قدرت خداوندی کا چھوٹا سا مظہر. مچھر

تحریر اجمل نگار
قُدرتِ خُداوندی کا ایک چھوٹا سا مَظہر _ ( مَچھر )
پڑھئے اور غور کیجیۓ
اللہ مچھر اور جو کچھ اس کے اوپر ہے اس کی مثال دے کر شرماتا نہیں :


رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے لبرل اور سیکیولر لوگوں نے قرآن میں مچھر کے ذکر پر اعتراض کیا کہ
یہ کیسی آسمانی کتاب ہے جس میں اتنی سے بے وقعت چیز کا ذکر کیا گیا ہے. اس پر قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی
(إِنَّ اللَّهَ لاَ يَسْتَحْيِي أَن يَضْرِبَ مَثَلاً مَّا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا)
ترجمہ ۔۔۔۔
“اللہ مچھر اور جو کچھ اس کے اوپر ہے اس کی مثال دے کر شرماتا نہیں ” ۔
اب سائنس نے اس مچھر کے بارے میں بہت سے انکشافات کئے ہیں یہ چھوٹی سے مخلوق کتنے انسانوں کی جان لیتی ہے یہ تو بہت تفصیلی باتیں ہیں۔ مگر میں چند باتیں آپ سے شئیر کررہاہوں شاید کسی کو فائدہ ہو :
مچھر کی 100 آنکھیں ہیں جو سب کی سب اس کے سر میں ہیں۔


مچھر کے 48 دانت ہیں۔
مچھر کے 3 دل ہیں اور تینوں مختلف قسم کے ہیں۔
مچھر کے سونڈ میں 6 چھریاں ہیں ہر چھری کا اپنا کام ہے ۔
مچھر کے دونوں طرف 3 /3 پر ہیں۔
مچھر کے اندر حرارت کا پورا نظام ہے جو کہ لیز کی طرح ہے اسی کے ذریعے یہ انسانی جلد کی رنگت کو تاریکی میں پہچانتا ہے اور یہ اس کو بنفشی رنگ کا معلوم ہو تا ہے۔
مچھرکی سوئی میں نشہ کرنے کا نظام ہے جس سے کاٹتے وقت انسان کو محسوس نہیں ہوتا اور کاٹی ہوئی جگہ خون چوسنے سے سوجھ جاتی ہے۔


مچھر کے اندر خون کا تجزیہ کرنے کا نظام بھی ہے اس لیے ہر خون وہ نہیں چوستا ۔
مچھر کے اندر اس چوسے ہوئے خون کو جو گاڑھا ہو تا ہے مائع (پتلا) کرنے کا نظام بھی ہے تب ہی خون اس کے انتہائی باریک سونڈ سے گزرتا ہے۔


مچھر کے بارے میں سب سے بڑی اور جدید ترین تحقیق یہ ہے کہ مچھر کے پیٹھ پر ایک اور چھوٹا سا کیڑا
ہوتا ہے جو خوردبین سے ہی دیکھا جا سکتا ہے۔
اور اللہ سبحانہ وتعالی نے فرمایا ہے کہ اللہ مچھر کی اور اس کے اوپر چھوٹی سے چیز کی مثال سے بھی نہیں شرماتا
اللہ کیوں شرمائے وہ تو ہر چیز کا خالق ہے __
شرمانا تو ان لوگوں کو چاہیے جو اللہﷻ کی ناقدری اور ناشکری کر تے ہیں۔
اور اللہﷻ کے دین کو روکنے کی کوشش کر تے ہیں۔
@nigar_840

Jabbli Views
فالو کریں

Jabbli Views

جبلی ویوز ایک میگزین ویب سائٹ ہے، یہ ایک ایسا ادارہ ہے جس کا مضمون نگاری اور کالم نگاری کو فروغ دینا اور اس شعبے سے منسلک ہونے والے نئے چہروں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے،تاکہ وہ اپنے ہنر کو نکھار سکیں اور اپنے خیالات دوسروں تک پہنچا سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: