مؤذن رسول ﷺ سیدنا بلال حبشی


حضرت بلالؓ مؤذن رسول اللہ ﷺ

عاشق زلف رسولؐ سیدنا حضرت بلال حبشی کائنات کی وہ پہلی عظیم مقدس ہستی ہیں جن کو دنیا کے پہلے موذن ہونے کا اعلیٰ شرف حاصل ہوا اللہ کے رسول کریمؐ نے خود ارشاد فرمایا کہ بلال کس قدر اچھا آدمی ہے وہ تمام موذنوں کا سردار ہے آپ کے والد رباح اور والدہ حمامہ عرب کے ایک قبیلے کے غلام تھے یہ سرزمین عرب کا وہ تاریک دور تھا جب انسان اخلاقی پستیوں کی گہرائیوں میں گرا ہوا تھا اور اس پر گمراہی مسلط تھی اور اس دور جہالت میں سب مظلوم طبقہ غلاموں کا تھا جسے بنیادی انسانی حقوق ملنا تو بہت دور کی بات سکون سے اپنی زندگی گزارنے کا بھی حق نہ تھا،

حضرت بلالؓ مؤذن رسول اللہ ﷺ،مؤذ نین کے سرخیل، رسول امین کے خزانچی اورآپ ﷺ کے خادم خاص کے مختصر حالات آپ ابتداءً اامیہ بن خلف کے غلام تھے۔

جب آپ نے اسلام قبول کیا ،تو امیہ بن خلف سخت سے سخت تکلیفیں دینے لگا، حضرت ابو بکر صدیق ؓنے پانچ ،سات،نو،چالیس اوقیہ میں(علی اختلاف الاقوال ) امیہ بن خلف سے خرید کر آزاد کردیا۔(اسد الغابة۲۳۷/۱)

حضرت بلالؓ ان خوش نصیب فرزندان ِاسلام میں سے ہیں جنھوں نے شروع زمانہ ہی میں اسلام قبول کیااوردین اسلام کے خاطرخوب ستائے گئے اذیتیں دی گئیں؛ لیکن اسلام کو چھوڑ ناپسند نہیں کیا اوردین کے لئے ہرمصیبت برداشت کی اور اسلام پر ثابت قدم رہے،

حضرتِ بِلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کے قدموں کی آہٹ

جنّت کی سیر کے دوران سردارِدو جہان،رحمتِِ عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کسی کے قدموں کی آہٹ سماعت فرمائی، جس کے بارے میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بتایا گیا کہ یہ حضرتِ بِلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ ہیں۔

آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ کو یہ مقام کس عمل کے سبب حاصِل ہوا آئیے!

 حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ سرکارِ عالی وقار، محبوبِ رَبِّ غفّار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فجر کے وقت حضرتِ بِلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہُ  سے فرمایا: اے بِلال! مجھے بتاؤ تم نے اِسْلام میں کون سا ایسا عمل کیا ہے جس پر ثواب کی امید سب سے زیادہ ہے کیونکہ میں نے جنّت میں اپنے آگے تمہارے قدموں کی آہٹ سُنی ہے۔ عرض کیا: میں نے اپنے نزدیک کوئی اُمید افزا کام نہیں کیا۔ہاں! میں نے دن رات کی جس گھڑی بھی وُضو یا غسل کیا تو اس قدر نماز پڑھ لی جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  نے میرے مُقَدَّر میں کی تھی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر وحضر کے مؤذن اورخادم خاص تھے، غزوہ بدر،احد،خندق اور تمام غزوات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک رہے

حضرت بلال کے بارے میں مشہور ہے کہ ان کی زبان میں لکنت تھی، جس کی وجہ سے آپ شین کو سین پڑھتے تھے

اور اس ضمن میں ایک واقعہ بھی عموماً بیان کیا جاتا ہے کہ بعض یہودیوں نے طعنہ دیا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے مؤذن ایسا رکھا ہے، جسے شین اور سین کی تمیز نہیں تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دینے سے منع کردیا تو اس روز صبح نہیں ہورہی تھی، پھر صحابی نے بارگاہ نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم میں حاضر ہوکر رات کے حوالے سے عرض کیا، پھر جبریل علیہ السلام حاضر ہوئے اور فرمایا: جب تک حضرت بلال رضی اللہ عنہ اذان نہیں دیں گے، صبح نہیں ہو گی تو پھر حضرت بلال نے اذان دی تو صبح ہوئی۔

اور یہ بھی بیان کیاجاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال کا سین بھی اللہ تعالی کے نزدیک شین ہے۔

اکثر منابع کے مطابق آپ کی وفات سنہ 20 ہجری کے بعد دمشق میں ہوئی ہے. لیکن سنہ 17، 18 اور 21 ھ بھی ذکر ہوئے ہیں۔ اور کچھ منابع میں بیان ہوا ہے کہ آپ طاعون کی بیماری سے دنیا سے گئے ہیں۔

مشہور قول کے مطابق آپ دمشق میں باب الصغیر قبرستان میں مدفون ہیں۔ اور بعض نے کہا ہے کہ آپ باب کیسان داریا اور باب الاربعین حلب میں دفن ہوئے ہیں۔ لیکن ایک قول ہے کہ جو حلب میں مدفون ہیں وہ بلال کے بھائی خالد ہیں آپ کی عمر وفات کے وقت 60 سال سے زیادہ کہا گیا ہے اور کچھ منابع میں 63، 64 اور 70 کہا گیا ہے

علامہ اقبال رحمۃ اﷲ علیہ اذانِ بلال رضی اللہ عنہ کو ترانۂ عشق قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں

اذاں ازل سے ترے عشق کا ترانہ بنی

نماز اُس کے نظارے کا اک بہانہ بنی

تحریر فاطمہ بلوچ ‎

ZalmayX ‎

@FLSARM

Fatima Baloch

فری لانس رائٹر اور بلاگر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: