معراج النبیؐ

‏معراج النبی ﷺ
620ء میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم معراج پر تشریف لے گئے۔ اس سفر کے دوران میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ سے مسجد اقصیٰ گئے اور وہاں تمام انبیائے کرام کی نماز کی امامت فرمائی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آسمانوں میں اللہ تعالٰی سے ملاقات کرنے تشریف لے گئے۔ وہاں اللہ تعالٰی نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جنت اور دوزخ دکھائی۔ وہاں آپ کی ملاقات مختلف انبیائے کرام سے بھی ہوئی۔ اسی سفر میں نماز بھی فرض ہوئی
پہلا مرحلہ مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک ہے۔ اس مرحلہ کا ذکر قرآن مجید کی درج بالا آیت میں صراحت کے ساتھ مذکور ہے۔ معراج کے اس مرحلہ کا انکار کرناکفر ہے، اس لیے کہ اس میں تاویل کی گنجائش نہیں ہے۔ قرآن مجید میں اس مرحلہ کو ’’اسرٰی‘‘ کہا گیا ہے۔
معراج کا دوسرا مرحلہ مسجدِ اقصیٰ سے سدرۃ المنتہیٰ تک ہے۔ مسجد اقصیٰ سے آسمانی و بالائی کائنات کی آخری منزل تک کا یہ دوسرا مرحلہ احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہے۔ اس موضوع پر احادیثِ صحیحہ اور روایات میں اس قدر کثرتِ طرق ہے کہ اس مرحلہ کا بیان معنوی طور پر حدِ تواتر کو پہنچتا ہے۔ اس مرحلۂ معراج کا انکارکرنا اعتقادی فسق اور گمراہی ہے یعنی اس مرحلہ کا انکار کرنے سے آدمی کافر نہیں ہوتا لیکن گمراہ اور فاسق ہوجاتا ہے۔ یہ دوسرامرحلہ ’’معراج‘‘ کہلاتا ہے۔
عرب دنیا معراج کے ان سارے مراحل کو مانتی ہے اور اس کا عقیدہ رکھتی ہے مگر وہاں اس کے لیے معروف، مروّج اور متداول لفظ ’’اسرٰی‘‘ ہے۔ وہ اسے ’’لیلۃ الاسرٰی‘‘ کہہ کر مناتے ہیں۔ ہمارے ہاں اور گردو نواح کے خطوں میں ’’لیلۃ المعراج‘‘ زیادہ معروف ہے۔

معراج کا تیسرا مرحلہ سدرۃ المنتہٰی سے ’’قاب قوسین او ادنی‘‘ تک کا ہے۔ روایات کے مطابق سدرۃ المنتہٰی پر سیدنا جبریل امین رُک گئے اور اس سے آگے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شریکِ سفر رہنے کی استعداد، صلاحیت اور طاقت اُن میں نہیں تھی۔ سدرۃ المنتہٰی سے شروع ہونے والے اس سفر کی آخری منزل کا کوئی تعین نہیں ہے اور نہ وہ ذہنوں میں آسکتی ہے، اس مرحلہ کو بعض کتب میں بعض عرفاء بطورِ خاص خواجہ نظام الدین اولیائؒ نے ’’اعراج‘‘ کا نام دیا ہے۔
رسول اللہ صلٰی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ کون سا عمل سب سے زیادہ فضیلت والا ہے؟ تو نبی صلٰی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’سب سے زیادہ فضیلت والا عمل اپنے وقت پر نماز پڑھنا اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنا اور جہاد کرنا ہے‘۔

سفرِ معراج کے موقع نماز جیسی عظیم دولت اور قیمتی نعمت اللہ تعالی نے عنایت فرمائی ۔یہ آسمانی تحفہ ہے جو بڑے اعزاز و اکرام کے ساتھ نبی کو عرش پر بلاکر دیا گیا اور بتا دیا کہ اگر یہ امت اس کا اہتمام کرے گی تو دنیا میں بھی اور آخرت میں کامیاب ہو گی اور اپنے خالق و مالک کی نظروں میں معزز رہے گی ۔
ستائیسویں رجب المرجب کی رات اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب خاتم الانبیا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم کو آسمانوں پرملاقات کے لئے بلایا، اپنے خصوصی انعامات سے نوازا۔

اس رات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم کو دیئے جانے والے خصوصی انعامات میں سے ایک خاص انعام امت کے لئے نماز کا تحفہ بھی ہے، جو ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنا، وہ تحفہ کہ جس کی بنا پر مسلمان اور کافر میں فرق ہوا۔
نماز کی اہمیت
اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں نماز بھی ایک اہم ترین رکن ہے ۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا
اسلام کی بنیاد پانچ ستونوں پر قائم کی گئی ہے، لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی گواہی دینا ، نماز قائم کرنا ،زکوۃ ادا کرنا ،حج کرنا اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا۔
حضرت عمرؓ سے مروی ہے کہ : نبی کریمﷺ نے فرمایا! ’نماز دین کا ستون ہے‘۔
ایک حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا ! ’میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے‘۔
ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا! ’ قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا حساب لیا جائے گا ۔اگر نماز اچھی ہوئی تو باقی اعمال بھی اچھے ہوں گے اور اگر نماز خراب ہوئی تو باقی اعمال بھی خراب ہوں گے‘۔

اختر شام کی آتی ہے فلک سے آواز
سجدہ کرتی ہے سحر جس کو، وہ ہے آج کی رات

رہ یک گام ہے ہمت کے لیے عرش بریں
کہہ رہی ہے یہ مسلمان سے معراج کی رات
تحریر فاطمہ بلوچ ‎@ZalmayX

Fatima Baloch

فری لانس رائٹر اور بلاگر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: