افغان سفیر کے بیٹی کی اصلی کہانی

افغانی سفیر کی بیٹی کی گھمن گھیریاں ۔

” میرے بھائی کی سالگرہ تھی جس کی شاپنگ کے لیے میں ڈپلومیٹک انکلیو سے باہر نکلی اور ٹیکسی لی اور ٹیکسی لیکر بلیو ایریا مارکیٹ پہنچی جہاں میں نے مارکیٹ سے شاپنگ کی اور اس کے بعد شاپنگ مال سے باہر آکر میں نے دوبارہ گھر جانے کے لیے ٹیکسی لی میں ٹیکسی میں بیٹھ کر گھر جانے لگی تو 2 افراد میری ٹیکسی میں گھسے انہوں نے مجھ پر تشدد کیا جس کے بعد میں بے ہوش ہوگئی اور پھر جب میری جب آنکھ کھلی تو میں نے خود کو ایک جنگل میں پایا  وہاں راہ گیر سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ یہ ایف سیون ہے تو میں ٹیکسی لیکر ایف نایئن پہنچی اور وہاں جاکر سفارت خانے کے ایک ملازم حکمت کو فون کیا۔جس نے مجھے گھر پہنچایا۔۔اغواکاروں نے مجھ سے میرا موبائل چھین لیا۔”

یہ وہ ابتدائی بیان تھا جو افغان سفیر کی بیٹی سلسلہ علی خیل نے پولیس کو ریکارڈ کروایا۔ 

پولیس اور سیکورٹی ایجنسیز نے اس پر تحقیقات کا آغاز کیا۔ سیف سٹی کیمراز کی ویڈیوز کھنگالی گئی شاپنگ مالز کے کیمرے چیک کیے گیئے اور مختلف سڑکوں کی فوٹیجز نکالی گئی تو سیکورٹی ایجنسیز کو دال میں بہت کچھ کالا لگا۔۔اور یوں ایک چھوٹا سا سرا ملنے سے سارا کیس خود ہی حل ہوتا چلا گیا ابھی بھی اس کیس میں ایک لنک مسنگ رہ گیا وہ بھی امید ہے کہ جلد ہی حل کرلیا جائے گا۔

سیکورٹی ایجنسیز کے مطابق واقعہ ویسے پیش نہیں آیا جیسے افغان سفیر کی بیٹی سلسلہ علی خیل نے رپورٹ کیا۔۔واقعہ کچھ ایسے پیش آیا۔۔ یہ لڑکی ڈپلومیٹک انکلیو سے پیدل نکلتی ہے اور مارکیٹ تک پیدل ہی پہنچتی ہے۔۔سیف سٹی کیمرے کی فوٹیج سے ثبوت موجود ہیں۔

اس کے بعد یہ بلیو ایریا کی مارکیٹ میں نہیں جاتی بلکہ وہاں سے ایک ٹیکسی لیتی ہے اور ٹیکسی لیکر کھڈا مارکیٹ جاتی ہے۔ اس ٹیکسی ڈرایئور کو بھی سیکورٹی ایجنسیز نے سیف سٹی کیمرے کی مدد سے گرفتار کرلیا۔۔کھڈا مارکیٹ اتر کر یہ لڑکی پھر ایک ٹیکسی روکتی ہے اور اس میں بیٹھ کر اب یہ راولپنڈی جاتی ہے۔۔

اس ٹیکسی ڈرایئو کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔۔اس کے بعد افغان سفیر کی بیٹی راولپنڈی سے ہوتی ہوئی ایک اور ٹیکسی کی مدد سے  دامن کوہ پہنچ جاتی ہے۔۔اور دامن کوہ میں یہ کسی سے ملتی ہے۔ اور دامن کوہ سے یہ پھر اسلام آباد اس جنگل میں پہنچ جاتی ہے جہاں سے یہ کسی راہ گیر سے پوچھتی ہے کہ یہ کونسا علاقہ ہے۔اور پھر آگے ایف نایئن میں پہنچ کر حکمت کو فون کرتی ہے۔۔۔

اب اس سارے پراسس میں سیکورٹی ایجنسیز تقریبا ہر چیز اور ہر بندے کو گرفتار کرچکے ہیں سوائے اس چیز کے کہ یہ لڑکی دامن کوہ کیا کرنے گئی؟ اس پر ابھی تک تحقیقات جاری ہیں اور لڑکی اپنے موبائل فون جس کے بارے میں اس نے کہا تھا کہ اس کا فون چھین لیا گیا وہ بھی لڑکی کے پاس سے ہی برآمد ہوا ہے جس کا سارا ڈیٹا، فون نمبرز، کال ہسٹری ہر چیز ڈیلیٹ کرکے سیکورٹی ایجنسیز کو دیا گیا جس کو فارنزک کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔۔

موبائل فون کا سیکورٹی ایجنسیز کو اس طرح پتہ چلا کہ یہ لڑکی کے پاس ہے کہ لڑکی جب واپس آرہی تھی تو موبائل لڑکی کے ہاتھ میں تھا جس کو سی سی ٹی وی فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا گیا سیکورٹی ایجنسیز نے موبائل فون جب مانگا تو لڑکی نے انکار کیا اس کے بعد سیکورٹی ایجنسز نے لڑکی کو موبائل استعمال کرتے ہوئے کی فوٹیج دکھائی تو لڑکی نے موبائل دیا جس کا سارا ڈیٹا ڈیلیٹ کردیا گیا 

ساجد عثمانی کی رپورٹ

@Sajidusmani01

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: