جسے رب رکھے

تحریر: حبیب الرحمٰن خان عنوان:جسے رب رکھےآج سے شاید پندرہ سال یا اس سے بھی زیادہ عرصہ گزر گیا ہے مجھے ٹھیک سے یاد نہیں کہ ہری پور سے ایبٹ آباد جاتے ہوۓ فورڈ ویگن بالڈھیر کے مقام پر حادثے کا شکار ہو گئی۔

حادثہ انتہائی شدید تھا ڈرائیور جنت گل سمیت تمام مسافر جاں بحق ہو گئےحتیٰ کہ ڈرائیور کا سر پھٹ گیا اور دماغ کا کچھ حصہ سر سے نکل کر زمین پر گر پڑاتمام لاشوں کو اٹھا کر ایبٹ آباد پمز ہسپتال پہنچایا گیاڈرائیور جنت گل کے باہر نکلے ہوئے مغز کو ہاتھوں سے کسی شخص نے اس کے سر میں ڈالا لاشیں جب ایبٹ آباد ہسپتال میں پہنچیں تو کہرام مچ گیا علاقے میں سب کو خبر ہو گئی لواحقین آتے اور اپنی عزیزوں کی لاشیں

شناخت کرنے کے بعد قانونی کارروائی مکمل کر کے ساتھ لے جاتے۔

جب ڈرائیور کے لواحقین آۓ اور کاغذی کارروائی مکمل کر کے لاش ساتھ لے جانے لگے تو کیا دیکھتے ہیں کہ لاش کے پاؤں کے ایک انگوٹھے نے جنبش کی تو سب نے واویلا مچا دیا کہ ڈراہیور زندہ ہے جب ڈاکٹروں کو اطلاع دی گئی کہ حادثے کی صورت میں آنے والی لاشوں میں سے ایک زندہ ہے تو شدید ردعمل کے خوف سے ہسپتال کا سئینیر ڈاکٹر خود آگیا لیکن جب اسے معلوم ہوا کہ یہ اس لاش کا کہہ رہے ہیں کہ جس کا دماغ باہر نکل آیا تھا تو اس نے لواحقین کو بتایا کہ یہ ممکن ہی نہیں کیونکہ انسان کے جسم میں دماغ ایک ٹرانسفارمر ہے اسے کوہی چیز ہلکا سا بھی چھو لے تو دماغ مر جاتا ہے یعنی وہ انسان مر جاتا ہے۔ کجا یہ کہ اس شخص کے دماغ کے کچھ حصے کو زمین سے اٹھا کر اس کی کھوپڑی میں ڈالا گیا اس کا زندہ ہونا ممکن ہی نہیں۔

وہ چونکہ لاش کے قریب کھڑے ہو کر بحث ومباحثہ میں مشغول تھے کہ اسی اثناء میں لاش کا پاؤں ہلا تو سب نے شور مچا کر ڈاکٹر اور دیگر سٹاف کی توجہ دلائی وہ سب یہ دیکھ کر حیرت زدہ رہ گۓ کیونکہ میڈیکل اس بات کو مانتی ہی نہیں لیکن چونکہ آنکھوں کے سامنے واقعہ ہو رہا تھا سو ڈاکٹروں نے اس شخص کو فوراً آپریشن تھیٹر منتقل کیا اور پھر وہ تقریباً دو سال تک زیر علاج رہاوہ شخص آج بھی زندہ ہےاور یہ کمال قدرت ہے ورنہ دنیا کی سائنس اس بات کو نہ تب تسلیم کرتی تھی نہ آج تسلیم کرتی ہےان الله على كل شيء قدير

#حبیب_خان

Follow me on twitter @HabibAlRehmnkhn

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: