اسلام میں حجاب(پردہ)

‏اسلام اور حجاب (پردہ)قرآن و سنت کی روشنی میں حجاب کے احکام و آداب قرآن کریم میں حجاب یعنی پردے کے حوالے سے مسلمان خواتین کو واضح حکم دیا گیا ہے تم اپنے گھروں میں رہا کرو اور زمانہ جاہلیت کی عورتوں کی طرح نا پھرو ، اس حکم میں صاف معلوم ہو رہا ہے کہ عنداللہ مطلوب و مقصود یہ ہیکہ عورتیں گھروں سے بے حجاب اور بلا ضرورت باہر نا نکلیں شرعاً حجاب یہی ہیکہ عورتیں گھروں میں حقوق و آداب کے ساتھ رہیں پردہ کی ابتدا ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنھن اجمعین سے ہوئ اور مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر بلا اجازت داخل نا ہوں اور اگر کوئ سامان وغیرہ لینا یا دینا ہو تو پردہ کے پیچھے سے ہو یہ حقیقت ہیکہ اسلام نے دنیا سے بے حیائ کو ختم کرنے کیلئے اور عفت مآب معاشرہ عطا کرنے کیلئے حجاب کا حکم دیا اسلامی حجاب ہی وہ واحد چیز ہے جس سے عورتوں کا صحیح معنیٰ میں تحفظ ہو سکتا ہے حجاب کے بغیر بے حیائ اور فحاشی کا خاتمہ ایسا خواب ہے جو کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا

یقیناً اسلامی حجاب پوری انسانی برادری کو پرسکون اور باوقار زندگی عطا کرنے کی فطری تدبیر اور یقینی ضمانت ہے یہ کہنا کہ پردہ دل کا ہونا چاہیے نا کہ ظاہری سراسر غلط ہے یاد رکھیں کہ کائنات کی بہترین عورتوں نے کائنات کے بہترین مردوں سے پردہ کیا انہوں نے یہ نہیں کہا کہ پردہ صرف دل کا ہونا چاہیے بلکہ انہوں نے اسلام کے حکم کو من و عن تسلیم کیا اور عمل کیا اسلامی حجاب کا یہ مطلب بھی ہر گز نہیں کہ اسلام نے عورتوں کو گھروں میں قید کر دیا ہے کہ عورتیں ہمیشہ گھروں میں ہی رہیں کبھی باہر نا نکلیں جیساکہ نام نہاد روشن خیال اور جدید تہذیب کے علم برداروں کا خیال اور پراپیگنڈا ہےبلکہ اسلام نے عورتوں کو ضرورت کے وقت باپردہ باہر جانے کی اجازت دی ہے ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنھن اجمعین والدین وغیرہ سے ملاقات اور عزیز و اقارب کی بیمارپرسی و تعزیت کیلئے باپردہ گھروں سے نکلتی تھیں

اہم نکتہ 👇

اسلامی حجاب عورت کا وقار ہے اور خواتین میں جو برقع پہننے کا رواج ہے یہ دور نبوت کی پاکیزہ خواتین اسلام کے عمل سے ہی مأخوذ ہے برقع بھی اسی چادر کے قائم مقام ہے جس کا تذکرہ قرآن کریم میں لفظ جلباب سے کیا گیا ہے البتہ پہلے زمانے میں عورتوں کے برقعے کھلے اور ڈھیلے ڈھالے ہوتے تھے اور خواتین ایسے برقعوں کو ہی پسند کرتی تھیں جو پورے بدن کو چھپا لیتے تھے لیکن آج کا ایک المیہ یہ بھی ہیکہ آجکل مارکیٹ میں ایسے برقعے آ گۓ ہیں جن سے برقعے کا مقصد ہی فوت ہو گیا ہے انتہائی باریک اور تنگ سائز کے برقعے کہ اندر کا لباس بھی نظر آتا ہے اور جسم کی ساخت بھی ظاہر ہوتی ہے ، رنگ برنگے برقعے ، نت نۓ ڈیزائن اور موتیوں سے مزین ایسے برقعے حجاب نہیں بلکہ یہ تو مزید فتنہ انگیز ہیں کیونکہ پردے کا حکم تو زینت کو ظاہر کرنے کیلئے نہیں ہے بلکہ زینت کو چھپانے کیلئے ہے اور رنگ برنگے تنگ سائز کے برقعوں سے عورت با پردہ نہیں بلکہ مزید مزین ہوکر سامنے آتی ہے اور یہ انتہائی خطرناک عمل ہے

آخری بات یاد رکھیں کہ مردوں کو نظریں جھکا کر چلنے کا حکم ہے اور عورتوں کو باپردہ ہو کر ضرورت کے تحت ، اس لیے جو بھی حکم عدولی کرے گا وہ نافرمانی کا مرتکب ہوگا عورت یہ کہہ کر پردہ نہیں چھوڑ سکتی کہ مرد اپنی نظریں جھکا لیں اور مرد یہ کہ کر بدنظری نہیں کرسکتا کہ عورت کو پردہ کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ ہمیں صراط مستقیم پر چلاۓ اور قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین والسلام : حافظ محمد احمد

Jabbli Views
فالو کریں

Jabbli Views

جبلی ویوز ایک میگزین ویب سائٹ ہے، یہ ایک ایسا ادارہ ہے جس کا مضمون نگاری اور کالم نگاری کو فروغ دینا اور اس شعبے سے منسلک ہونے والے نئے چہروں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے،تاکہ وہ اپنے ہنر کو نکھار سکیں اور اپنے خیالات دوسروں تک پہنچا سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: