جہاد فی سبیل اللہ اور اللّٰہ کی مدد کا وعدہ

آج جب صبح نماز کے بعد قرآن پاک کی تلاوت کر رہا تھا تو اس آیت کریمہ کو پڑھنے کا اتفاق ہوا، “اُذِنَ لِلَّذِیۡنَ یُقٰتَلُوۡنَ بِاَنَّہُمۡ ظُلِمُوۡا ؕ وَ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصۡرِہِمۡ لَقَدِیۡرُ ۨ ﴿ۙ۳۹﴾” ترجمہ : ” جن لوگوں سے جنگ کی جارہی ہے ، انہیں اجازت دی جاتی ہے ( کہ وہ اپنے دفاع میں لڑیں ) کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے ، ( ٢٣ ) اور یقین رکھو کہ اللہ ان کو فتح دلانے پر پوری طرح قادر ہے ۔”

جب اس کے بارے میں پڑھا تو معلوم ہوا کہ یہ سب سے پہلی آیت کریمہ ہے جو مسلمانوں کو اس ظلم کے خلاف کارروائی کی اجازت دے رہی ہے جو 13 سالہ مکی دور مشرکین مکہ کے مظالم سہتے ہوئے گزرا۔ اس سے قبل مکی دور میں جو احکامات دربار خداوندی سے جاری ہوتے تھے وہ جہاد بالنفس کے بارے میں تھے۔ جیسے کہ حکم ہوا، یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا ادۡخُلُوۡا فِی السِّلۡمِ کَآفَّۃً ۪ (البقرۃ:۲۰۸)’’اے ایمان والو! اسلام میں داخل ہو جاؤ پورے کے پورے.‘‘اور دوسرا حکم ملا، یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ ﴿۱۰۲﴾ (آل عمران)’’اے اہل ِایمان! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جیسا کہ اس کے تقویٰ کا حق ہے.‘اور ایسے ہی نبی رحمت خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا قول مبارک ہے : اَفْضَلُ الْجِھَادِ اَنْ تُجَاھِدَ نَفْسَکَ وَھَوَاکَ فِیْ ذَاتِ اللّٰہِ تَعَالٰی.

’’حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا افضل جہاد یہ ہے کہ تم اپنے نفس اور اپنی خواہشات کو اللہ کا مطیع بنانے کے لیے ان کے خلاف جہاد کرو‘‘ یعنی ان احکامات کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مکی دور میں کفار کے مظالم کے خلاف صبر کی تلقین کی گئی اور سب سے پہلے اس بات کی تربیت دی گئی ہے کہ خوشی ہو یا غم، مصیبت ہو یا آزمائش، آسانی ہو یا مشکل اور چاہے حالات جس قدر بھی سنگین ہوں ہر حال میں اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول ﷺ کی فرمانبرداری کرنی ہے۔ جس بات حکم حضور خاتم النبیین ﷺ️ دے دیں اس پر عمل کریں اور جس بات منع فرما دیں تو اس سے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے رک جائیں۔

اس لیے مکی دور میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو آگ کے انگاروں پر بھی صبر کرتے دیکھا اور خود سارے جہان کے سردار حضرت محمد مصطفیٰ خاتم النبیین ﷺ کو بھی بھی طائف میں پتھر کھا کر بھی ان کے کیلئے اللّٰہ رب العزت سے دعائیں کرتے دیکھا کہ یااللّٰہ اگر ان کے نصیب میں ہدایت نہیں تو انکی نسلوں کو ہدایت کی روشنی نصیب فرمانا۔ مکی زندگی کا یہ ١٣ سالہ دور جو اس قدر سنگین تھا کہ خود سرورِ کائنات ﷺ اپنے اہل وعیال اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے ساتھ شعب ابی طالب میں تین سال روکھے سوکھے درختوں کے پتوں سے گزر بسر کر کے گزارنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم سے مدینہ منورہ ہجرت فرما گئے۔

مدینہ منورہ میں آپ ﷺ نے یہودیوں کے ساتھ امن مذاکرات کے ذریعے معاہدہ کر کے تبلیغ دین میں مصروف ہوگئے۔ امن معاہدہ کے بعد مسلمانوں کی حالت زار جو انتہائی تشویشناک تھی ابھی بہتر ہوتی لیکن اس سے پہلے ہی مشرکین مکہ نے یہاں پر بھی سازشیں شروع کر کے مشکلات پیدا کرنا شروع کر دیا اور بات آخر کار جنگ تک پہنچی اور اللّٰہ تعالیٰ نے حکم ارشادفرمایا: اُذِنَ لِلَّذِیۡنَ یُقٰتَلُوۡنَ بِاَنَّہُمۡ ظُلِمُوۡا ؕ وَ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصۡرِہِمۡ لَقَدِیۡرُ ۨ ﴿ۙ۳۹﴾ جن لوگوں سے جنگ کی جارہی ہے ، انہیں اجازت دی جاتی ہے ( کہ وہ اپنے دفاع میں لڑیں ) کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے ، اور یقین رکھو کہ اللہ ان کو فتح دلانے پر پوری طرح قادر ہے ۔ یہ پہلا موقع تھا جب مسلمانوں کے اپنے دفاع کے لئے تلوار پکڑنے کی اجازت دی گئی کیونکہ ایک تو ظلم اپنے انتہا کی ساری حدیں پار کر چکا تھا اور دوسرا مسلمانوں کو اسی ظلم کی وجہ سے اپنا گھر بار، رشتہ دار وغیرہ کو بھی چھوڑنا پڑا تھا۔ جس کے باوجود بھی مشرکین اپنے شر سے باز نہیں آ رہے تھے تو ضروری تھا اس بڑھتے ہوئے ظلم و ستم کو روکا جائے اور جہاد کا دوسرا مرحلہ جو باعثِ عزت و توقیر ہے اس کو اپنایا جائے۔ یہ جہاد اللّٰہ کے راستے میں لڑتے ہوئے یا تو ظالم اور ظلم کا خاتمہ ہے یا پھر اپنی جان کی قربانی ہے۔ اس جہاد سے اپنے خلاف فتنوں اور مظالم کا قلع قمع تو ہوتا ہے لیکن انسان کو اللّٰہ تعالیٰ عزت و شرف سے بھی نوازتے ہیں۔ لیکن اس جہاد میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی مدد و نصرت کا بھی وعدہ فرمایا ہے.

“وَ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصۡرِہِمۡ لَقَدِیۡرُ اور یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ آپ کی مدد کرنے پر مکمّل قادر ہے۔” بس اس وقت مکمّل جنگی سازوسامان کے ساتھ ہزاروں کے لشکر کے سامنے مسلمانوں کی تعداد ٣١٣ تک پہنچ سکی جن میں اکثر بے سرو سامان بس اللّٰہ اور اللّٰہ کے رسول ﷺ کی اطاعت میں پیش پیش تھے جس کی تعلیم ١٣ سال دی گئی تھی۔اور جب اعلاء کلمۃ اللّٰہ کیلئے، مسلمانوں اور اسلام کے بقا اور عزت و وقار کے لیے دفاع کی جنگ شروع ہوئی تو تمام جہانوں کے سردار سرور کائنات خاتم النبیین ﷺ نے مٹھی بھر ریت اٹھا کر پھینکی تو اللّٰہ کے حکم سے ان کافروں کی آنکھیں چندھیا گئیں۔ اس پر اللّٰہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا: فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ۪-وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰىۚ-وَ لِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۱۷)تو تم نے اُنہیں قتل نہ کیا بلکہ اللہ نے انہیں قتل کیا اور اے محبوب وہ خاک جو تم نے پھینکی تم نے نہ پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی اور اس لیے کہ مسلمانوں کو اس سے اچھاانعام عطا فرمائے۔اس طرح مشرکین مکہ جو اپنی طاقت پر بڑے فخر سے اللہ کے بندوں سے لڑنے آئے تھے شکست ان کا مقدر ہوئی اور اللہ تعالیٰ کا مسلمانوں سے کیا گیا وعدہ پورا ہوا۔

وہ دن اور آج کا دن جب بھی مسلمانوں نے جہاد فی سبیل اللہ کو اپنایا ہے اللّٰہ تعالیٰ نے کسی کو اپنی مدد سے محروم نہیں رکھا۔ آج کے دور میں جہاد فی سبیل اللہ پر اللّٰہ تعالیٰ کی مدد کی تازہ مثال افغانستان کا جہاد ہے۔ جہاں پر پہلے روس کے خلاف اللّٰہ جلّ شانہ نے مدد فرمائی پھر سویت یونین کے خلاف اور اب امریکہ اپنے ساتھ ٤٠ سے زیادہ ممالک کو ساتھ لے کر آیا تھا آخر کار شکست اسکا مقدر بنی ہے۔لیکن یاد رہے کہ اس قتال کی اجازت اور مدد کا وعدہ اسوقت ہے جب یہ جدوجہد اعلائے کلمۃ اللّٰہ کیلئے ہو۔ ورنہ انسانی جان اللّہ تعالیٰ کے نزدیک بہت قیمتی ہے. قرآن پاک میں ارشاد ربانی ہے:وَلاَ یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلاَّ بِالْحَقِّ وَلاَ یَزْنُوْنَ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ أَثَاماً﴾ (الفرقان:۶۸) ترجمہ: ”اور جس ذات کو اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا ہے اس کو قتل نہیں کرتے ہیں، ہاں مگر حق پر اور وہ زنا نہیں کرتے اور جو شخص ایسے کام کرے گا تو سزا سے اس کو سابقہ پڑے گا۔

“اور ایسے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: الکبائرُ الاشراکُ باللّٰہِ وقتلُ النَفْسِ وعقوقُ الوالدینِ والیَمِیْنُ الغَمُوسُ“ (مشکوٰة:۱۷، باب الکبائر وعلامات النفاق) ترجمہ: بڑے گناہوں میں سے اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جان مارنا، والدین کی نا فرمانی کرنا اور جھوٹی قسمیں کھانا ہے۔ “تو اس سے ہمیں انسانی جان کی حرمت کا اندازہ ہوتا ہے کہ ناحق قتل کتنا بڑا گناہ ہے۔ اللّہ ہمیں سیدھی راہ چلنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین ثم آمین

Syed Moin uddin Shah

Syed Moin uddin Shah Ms. Management Sciences Islamia University Bahawalpur Follow his Twitter account http://twitter.com/BukhariM9‎

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: