پر شمار کرنا۔حال اور ماضی میں اپنے نظام کی بہتری کیلئے چند ایّام کا صَرف کرنا معاشرے کی فلاح و بہبود کے لئے خود کو وقف کرنا۔زندگی اور تشکیل شدہ معاشرے کا اچھا یا برّا ہونا خود کو پیدائشی ایّام سے آگے لوگوں میں شمار کرنا ۔معاشرے کی فلاح و بہبود کیلئے ہر مادی اور غیر مادی چیز کا اپنا اپنا کردار ادا کرنا فرائض کی ادائیگی میں حقوق کا لحاظ کرنا۔قبل از پیدائشی ماحول اور معاشرے پر مشاہدات اور تجربات کا ہر شعبہ زندگی میں جانچنا۔
مشاہدات اور تجربات پر مبنی ایک بوسیدہ پرانی کتاب اور جدّت کے سامنے ماضی کا خود کشی کرنا نا ممکن کے اصولوں کو توڑنے کے مترادف ہونا۔پرانی کتاب میں درج عروج و زوال کی داستان پر مشتمل اوراق کا خود کشی سے پہلے زیرِزمین اپنی اصلیت کا دفن کرنا۔ماضی کے تجربات اور مشاہدات کیلئے دن و رات کی مشقت کو خوابوں کو ہمیشہ کیلئے دفن کرنا۔ ایّامِ زندگی میں خوشی غمی میں زندہ اجزاء کو برابر شریک کرنا پیدائشی جنس کی آمد سے خیالوں اور خوابوں کا عملی مظاہرہ کرنا شاندار اختتام کو دیکھنے میں اصول کے مترادف اور بقیہ زندگی میں ایک شاندار آمد کی نوید۔
وقت کا اپنی تیز رفتار میں مادی و غیر مادی کا شامل کرنا۔نزدیکِ اختتام بقیہ اور سابقہ زندگی کا اک خواب کے اندر پورا کرنا تعبیرِ خواب کیلئے زندگی کا مختصر ہونا تیز آندھی اور طوفان میں خود کو ہلکا سا تنکا تصور کرنا۔ہر سانس ایک بوجھ خوابوں کی تعبیر کیلئے اپنی نسل کی بہتر تربیت کو ہلکی سی روشنی کی نوید تصور کرنا۔پیدائش اور موت ان کے درمیان وقت اور سفر کے احاطہ میں خود کو مشکل اور دورانِ تقسیمِ وقت چیزوں کو شامل کرنا زندگی سے جڑے تمام افراد کو یاد کرنا تمام مادی اور غیر مادی اجزاء کو شامل کرنا۔ ان تمام اجزاء کو نزدیکِ اختتام بھولنے کی کوشش کرنا ایک اچھا لیکن مشکل ترین مرحلہ میں سے گزرنا۔
ہر چیز کا ایک انت ہوتا ہے کسی کا اچھا اور کسی کا برا ہوتا ہے لیکن انت انت ہوتا ہے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: