ماں کشمیر تو جنت ہے نا؟؟ جنت میں ہے طوفاں کیوں

ماں کشمیر تو جنت ہے نا جنت میں طوفان ہیں کیوں۔لفظ کشمیر تو جیسے اب کسی جگہ کا نہیں بلکہ ایک جیل کا نام ہے جہاں لوگ آزاد تو ہیں لیکن انکے جسم آزاد نہیں اپنی مرضی سے گھر سے نہیں نکل سکتے اپنی مرضی سے کہیں آ سکتے ہیں نا جا سکتے ہیں۔ جہاں بچے پیدا ہوتے ہیں تو اپنے آپ کو جیسے مجرم پاتے ہیں۔ آئے روز سرچ آپریشن کے نام پہ نوجوانوں کو شہید کیا جاتا ہے نوجوانوں کو جیلوں میں ڈال کر طرح طرح کے ظلم کیے جاتے ہیں۔عورتوں کی عزتیں محفوظ نہیں بچوں کی تعلیم نہیں۔ بچوں کا مستقبل اور حال خطرے میں۔ مائیں بچوں کو گھر سے بھیجتے وقت آنسوؤں کے ایک دریا کے ساتھ رخصت کرتی ہیں۔ کیا پتا بچہ واپس آئے گا کہ نہیں؟رات کو کوئی مر رہا ہے تب بھی گھر سے کوئی نکل سکتا۔ آخر یہ کس قسم کی سزا ہے؟اور کیوں کشمیریوں سے یہ سلوک روا رکھا جا رہا ہے؟ان کے جذبہ آزادی کی سزاانکے آزاد رہنے کی خواہش کو کچلنے کی ایک ناکام کوشش۔ اس ظلم و جبر کو صدی ہونے کو آ رہی ہے لیکن مجال ہے کہیں ان کے ارادے کمزور پڑے ہوں انکی امیدیں ماند پڑی ہوں۔ کشمیر جس کو جنت نظیر کہتے ہیں وہی کشمیر جس پہ پاکستان کی آزادی کے بعد بھارت نے غاصبانہ قبضہ کیا وہاں کے لوگوں کے ارمانوں کو خواہشات کو دبانے کیلئے ہر حربہ استعمال کیا وہی کشمیر ہے یہ۔ وہی کشمیر ہے جس میں آزادی کا خواب دیکھنے کی سزا کفن دیا جاتا ہے۔ جہاں آزادی کی خواہش رکھنے والوں سے زندہ رہنے کا حق چھین لیا جاتا ہے۔ جہاں آزادی کی شمع روشن کرنے والوں کی زندگی کے چراغ گل کر دیے جاتے ہیں۔ جہاں آزادی کیلئے آواز بلند کرنے والوں کے گلے کاٹ دیے جاتے ہیں ہاں یہ وہی جنت نظیر وادی ہے جس میں خون کی ہولی کھیلی جاتی ہے جس میں عید کے دن خوشیوں کی جگہ شہیدوں کی لاشوں کے ساتھ سوگ منایا جاتا ہے۔ جہاں آنسوؤں اور خون کے چشمے گھروں سے بہتے ہیں جہاں مصیبتوں کے طوفان آتے ہیں جہاں گولیوں کی برسات ہوتی ہے جہاں گولے برف کی طرح برستے ہیں جہاں روڈوں پہ گاڑیاں نہیں بلکہ بکتر بند گاڑیاں چلتی ہیں۔ یہ وہی کشمیر ہے جس کو جنت نظیر کہتے ہیں۔یہ وہ کشمیر ہے جہاں انڈین فوجیں دندناتی پھرتی ہیں جہاں مذہب سے جڑے لوگوں کو دہشت گردوں سے جوڑ کر شہید کر دیا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی واضح قراردادوں کو پاوں تلے روندا جاتا ہے۔ آخر بھارت کو یہ استثنی کہاں سے حاصل ہے آخر ایسی کونسی پاور ہے جو انڈیا کو یہ سب کرنے کی اجازت دیتی ہے؟یا یہ کہ وہاں شہید ہونے والے مسلمان ہیں؟دنیا کب اس پہ اپنی آنکھیں کھولے گی؟انسانیت کا قتل عام ہوتا ہے کشمیر میں۔ سڑکوں پہ خون اور بکھری لاشیں اقوام متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کی نام نہاد تنظیموں کے منہ پہ طمانچہ ہیں اور انکے دوغلے پن کا منہ چڑا رہی ہیں۔ ظلم و ستم کی یہ داستانیں عالمی طاقتوں کے کانوں تک کیوں نہیں پہنچتی؟یا جان بوجھ کر ان سے نظریں چرائی جا رہی ہیں؟اقوام متحدہ بھارت سے اپنی قراردادوں پہ عمل درآمد کیوں نہیں کرو سکتا؟اقوام متحدہ بھارت پہ پابندیاں کیوں نہیں لگاتا؟مذہبی تنگ نظری اسلامو فوبیا کے چشمے کو اتار کر انسانیت کے چشمے سے کشمیر اور کشمیریوں کی جلتی آرزووں کو دیکھیں ان کی بے بسی کو دیکھیں بے آسرا اور نہتے لوگوں کے سروں پہ اسلحے سے لیس جلادوں کو دیکھیں تو شاید پھر اپ کو ترس آ جائے اج جانوروں کے حقوق کی تو بات کی جاتی ہے لیکن کشمیریوں کے حقوق کیلئے ہر زبان کو تالے ہیں۔ اقوام متحدہ پوری دنیا میں ایک مقام ایک پاور رکھتی ہے اس کو چاہیے کہ اپنی پاور کا استعمال کرے اور کشمیریوں کو انکے سلب شدہ حقوق واپس دلوائے۔ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی عین قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت کے استعمال کا موقع دیا جائے اور انکی خواہش کا احترام کیا جائے کہ آیا وہ آزاد اور خود مختار رہنا چاہتے ہیں یا کسی ملک سے الحاق چاہتے ہیں۔اور کشمیر کو واقعی جنت کی نظیر بنایا جائے۔تحریر بشارت حسین https://twitter.com/Live_with_honor?s=09

Jabbli Views
فالو کریں

Jabbli Views

جبلی ویوز ایک میگزین ویب سائٹ ہے، یہ ایک ایسا ادارہ ہے جس کا مضمون نگاری اور کالم نگاری کو فروغ دینا اور اس شعبے سے منسلک ہونے والے نئے چہروں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے،تاکہ وہ اپنے ہنر کو نکھار سکیں اور اپنے خیالات دوسروں تک پہنچا سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: