غربت اور دنیا تحریر اسد ولی انصاری

غربت اور دنیا ایک ایسی بیماری جس نے دنیا کی تقریبا 90% آبادی کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے اس منحوس مرض کو غربت کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اسے ہمارے معاشرے کی اکثریت کسی نہ کسی بنیاد پر آزمائش سمجھتی ہے۔ اس کے برعکس مغربی یورپ، چین اور دنیا کے چند اور ممالک میں غربت کو ایک چیلنج سمجھا گیا ۔ اسے قدرت کی طرف سے آزمائش کے بجائے وہاں ریاستیں غربت کی خاتمے کے لئے بڑی حد تک جد و جہد کرنے میں کامیاب ہو گیئں ۔عالمی بینک کے مطابق ہر وہ شخص انتہائی غریب تصور کیا جاتا ہے جس کی روزانہ آمدنی اوسطاً 700 روپے سے کم ہوتی ہے۔ اس پیمانے کے مطابق اس وقت دنیا میں مجموعی طور پر تقریبا 3 ارب لوگوں کی آمدن اس شرح سے کم ہے۔ اقوام متحدہ کے حالیہ سروے کے مطابق دنیا کے 80 کروڑ لوگوں کو بمشکل ایک وقت کا کھانا ملتا ہے جبکہ پاکستان کی تقریبا پننتالیس فیصد آبادی ابھی بھی خط غربت سے نیچے گزارہ کرنے پر مجبور ہے۔ لیکن ریاستی اشرافیہ بڑی حد تک مذہبی بیانیے کو سہارا بنائے ہوئے ہیں ۔ وہ اپنی سیاسی و معاشی روزافزوں ترقی کے دعوے کرتی ہے اور ایک غالب اکثریت کو محض امید فردا کے سہارے چھوڑا ہؤا ہے ۔ بدقسمتی سے اس “کار خیر” میں “ریاستی اشرافیہ” کے کندھے سے کندھا ملانے والی قوتوں میں “مذہبی اشرافیہ” کا بھی کلیدی کردار رہا ہے۔چونکہ پاکستان کلمہ طیبہ کے نام پر ووجود میں آیا ہوا ایک اسلامی ملک ہے جبکہ یہاں جمہوری نظام ہے جمہوری حکومت ہے ۔ایسے میں کسی بھی سسٹم کو بہتر بنانے کیلئے سیاسی اور مذہبی اشرافیہ کو آپس میں مل بیٹھ جانا ہوتا ہے اور ایک دوسرے کے تصوورات اور خواہشات کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا جاتا ہے ۔ بظاھر وه فیصلہ یا وه اقدام ملک و قوم کو اچھا اور مفید نظر آنے لگتا ہے جبکہ اس فیصلے کی پشت پر قوم و ملک کے مستقبل کی بڑی تباہی اور رسوائی چھپی ہوئی ہوتی ہے ۔ اب یہ کہنا ہر گز غلط نہیں ہو گا کہ کسی بھی ملک کی ترقی اور غربت کا خاتمہ ایک جامع نظام معیشت پر منحصر ہے تاکہ اس نظام کے تحت ملک کو غربت سے نکالا جا سکے ۔پاکستان میں کبھی سوشلسٹ انقلاب کو معاشی ترقی کی کنجی قرار دیا جاتا ہے تو کبھی اسلامی نظام معیشت کو۔ کبھی اسلام اور سوشلزم کے امتزاج پر مباحث و مذاکرے تو کبھی سرمایہ دارانہ نظام ہی حرف آخر قرار پاتا ہے۔ ایسے میں چند مخصوص ٹولے یعنی جنکو ہم عام زبان میں اشرافیہ کہتے ہیں چاہے وه سیاسی ہیں یا مذہبی ، سرمایہ دار ہیں یا پھر جاگیردار ، اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جاتے ہیں جبکہ ایک نارمل زندگی گزارنے والے افراد نہ چاہتے ہوئے بھی غربت کی لکیر سے نیچے چلے جاتے ہیں حالانکہ نظام معیشت خواہ کوئی بھی ہو ریاست کی ذمہ داری یہ ہے کہ اس کی ترجیحات میں سہرفہرست عوام کی فلاح و بہبُود ہو۔ عوام کو یکساں ترقی کے مواقع فراہم کئے جائیں۔ اجارہ داری کو ختم کیا جائے، معاشی انصاف ہو، ٹیکس کے حوالے سے اصلاحات کی جائیں ۔ معیشت شفافیت پر مبنی ہو۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ملک میں سیاسی استحکام ہو۔ اسطرح کسی بھی زرعی ملک میں کسان کو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے جبکہ وطن عزیز پاکستان میں ایک کسان خاص کر چھوٹے درجے کے کسانوں کو کچھ بھی نہیں سمجھا جاتا ۔اس غفلت اور لاپرواہی کا ذمہ دار تو حاکم الوقت ہوتا ہے لیکن اسکا خمیازہ عوام کو بھکتنا پڑتا ہے پس یہی وه معاملات اور وجوہات ہیں جن کی وجہ سے غربت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔تحریر اسد ولی انصاری https://twitter.com/Rustamaay?s=09

Jabbli Views
فالو کریں

Jabbli Views

جبلی ویوز ایک میگزین ویب سائٹ ہے، یہ ایک ایسا ادارہ ہے جس کا مضمون نگاری اور کالم نگاری کو فروغ دینا اور اس شعبے سے منسلک ہونے والے نئے چہروں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے،تاکہ وہ اپنے ہنر کو نکھار سکیں اور اپنے خیالات دوسروں تک پہنچا سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: