سید الشہداء سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ

15 پندرہ شوال یوم شہادت ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﯿﺮ ﺣﻤﺰﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ

ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﯿﺮ ﺣﻤﺰﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﺎﻡ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺣﻤﺰﮦ ﻧﺴﺐ ﻧﺎﻣﮧ ﺣﻤﺰﮦ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻤﻄﻠﺐ ﺑﻦ ﮨﺎﺷﻢ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﻣﻨﺎﻑ ﺑﻦ ﻗﺼﯽ ﺍﻟﻘﺮ ﺷﯽ ﺍﻟﮩﺎﺷﻤﯽ۔

اﺳﻼﻡ کے ﺗﺤﻔﻆ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﻮﺭ ﺭﺣﻤﺖ ﻋﺎﻟﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺩﻓﺎﻉ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮨﺮ ﺟﮕﮧ ﭘﯿﺶ ﭘﯿﺶ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﻓﻄﺮﯼ ﺷﺠﺎﻋﺖ ﻭﺟﻮﺍﻧﻤﺮﺩﯼ ﺳﮯ ﺩﺷﻤﻨﺎﻥ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﻮ ﮔﺎﺟﺮ ﻣﻮﻟﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﺎﭦ ﮐﺮ ﺟﮩﻨﻢ ﺭﺳﯿﺪ ﮐﯿﺎ ،ﺩﺷﻤﻨﺎﻥ ﺍﺳﻼﻡ ﭘﺮ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺍﯾﺴﺎ ﺭﻋﺐ ﻃﺎﺭﯼ ﺭﮨﺘﺎ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮯ ﮐﯽ ﺟﺮﺃﺕ ﻧﮧ ﮐﺮﺗﺎ۔ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺁﺗﺎ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻥ ﺳﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺩﮬﻮﻧﺎ ﭘﮍﺗﺎ،ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺟﺐ ﺍﺳﻼﻡ ﻭﮐﻔﺮ ﮐﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﺟﻨﮓ “ ﺑﺪﺭ ” ﮐﮯ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻟﮍﯼ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺳﺎﺭﮮ ﮐﺎﻓﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺟﮩﻨﻢ ﺭﺳﯿﺪ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﻗﺘﻞ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺟﻨﮓ ﺑﺪﺭ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﻨﮓ ﺍﺣﺪ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮯ ﻣﺜﺎﻝ ﺷﺠﺎﻋﺖ ﮐﺎ ﻣﻈﺎﮨﺮﮦ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﺷﻤﻨﺎﻥ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺁﺧﺮﯼ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺗﮏ ﭘﮩﻮﻧﭽﺎﯾﺎ،ﺁﭖ ﮐﯽ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﮐﯽ ﺗﯿﺰﯼ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﺴﯽ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮯ ﮐﯽ ﺟﺮﺃﺕ ﻧﮧ ﺭﮨﯽ ﺗﻮ ﮨﻨﺪ ﺑﻨﺖ ﻋﺘﺒﮧ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺟﻨﮓ ﺑﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﮌﺍﯾﺎ ﺗﮭﺎ ،ﺍﭘﻨﮯ ﻏﻼﻡ ﻭﺣﺸﯽ ﺳﮯ ﯾﮧ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺣﻤﺰﮦ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﺩﻭ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮﺩﻭﮞ ﮔﯽ۔ ﻭﺣﺸﯽ ﺑﮍﺍ ﻣﺎﮨﺮ ﻧﺸﺎﻧﮧ ﺑﺎﺯ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺟﮕﮧ ﺯﮨﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﺠﮭﺎﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﻧﯿﺰﮦ ﻟﺌﮯ ﭼﮭﭗ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ ،ﺍﻭﺭ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺗﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺎ ﺟﺐ ﺣﻀﺮﺕ ﺣﻤﺰﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺳﮯ ﮔﺬﺭ ﮮ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺁﭖ ﭘﺮ ﻧﯿﺰﮦ ﺳﮯ ﻭﺍﺭ ﮐﯿﺎ ﺟﻮ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻧﺎﻑ ﭘﺮ ﻟﮕﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﺸﺖ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﮔﯿﺎ ﺁﭖ ﻓﺮﺵ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺁﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻡ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﻧﻮﺵ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ،

سَر زمینِ عرب پر غزوۂ اُحد کو رُونما ہوئے 46 سال کا عرصہ گزر چکا تھا کہ حضرتِ سیّدنا امیر معاویہ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کے دورِ حکومت میں میدانِ اُحُد کے درمیان سے ایک نہر کی کھدائی کے دوران شہدائے اُحد کی بعض قبریں کھل گئیں۔ اَہلِ مدینہ اور دوسرے لوگوں نے دیکھا کہ شہدائے کرام کے کفن سلامت اور بدن تَرو تازہ ہیں اور انہوں نے اپنے ہاتھ زخموں پر رکھے ہوئے ہیں۔ جب زخم سے ہاتھ اٹھایا جاتا تو تازہ خون نکل کر بہنے لگتا۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ پُرسُکون نیند سورہے ہیں۔(سبل الہدی، ج4،ص252۔کتاب المغازی للواقدی،ج1،ص267۔ دلائل النبوۃ للبیہقی،ج3،ص291) اس دوران اتفاق سے ایک شہید کے پاؤں میں بیلچہ لگ گیا جس کی وجہ سے زخم سےتازہ خون بہہ نکلا۔ یہ شہید کوئی اور نہیں رسولُ اللّٰہ صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم کے معزز چچا اور رضاعی بھائی خیرُ الشُّہَداء، سیّد الشُّہَداء حضرتِ سیّدنا امیر حمزہ بن عبدالمطلب رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ تھے۔

قبولِ اسلام: ایک مرتبہ شکار سے لوٹ کر گھر پہنچے تو اطلاع ملی کہ ابوجہل نے آپ کے بھتیجے محمد (صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم) کے ساتھ ناروا اور گستاخانہ سلوک کیا ہے۔ یہ سنتے ہی جوشِ غضب میں آپے سے باہر ہوگئے پھر کمان ہاتھ میں پکڑے حرم ِکعبہ میں جاپہنچے اورابو جہل کے سر پر اس زور سے ضرب لگائی کہ اس کا سر پھٹ گیا اور خون نکلنے لگا، پھر فرمایا: میرا دین وہی ہے جو میرے بھتیجے کا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللّٰہ کے رسول ہیں،اگر تم سچے ہو تو مجھے مسلمان ہونے سے روک کر دکھاؤ۔

گھر لوٹے تو شیطان نے وسوسہ ڈالا کہ تمہارا شمار قریش کے سرداروں میں ہوتا ہے کیا تم اپنا دین بدل دوگے؟ آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کی پوری رات بے چینی اور اضطراب میں گزری، صبح ہوتے ہی بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اوراس پریشانی کا حل چاہا تو رحمت ِعالم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم نے آپ کی طرف توجہ فرمائی اور اسلام کی حقانیت اور صداقت ارشاد فرمائی، کچھ ہی دیر بعد آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کے دل کی دنیا جگمگ جگمگ کرنے لگی اور زبان پر یہ کلمات جاری ہوگئے: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ سچے ہیں

گھر لوٹے تو شیطان نے وسوسہ ڈالا کہ تمہارا شمار قریش کے سرداروں میں ہوتا ہے کیا تم اپنا دین بدل دوگے؟ آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کی پوری رات بے چینی اور اضطراب میں گزری، صبح ہوتے ہی بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اوراس پریشانی کا حل چاہا تو رحمت ِعالم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم نے آپ کی طرف توجہ فرمائی اور اسلام کی حقانیت اور صداقت ارشاد فرمائی، کچھ ہی دیر بعد آپ رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ کے دل کی دنیا جگمگ جگمگ کرنے لگی اور زبان پر یہ کلمات جاری ہوگئے: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ سچے ہیں

آپ نے سنا کہ ابو جہل نبی مکرمؐ کی توہین کہہ رہا ہے تو انہوں نے حرم مکہ میں اس کے سر پر اس زور سے کمان مار ی کہ اس کا سر پھٹ گیا ، اور حضرت حمزہ نے نبی مکرمؐ سے گزارش کی بھتیجے اپنے دین کا کھل کرپر چار کیجئے! اللہ تعالیٰ کی قسم ! مجھے دنیا بھر کی دولت بھی دی جائے تو میں اپنی قوم کے دین پر رہناپسند نہیں کروں گا ، ان کے اسلام لانے سے رسول اللہ ؐ کو تقویت حاصل ہوئی اور مشرکین آپ کی ایذار سانی سے کسی حدتک رک گئے بعد ازاں ہجرت کرکے مدینہ منور ہ چلے گئے

تحریر فاطمہ بلوچ ‎@ZalmayX

Fatima Baloch

فری لانس رائٹر اور بلاگر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: