زندہ پہاڑ

زندہ پہاڑ۔۔
شخصیت، خود اعتمادی نظم و ضبط اور پر سکون ماحول ،خوشبو دار ہوا اور وقتِ نظم و نسق اور عوام کا مستقبل کا ایک ساتھ ساتھ جڑا ہونا۔ ایک نسل کا بہتری کی جانب گامزن ہونا ایک بہترین داستان میں لکھےگئے تمام اوراق میں تحریر شدہ ہے۔
ایک داستان ایک انسان گرد آلود ماحول اِس کے سوا کسی اور کا نہ نام و نشان سامنے ایک مشکل اور ایک چٹان۔ چھوٹی عمر کا انسان آگے منزل پیچھے چٹان راستہ گمنام زندہ رہنا ایک امتحان اور آگے چٹان ہی چٹان۔ویران میدان اور سنسان جنگلات میں جنگلی حیاتیات کا صرف باقی نشان۔سبزہ و خوراک و حیوان ناپید خشک درخت اور جڑی بوٹیاں۔نام و نشان باقی ایک زندگی باقی وقت باقی ہوا باقی فزا باقی امید باقی۔ امید باقی تو جہاں باقی۔
چھوٹی عمر کا انسان جھونپڑی سے باہر نکلتا ہے بہت مایوس ہوتا ہے نا امید ہوتا ہے۔کتابوں کے اوراق کو ڈھونڈتا ہے ناپید پاتا ہے۔اوزار تلاش کرتا ہے پانی و وسیلہ خوراک تلاش کرتا ہے۔خوراک اور باقی زندگی کو گزارنے کیلئے پہاڑی سلسلوں کا سفر شروع کرتا ہے دُکھ سنانا چاہتا ہے بہت رونا چاہتا ہے گِلہ کرنا چاہتا ہے ہر جنس کو ناپید پاتا ہے پھر چپ ہوجاتا ہے دن ختم ہوتا ہے رات شروع ہوتی ہے۔سورج طلوع ہوتا ہےابدی نیند سے بیدار ہوتا ہے۔بنجر زمین خاموش آسمان پُر امید ہو کر چلتا ہوا مفلس انسان پانی و خوراک کی تلاش میں ہر درخت اور جگہ آزمایا ہوا ہر حربہ ناکام۔سفر کافی لمبا ہوتا ہے بہت تھکا ہوا ہوتا ہے آرام و سکون کرنا چاہتا ہے تھوڑاوقت اور جینا چاہتا ہے۔نیند سے بیدار ہوتا ہے سورج ڈھل چکا ہوتا ہے دن میں گزرا ہوا تمام وقت سبزہ،خوشبو،سیر گاہ،ہر زندہ چیز کی تلاش میں گزرا ہوا تمام وقت یاد کرتا ہے۔
اگلی صبح بیدار ہوتا ہے آخری صبح شمار کرتا ہے حسرت میں اور پُرمسرت ہو کر ارد گرد نظر دوڑتا ہے خوشبو دار ہوا چل رہی ہوتی ہے زندہ رہنے کی امید باقی رہتی ہے۔ پھر سے لمبے سفر اور نئ زندگی کی تلاش کیلئے پہاڑوں کی خاک چھاننا شروع کرتا ہے۔ایک خشک پہاڑی سلسلوں میں سے ایک سر سبز پہاڑ دکھائی دیتا ہے وہ دوڑا ہوا اُس کے پاس چلتا ہے وہاں وہ سب کچھ پاتا ہے جو پہلے سوچ رکھا ہوتا ہے وہ سُریلی آواز سننا چاہتا ہے زندگی میں لطف اندوز ہونا چاہتا ہے۔
پہاڑ پہ کھڑا ہو کر ارد گرد نظر دوڑاتا ہے ہر جگہ خشک سالی کو پاتا ہے یہی پہاڑ سب کی امید ہوتا ہے۔پہاڑ کے اندر موجود غار میں داخل ہوتا ہے ایک شہر پاتا ہے۔ہر ہم جنس کو پاتا ہے ایک خوشحال دنیا میں ہوتا ہے۔ویسی دنیا باہر بنانا چاہتا ہے ہر جنس کو باہر نکالنا شروع کرتا ہے۔سب مل کر دور ایک چشمہ تلاش کرتے ہیں کیونکہ سب زندہ رہنا چاہتے ہیں۔ہریالی پھیلنا شروع ہوتی ہے زندگی واپس لوٹنا شروع ہوتی ہے۔
اب عمر کا تقاضا ہے اختتام کا اندازہ ہے نئ دنیا نئے لوگ نئ خوشبو نئے پھول نیا سبزہ نئ ہریالی نئے پھولوں اور خوشبوں سے آراستہ سابقہ ویراں میدان موجود سب سے زیادہ سر سبز اور خوشبو دار میں پڑا ایک خوشحال انسان اختتام کے انتظار میں گزارے کئ دن ایک رات خواب میں زندہ پہاڑ دیکھتا ہے جو اسے اپنے پاس بلا رہا ہوتا ہے ہاتھ ہلا رہا ہوتا ہے سریلی آواز سنا رہا ہوتا ہے۔آواز ختم ہونے لگتی ہے دہشت پھیلنے لگتی ہے خوف و ہراس پھیلنے لگتا ہے۔آبادی پھیلنے لگتی ہے خوشبو پھیلنے لگتی ہے نسل آگے بڑھنے شروع ہوتی ہے اوراق کی گردانی شروع ہوتی ہے سر سبز پہاڑ ویران دکھائی دیتا ہے سب کچھ آگے پھیلا دیا ہوتا ہے۔نیند سے بیدار ہوتا ہے اچھا اختتام نزدیک ہوتا ہے۔
نئ دنیا کے نئے لوگ ہمیشہ خوش رہیں آباد رہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: