پاکستان کی روایات اور ثقافت

آرٹیکل:-14 اگست 1947 ء کو پاکستان معرض وجود میں آیا جس کا مطلب لا اله الا الله ہے لیکن پاکستان درحقیقت مختلف اقوام کی مختلف زبانوں، ثقافت و روایات کے مجموعہ سے تخلیق پایا ہے جس میں انسان ثقافت اور معاشرت کے سیکھنے کے عمل کے ذریعے ثقافت حاصل کرتا ہے ،

جو معاشروں میں ثقافتوں کے تنوع سے ظاہر ہوتا ہے، ایک ثقافتی معیار معاشرے میں قابل قبول طرز عمل کی وضاحت کرتا ہے۔ پاکستان میں موجود متحد اقوام کی زبان اور ثقافت کی تفصیل میں جانے سے پہلے میں، روایات و ثقافت کا مطلب بتلانا چاہ ہوگاکہ روایات و ثقافت سے مراد کسی خاص علاقہ و جگہ کے رہنے والے لوگوں یا مقامی معاشرے کے خیالات ، رسم و رواج ، معاشرتی رویے، لباس ، زبان، رہن سہن، خوراک، کھیل ، آثارِ قدیمہ وغیرہ کا مجموعہ روایات و ثقافت کہلاتے ہیں جو کہ کسی قوم کی کئی نسلوں تک ایک لازوال پہچان ہوتی ہے

لیکن افسوس پاکستان میں تمام قوموں کی روایات و ثقافت زوال پذیر ہورہی ہےجن کی طرف توجہ نہ دینا پاکستانی قومیت کو خطرہ ہونے ہے ۔

پاکستان 22 کروڑ کی آبادی کے ساتھ (چھ) 6 بڑی قوموں مثلا پنچابی، سندھی، بلوچی، پختون و پشتون ، گلگتی، کشمیری سمیت چھوٹے سرائیکی ، مہاجر ،، پہاڑی ، ہندکوان ، کالاش ، چترالی ، صدیقی ، برکوشو ، واخیس ، کھوار ، ہزارہ ، شینا ، بلتیس ، اسماعیلی، بوری ، مکرانی, پشتون شمال میں دارد ، کوہستانی، واکی ، بالٹیس ، شناکی اور بروشو کمیونٹیز وغیرہ شامل ہیں۔ پاکستان نے ابتداسے ہی جنوبی ایشیا ، مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے مرکزی جغرافیائی خطے کے اندر ایک الگ اکائی و پہچان بنائی ہے جو کہ سیاحت ، روایات و ثقافت پر مبنی ہے۔

پاکستان کی ثقافت جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کی ثقافت کا مجموعہ ہے۔ ان پاکستانی مختلف اقواموں کی روایات ثقافت بہت سے پڑوسی ممالک ، جیسے دوسرے جنوبی ایشیائی ، ایرانی ، ترک کے ساتھ ساتھ وسطی ایشیا اور مغربی ایشیا کے لوگوں سے بہت متاثر ہوئی ہے اور کافی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے ۔

اگر میں ذاتی طور پر پاکستان کی قومی ثقافت پر جائزی و تجزیاتی رائے دو تو اس کے مطابق گلگت بلتستان (اول)، کشمیری و بلوچی (دوم)، سرائیکی اقوام کی ثقافت میں مستحکم یا اصلی حالت میں محفوظ و زیر استعمال ہیں جو کہ خراجِ تحسین و داد کی مستحق ہیں جنہوں نے اپنی پہچان قائم رکھی ہوئی ہے ، لیکن ا س کے برعکس سندھی، پنچابی اور پشتون، ہزارہ اقوام کی روایات و ثقافت زوال پزیر و غیر محفوظ کہ جن پر کسی قسم کا عمل نہیں رہا ہے، دیگر چھوٹی بڑی اقوام کی روایات و ثقافت پر بھی عمل کرنے والے تھوڑی تعداد رہ گئی ہے مراد کہ زوال پزیر کا شکار ہیں، جو کہ انتہائی خطرناک ہے ۔

آپ میری رائے سے اختلاف رکھ سکتے ہیں لیکن میری رائے تمام تر ثبوتوں پر مبنی ہےجن میں لباس ، خوراک ، زبان وغیر بیشتر نکات ہیں جس میں ہماری بڑی تعداد کا مغرب کی کاپی کرنا ہےاور اپنی ثقافت کو بھول جانے ہے ، جس پر اپ بھی غور کر یں تو اپ کو اندازہ ہوگا کہ رویات و ثقافت کو بھول جانےسے ایک قوم کی پہچان مٹ جاتی ہے۔پاکستانی ثقافت کے نام تو موجود ہیں لیکن وہ اندر سے کھوکلی ہےجو کہ کسی بھی وقت آنے پر ختم ہوجائے ، یہ ایک قابلِ تشویش اور قابلِ غور بات ہے ۔

ایک پاکستانی محب وطن اور وقت کے ساتھ ترقی کا خیر خواہ ہونے کی وجہ سے میری ذاتی طور پر پوری پاکستانی قوم میرے سمیت ہمیں روایات و ثقافت کو نہیں بھولنا چاہیے ، ہاں ہمیں وقت کے ساتھ جدت بھی اختیار کرنی چاہیے ،لیکن پاکستان میں مغربی لباس و زبان پر عمل کرنے والے ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے علاقائی ثقافت پر بھی عمل کرنے والے بڑی تعداد میں ہونے چاہیے ، ہر رنگ و نسل کے لوگ پیار محبت و اتفاق کے ساتھ رہیں۔ کیونکہ ہم پاکستانیوں کی پہچان ہی پنجابی ، بلوچی ، سندھی ، کشمیری ، گلگتی، پشتون وغیرہ ہی ہیں تو اگر ہم ان سے ہٹ کر مغربی پہچان لیں گے تو کچل کے رکھ دیا جائے گا، آللہ تعالیٰ پاکستان کی حفاظت فرمائیں اور پاکستانی قوم کا نام و سر پوری دنیا میں فخر سے بلند رہے آمین!

پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخواہ، گلگت بلتستان ، جموں کشمیر ، لداخ ، ان سب کا مطلب ہی خوبصورت اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ! پاکستان زندہ باد!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: