مسئلہ دسترس اور بس

مسئلہ دستَرس اور بَس۔۔۔ایک مسلمان کو اپنے انفرادی اور اجتماعی مسائل کا بخوبی علم ہوتا ہے۔اور وہ نا چاہتے ہوئے بھی مسائل کے حل کیلئے اپنی تجاویز کو کسی بہتر پلیٹ فارم کیلئے اپنے پاس رکھتا ہے۔اگر ایک گلاس میں پانی ڈال کر اپنے بازو کو بغیر کسی بیرونی مدد کے سیدھا کر لیں تو تھوڑے وقت کے بعد انسان کی ہمت طاقت جواب دے جائیگی۔ابتدائی وقت میں وزن ہلکا محسوس ہوگا اسی طرح مسائل شروع میں آسان اور ہلکے محسوس ہوتے ہیں اور اگر شروع میں ان کا تدارک نہ کیا جائے تو یہ مسائل بڑھتے بڑھتے اجتماعی مسائل بن جاتے ہیں قیمت نسل در نسل ادا کرتے ہیں۔مسائل کے بڑھنے کی ایک وجہ ملک و ملکیت،معاشرہ،عوام ان کی طرف سے دی گئ ذمہ داریوں سے روگردانی اور ناکامی کی صورت میں ماضی کے لوگوں کو ٹھہرانا اور خود کو پاک صاف ثابت کرنا ہے۔خود کو ذمہ دار ٹھہرانے کی بجائے اپنی اصلاح کرنے کی بجائے مسائل کی تعداد اور طاقت میں اضافہ کا باعث ہے۔مسلمانوں کے مسائل میں سے تعلیم و تعلمّ اور اتحاد و یگانگت کا فقدان دیکھنے میں آیا ہے۔جس کو پہلی ترجیح دینی چاہیے تھی اُس کو آخری ترجیح دی جا رہی ہے۔اگر ایک نظر اپنے ماضی پر دوڑائں عروج و زوال کی داستانوں کو پڑھیں تو ایک ہی چیز جس کے باعث عروج ملا پھر اُسی کے فقدان کے باعث زوال نصیب ہوا۔اگر مسلمانوں کے مسائل کو تفصیل کے ساتھ لکھنے کی کوشش کی جائے تو شائد جلدوں میں کتابوں کو تقسیم کرنا پڑے۔اگر کبوتروں کی مثال سے سبق حاصل کیا جائے تو انفرادی ترجیحات کی بنیاد پر زندگی اور موت کا مسئلہ درپیش آ سکتا ہے اور اجتماعی ترجیحات کی بنیاد پر سب کے سب مشکلات اور مسائل سے حل ممکن ہے۔اگر اسی مثال کو موجودہ مسلم ممالک پر لاگو کی جائے تو مثال بالکل صادق آتی ہے۔انفرادی مقاصد اور ترجیحات کی بنیاد پر ہر ملک کو درپیش مسائل کا سامنا ہے۔تعلیمی فقدان،یونیورسٹیز، سائنس، ٹیکنالوجی، ادب،فلسفہ، تحقیق، گویا کہ ہر شعبہ زندگی میں اپنا موازنہ غیر مسلم ممالک سے کریں ان کی ایجادات،ترقی،ٹیکنالوجی، تعلیمی انفراسٹرکچر کو دیکھیں تو اپنے ماسوائے افسوس کے اور کیا جاسکتا ہے۔؟ اور خود کو دیکھیں ابھی تک تفرقہ بازی،لسّانیت پرستی افسر شاہی۔کافر اور مسلمان کے چکر میں پڑے ہیں۔ہمیں تفرقہ بازی سے بازی نکلنا ہوگا اور ہم اسی طرح کافر اور مسلمان کے چکر میں پڑے تو غیر مسلم ہمیں ایسے کاموں میں الجھائے رکھیں گے غیر ارادی غیر مذہبی غیر معاشرتی کاموں میں مصروف رکھیں گے۔ جنگ ہونے کی صورت میں ہم ان کے سامنے ریت کی دیوار سامنے ہوں گے۔ ہم بہادر شاہ ظفر،سقوطِ بغداد کی تاریخ سے ناواقف ہیں اور ان سے کبھی سبق حاصل کرنے کی زحمت نہیں کی۔ہمیں اپنی ذاتی مفادات کو اجتماعی مفادات پر ترجیح دینی ہوگی ذاتی قربانی کو اجتماعی قربانی پر ترجیح دینی ہوگی۔ہمیں اپنے مسلم فاتحین اور وہ لوگ جنہوں نے معاشرے کی فلاح و بہبود کے لئے کسی زات اور مذہب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی خدمات سرانجام دیں ان لوگوں کی زندگیوں سے سیکھنا ہوگا۔جب تک ایک مقصد ایک خواب ایک منزل ایک نصب العین نہیں بن پاتا تمام اختلاف کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک قوم ایک مقصد ایک منزل کی جانب اپنی ترجیحات تبدیل کرنی ہوں گی۔تعلیمی،سائنسی،ٹیکنالوجی،ادبی،مذہبی،معاشی،معاشرتی ہر میدان میں اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر آگے بڑھنا ہوگا ہمیں متحد ہونا ہوگا تفرقہ بازی سے نکلنا ہوگا۔مسئلہ بھی ایک اور اس کا حل بھی ایک۔اللہ پاک ہم مسلمانوں کو متحد اور ہر ظلم کے خلاف آہنی دیوار ثابت کرے اور اُسو ہ حسنہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: