جنرل فیض حمید کا دورہ کابل اور انڈین میڈیا کی چیخیں

‎جنرل فیض حمید کی دورۂ کابل کی یہ تصویر سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوچکی ہے۔ مختلف کیپشنز بھی دی جا چکی ہیں۔ تو آئیے اس تصویر اور اس دورے سے متعلق چند باتیں ڈسکس کرلیتے ہیں۔

‎جنرل فیض حمید کا دورۂ کابل اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اسٹوڈنٹس اگلے دو، تین روز میں نئے حکومتی سیٹ اپ کا اعلان کر نے والے ہیں۔ شائد انکا دورہ انٹیلیجنس شئیرنگ کے لیے بھی ہو۔ پاکستانی سرحد کیساتھ افغان علاقوں کا کنٹرول حقانی نیٹ ورک کو دینے سے متعلق بھی ہوسکتا ہے۔

‎جنرل فیض حمید کا یہ دورۂ ہلمند اور ہرات وغیرہ میں کاشمیر سے متعلق پراکسیز کی حفاظت اور معاونت کے لیے بھی ہو سکتا ہے۔ جنرل فیض کا یہ دورہ اور چین کی جانب سے مالی امداد کا اعلان اسٹوڈنٹس کی کسی حد تک مشکلات میں کمی کا سبب بن سکتا ہے۔

‎اب آتے ہیں بھارت مہان کی طرف!

‎بھارت مہان کا میڈیا اس وقت اس قدر بوکھلاہٹ کا شکار ہے کہ دیکھنے کے بعد بندہ خود کنفیوز ہو جاتا ہے۔ کوئی میاں نواز شریف سے کہے کہ ان بھارتیوں کو جنرل فیض کا صحیح نام ہی سکھلا دو۔ بے چارے صبح سے “جنرل حامد”، “حامد” کی رٹ لگائے بیٹھے ہیں۔ نواز شریف محمد رفیع جیسے سریلے اور اردو کی ادائیگی بھی مہندر بیدی کی طرح کرتے ہیں۔ انہیں حمید بولنا ہی سکھلا دیں

‎بھارت کا بھگوڑا دفاعی تجزیہ کار میجر گوروؤ آریا فلوریڈا میں بیٹھ کر بین ڈال رہا ہے۔ اس کے مطابق جنرل فیض رفیوجستان بھیک مانگنے گئے ہیں کہ ٹی ٹی پی کے فوج پر حملے رکوائے جائیں وغیرہ وغیرہ

‎جنرل بخشی تبخیر معدہ کے مریض بھی ہیں۔ تبخیر کا مریض کچھ بھی کہہ سکتا ہے۔ لہذا انکی کسی بھی بات کو مزاحیہ یا سنجیدہ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ جنرل بخشی دراصل بھارت کی پوری دفاعی سوچ کا عکس ہے۔

‎بھارتی میڈیا نے آئی ایس آئی اور عمران خان کی رٹ لگا کر اپنی فوج اور عوام کا مورال اتنا ڈاؤن کر لیا ہے کہ یہ لوگ ذہنی طور پر شکست خوردہ ہو چکے ہیں۔ آخر میں!

‎جنرل فیض حمید کی چائے والی تصویر جس بندے نے بنائی اور پھر وائرل کی ہے، مجھے اسکے آباؤ اجداد میں لائل پور کا خمیر نظر آتا ہے۔ پورا بھارتی میڈیا اس ایک چائے کے کپ پر بین ڈال رہا ہے۔ مجھے تو آج کے دن جنرل فیض عمران خان سے بھی زیادہ پاپولر لگ رہا ہے۔
@sajidusmani01
ساجد عثمانی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: