ویکسین کے بعد اب ویکسین بوسٹر؟؟؟ غریب ممالک پریشان

‎اور اب ویکسین بوسٹرز!‎اللہ تعالی رحم فرمائے ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں

!‎تصویر بہت بھیانک ہوتی جارہی ہے!‎*ویکسین کو محفوظ اور

طویل عرصے تک کارآمد بنانے کے لئے بوسٹر شاٹ لگوانا ہوگا۔‎امریکہ میں فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن ( FDA) نے بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے مراکز کے لئے نئے منصوبے کے تحت ویکسین بوسٹرز لگانے کے فیصلے کی توثیق کردی ہے۔‎

18

اگست کو جو بائیڈن کے وائٹ ہاؤس کے اعلان نے متعدد

سوالات اٹھادئے ہیں کہ ویکسین شدہ امریکیوں کو کس طرح فوری طور پر بوسٹرز کی ضرورت ‎ہے ، اور اس کا اطلاق کیسے ہوگا اور بہت کچھ۔:

(COVID-19 )

‎صحت کے عہدیدار اس ستمبر میں ریاستہائے متحدہ امریکہ میں بوسٹر ‎شاٹس لگانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ 18 اگست کو اعلان کردہ ایک منصوبے کےمطابق ، تمام امریکی بالغ جنہوں نے دو خوراکوں کی ویکسین حاصل کی ہے وہ فائزر یا موڈرنہ ویکسین کے اضافی شاٹ یعنی بوسٹر کے اہل ہوں گے‎”یہ بوسٹر شاٹس مفت ہیں ،” صدر بائیڈن نے بدھ کی سہ پہر ریمارکس میں کہا کہ امریکہ میں لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ جب ان کی باری آئے تو بوسٹر شاٹس لیں۔ صرف اپنا ویکسینیشن کارڈ دکھائیں ، ایک بوسٹر حاصل کریں۔ … یہ آپ کی ویکسینیشن کو محفوظ اور طویل عرصے تک کارآمد بنائے گا۔ اس سے ہمیں اس کورونا کی وبا کو ختم کرنے میں مدد ملے گی‎کیا ہونے جارہا ہے؟‎مجھے ایسا لگتا ہے کہ اب دنیا کبھی بھی 2020 سے پہلے والی نہیں ہوگی؟ عجیب و غریب تبدیلیوں کے لئے تیار رہئے۔ کاروبار، تعلیم، صحت، سماجی تعلقات ، لین دین، معاشیات۔ بینکنگ، پیسہ ، رشتے و تعلقات، مذہبی پریکٹس، سب کچھ بدلنے جارہا ہے۔ مغربی ماٹیکنالوجی اور کمپیوٹرز و سائبر ٹیکنالوجی میں ہم سے بہت آگے ہیں۔ وہ پہلے ہی آنلائن ایجوکیشن پر آچکے ہیں کیونکہ ان کے یہاں اعلی تعلیم یافتہ ٹرینڈ اسٹاف، گیجٹس، تیز رفتار ترین 5G انٹر نیٹ تک ہر ایک کی رسائ، ڈجیٹل سلیبس، ہر طرح کی کتب کی سوفٹ کاپیز اور ان سب سے مانوس طلبا موجود ہیں۔بلکہ اب تو 6G آنے والا ہے۔ ‎امریکن اسکول آج سے دس سال پہلے:‎میں آج سے دس سال پہلے کراچی کے امریکن اسکول میں ان کے طلبا کو یہ سب استعمال کرتے دیکھ چکا ہوں۔ کلاس 1 سے لے کر ھائ اسکول تک ہر بچے کے پاس ٹیبلیٹ یا لیپی ہوتا تھا۔ ہر کلاس کے سلیبس کی تمام بکس کے سوفٹ کاپی یا PDF ان گیجٹس میں اپلوڈ کردئے جاتے تھے۔ اکثر بچے صرف ایک نوٹ بک پین اور اپنے ٹیبلیٹ کے ساتھ اسکول جاتے تھے کیونکہ ہر کتاب ٹیبلیٹ میں موجود ہوتی تھی۔

ہوم ورک بھی بذریعہ ای میل مل جایا کرتا تھا۔ اسکول کی ویب سائٹ پر ہر کلاس کا چیٹ گروپ تھا جہاں وہ آپس میں کمیونیکیٹ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اساتذہ سے بھی رابطے میں رہتے تھے۔اکثر ہوم ورک بھی ٹیبلیٹ یا لیپی کے ذریعے ٹیچرز کو چیک کرنے کے لئے بھیج دیا جاتا تھا۔ یہ میں آپ کو آج سے دس سال پہلے کی بات بتارہا ہوں جب غالبا” آئ پیڈ اور میک بک کا سیکنڈ ورژن آیا تھا اور وہ آتے ہی اسکول میں چھا گیا تھا۔ اس کے بعد صرف دو تین برس میں کراچی امریکن اسکول میں ان کے بغیر تعلیم کا تصور ناممکن ہوگیا تھا۔ تو ان کو اس وبا سے کوئ فرق نہیں پڑتا۔ ان کی تعلیم جاری ہے۔ اور یہ سب میں آپ کو امریکہ کی کسی ریاست کی مثال نہیں دے رہا بلکہ کراچی کے امیر خسرو روڈ پر واقع کراچی امریکن اسکول کا حال بتا رہا ہوں جہاں کراچی کی کریم آف کریم اور سفارتکاروں کے بچے پڑھتے ہیں۔ اسٹاف مکمل طور پر امریکن اساتذہ پر مشتمل ہے۔‎ہم کیا کررہے ہیں؟‎دوسرے طرف ہم جیسے تیسری دنیا کے ممالک جہاں ہر گھر میں انٹر نیٹ تک رسائ ہی نہیں ہے۔ نہ گھر میں آپ ہر بچے کو لیپ ٹاپ یا ٹیبلیٹ دینا افورڈ کرسکتے ہیں اور ان سب کے لئے طاقتور انٹر نیٹ کنکشن حاصل کرنا بھی ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ گزشتہ دو برسوں میں ہمارے بچوں اور نوجوانوں کی تعلیم کا جو بیڑہ غرق ہوا ہے اس کی نوعیت کا شاید نہ ہم کو اور نہ ہمارے حکمرانوں کو کوئ احساس ہے۔ ہمارے یہاں تو اب تک یہی فیصلہ نہیں ہوپارہا کہ بچوں کو ابتدائ تعلیم ا ب پ کس زبان میں پڑھائ جائے؟ اردو پنجابی سندھی انگریزی کا فضیحتہ پڑا ہوا ہے۔ معاف کیجئے گا آپ بہت لیٹ ہوچکے ہیں۔ اب جو بھی کیجئے خرگوش فنش لائن کراس کرکے بھی بہت آگے نکل چکا ہے اور آپ اس کہانی کے کچھوے ہیں جو سورہا ہے۔ ہمارے جو نوجوان کسی نہ کسی طرح اعلی تعلیم حاصل کر کے یورپ امریکہ کینیڈا وغیرہ چلے جایا کرتے تھے اور وہاں مزید اعلی تعلیم اور ملازمتیں حاصل کرتے تھے اب کس بنیاد پر وہاں جاسکیں گے؟ یورپ امریکہ کے دروازے ہم پر عملا” بند ہوچکے ہیں۔ مستقبل میں تو شاید وہ آپ کو گٹر صاف کرنے یا ویٹرز کی جاب تک کے لئے قبول کرنا پسند نہ کریں۔‎ہمارے معاشرے کی موجودہ تصویر!‎ہمارے بچوں اور نوجوانوں کے پاس اب صرف وقت ہے اور بیروزگاری ۔ اور اس وقت کو گزارنے کے لئے اب ان کے پاس اگر کچھ ہے تو وہ سیل فون ۔ ٹک ٹاک اور اس جیسے دوسرے ایپس بچوں اور نوجوانوں کو پیسے کا لالچ دے رہے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہمارے بے روزگار نوجوان انتہائ تیزی سے اس کی جانب راغب ہورہے ہیں۔ پیسہ کمانے کے لئے وہ کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں کیونکہ معاشرے میں مادیت پرستی اور احساس محرومی اپنے عروج پر ہے۔ اخلاقیات، معاشرتی و معاشی نظام اور مذہبی تعلیمات کی دھجیاں اُڑ رہی ہیں جس کی ایک مثال آپ پچھلے دنوں لاہور میں ہونے والے ایک واقعے میں دیکھ چکے ہیں۔ فحاشی و بے راہ روی انتہائ سرعت سے ہماری سوسائٹی میں سرائیت کررہی ہے۔ یہ سب گھریلو نظام اور رشتوں میں بھی بگاڑ پیدا کررہا ہے۔ ٹک ٹاک یا لائکی وغیرہ تو مشہور ایپس ہیں۔ ایسے سینکڑوں ایپس ہیں جن پر نوجوان لڑکیاں اور خواتین خاموشی سے خود کو رجسٹرڈ کروا کے اپنے گھروں میں بیٹھی دنیا بھر کے تماشبینوں کو محظوظ کررہی ہیں اور پیسہ بنا رہی ہیں کیونکہ اس کرونا کی وبا نے لاکھوں خواتین کو بھی بےروزگار کردیا ہے جن کا کوئ سہارا نہیں۔ پیسے کے لین دین کے لئے جیز کیش اور ایزی پیسہ جیسی سہولت دستیاب ہے۔ پیسے وصول کرنے کے لئے کسی بینک اکاؤنٹ یا باہر نکلنے کی ضرورت نہیں۔ یہ سب کچھ اب اتنا آسان ہوچکا ہے کہ گھر کے افراد کی موجودگی میں بھی آپ ایک بند کمرے میں کسی کو خبر ہوئے بغیر یہ سب کرسکتے ہیں۔ ہر طرح کی عورت صرف ایک فون کال پر دستیاب ہے۔ جگہ کی دستیابی کے لئے گلی گلی گیسٹ ھاؤس کھل چکے ہیں۔ ‎تصویر بہت بھیانک ہے۔‎مغرب اور امریکہ اس سب سے نبٹنے کی پریکٹس گزشتہ دس سال سے کررہا تھا یا یہ کہئے کہ وہ بہت پہلے سائبر ٹیکنالوجی پر اپنا نظام تعلیم منتقل کرچکے تھے۔ ہماری نسل تباہی کے دھانے پر کھڑی ہے۔ اور اب جو ہونے جارہا ہے اس کی تصویر دھیرے دھیرے واضح ہوتی جارہی ہے۔ مزید سوچنے کی ہمت نہیں۔

ہم سے زیادہ نالائق اور عاقبت نا اندیش ہمارے حکمران ہیں جن کو اس نازک ترین دور میں بھی آپس کی لڑائیوں اور ایک دوسرے پر الزامات لگانے سے فرصت نہیں ہے۔ میں اس وقت خود کو انتہائ بے بس اور لاچار محسوس کرتا ہوں کیونکہ اب نئ دنیا کا منظر آھستہ آھستہ واضح ہونے لگا ہے۔‎اب اگر کوئ سہارا اور حالات کو بدلنے والی طاقت ہے تو وہ اللہ کی ذات ہے۔ لیکن ہم اللہ سے بہت دور جارہے ہیں۔ یہی کھیل ہے۔ کھلاڑی کھیل رہے ہیں اور اس کھیل میں ہماری حیثیت بال جیسی ہے۔ساجد عثمانی ‏@sajidusmani01

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: