نہاگدرہ ضلع اپر دیر

دنیا کی نظروں سے اوجھل خوبصورت وادی اپر دیر نہاگ درہ واڑی

تحریر : سید اجمل نگار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیر میں موجود وادی روط کے حسین فطری نظارے آج بھی اپر دیر واڑی اور پاکستان سمیت دنیا بھر کے سیاحوں کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ وقت آن پہنچا ہے ان حسن قدرتی مناظر کو دنیا میں آشکار کرنے کے لئے حکومتی سطح پر اقدامات کئے جانے چاھئے وگرنہ وزیر اعظم عمران کا سیاحت کے شعبے کو ترقی دینے کا خواب ادھورا ثابت ہوسکتا ہے۔

اپنے اندر کئی ایسے پر فضا و دلفریب نظارے، بشمول پہاڑ، دریا، جھیلیں، ندی نالے، آبشار، برفیلی چوٹیاں اور سر سبز و شاداب میدان سموئے ہوئی ہے جنہیں دیکھ کر سیاحوں پر یقینا سحر کی سی کیفیت طاری ہوتی ہے۔ تاہم جیسے جیسے رابطے بڑھ رہے ہیں دنیا سے اوجھل نت نئے حسین نظارے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن رہے ہیں۔ ایسے میں وادی روط کے فطری مناظر بھی موبائل کیمروں کی آنکھ میں محفوظ ہوکر سوشل میڈیا میں وائرل کئے جا رہے ہیں۔ یقیناً ہر سیاح اپر دیر کی ان حسین و جمیل وادیوں سے خوب محظوظ و لطف اندوز ہوتے ہیں اور ان نظاروں کو اپنے انداز میں دنیا تک پہنچاتے ہیں ۔

اگر کوئی شاعر کا گزر یہاں سے ہوا تو اپنی شاعری کے ذریعے ان خوبصورت وادیوں کی تعریف و توصیف کرتے نظر آئیگا۔ وی لوگر یا میڈیا سے منسلک سیاح اپنی ویڈیوز اور رپورٹس میں خوبصورتی کے رنگ رنگتے ہیں ۔مصنف یا کالم نگار اپنے قلم سے ان وادیوں کی توضیح و تشریح کریں گا اور تمام شعبہ زندگی سے منسلک سیاح اپنے مزاج اور پیشے کے تحت اس خطہ سے پسندیدگی کا اظہار کرتے نظر آئیں گے
وادی روط اور سکائی لینڈ کے جنوب اور استور کے مشرق میں اپنی خوبصورتی ذیب تن کیے ہوئی ہے دنیا کی چھت سکائی لینڈ میں قدم رکھ کر تقریباً دو گھنٹے مذید ڈرائیو کریں تو اس حسین وادی کے نظاروں سے بھرپور لطف اندوزی حاصل کرسکتے ہو۔
وادی روط کو اپنے حسن و جمال میں دیگر وادیوں سے انفرادیت کا عنصر نمایاں ہے۔
دسمبر سے اپریل کے مہینے تک یہ وادی مکمل سفید چادر اوڑھیں اپنا جلوہ دیکھا رہی ہوتی ہیں تو ان مہینوں میں ہر طرف سفیدی ہی سفیدی نظر آئیں گی۔
جب ماہ اپریل کا آغاز ہوتا ہے یہ وادی سفید چادر کو پلٹا کر سر سبز و شاداب رنگ میں رنگتی نظر آئیں گی اور یہ سلسلہ اگست کے ماہ تک ہوتا ہے ۔
گرینری نما ماحول کا سما اپریل سے اگست کے مہینے تک ہوتا ہے جب کی
ستمبر ،اکتوبر اور نومبر کے مہینے میں یہ وادی زعفرانی رنگ میں دیکھائی دیگی۔ان مہینوں میں پت جھڑ کا موسم ہوتا ہے جس سے وادی میں زعفرانی رنگت سموئے ہوئے نظر آئیں گی۔
اس وادی میں خوبصورت جھیلیں ہے تو کہیں دل موہ لینے والی آبشاریں ،تو کہی لہلہاتے کھیت ، تو کہی گھنے جنگلات ،تو کہی سے صاف و شفاف چشمے کا پانی ، تو کہی کھلے میدان اور برفیلی بلند وبالا پہاڑیں یہی خوبصورتی کا امتزاج وادی روط میں ہی نمایاں ہے۔
لیکن افسوس صد افسوس یہاں کے باسی سمیت وقت کی حکومتوں نے اس کی خوبصورتی کی طرف دلی توجہ ہی نہیں دی جس کی وجہ یہ وادی اپنے حسن میں مست ضرور ہے جب کہ روڈ ویران ؟.
کیونکہ یہاں کے باسی زندگی کی بنیادی ضروریات کا شکوہ شکایت کر تے ہوئے اس وادی سے منہ چرا کر اپنی معیار زندگی کو بہتر کرنے کے لیے دیگر شہروں کی طرف رخ کرہے ہیں خیر ان کے مطالبات حق بجانب ہیں اکیسویں صدی میں رہ کے بھی یہاں کے باشندے زندگی کی بنیادی ضروریات سے یکسر محروم ہیں۔ اس لیے لوگ ہجرت کرنے پر مجبور ہیں۔
اگر حکومت وقت اور پاک آرمی کی کوارڈینیشن سے ہی وادی کو سیاحت کا ہب( Hub) بنایا جاسکتا ہے جس سے نہ صرف یہاں کے لوگوں کی معیار زندگی بہتر ہوگی بلکہ ملکی خزانے میں خطیر رقم بھی میسر ہو گی اور اپر دیر میں سیاحت کا نیا باب کا آغاز بھی ہوگا۔۔
کیونکہ وزیر اعظم عمران خان سمیت وزیر اعلیٰ محمود خان اور موجودہ ایم این اے،اور ایم پی اے صبحت اللہ خان اور ثناءاللہ سیاحت کو فروغ دینے کے وعدہ وعید تو زور شور سے کرہے ہیں اگر حکومت وقت اس وادی کی طرف بھی دلی توجہ دیں تو یہ وادی بھی ٹورسٹ پوائنٹ بن جائے گی۔۔حکومت کو چاہیے ٹھوس پالیسی واضع کر کے نان لوکل سیاح کے لیے اوپن کیا جائیں تاکہ سیاح بھی وادی کے حسین نظاروں سے بھرپور لطف اٹھا سکیں ۔۔۔

کاپی رائٹ

@nigar_840

Jabbli Views
فالو کریں

Jabbli Views

جبلی ویوز ایک میگزین ویب سائٹ ہے، یہ ایک ایسا ادارہ ہے جس کا مضمون نگاری اور کالم نگاری کو فروغ دینا اور اس شعبے سے منسلک ہونے والے نئے چہروں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے،تاکہ وہ اپنے ہنر کو نکھار سکیں اور اپنے خیالات دوسروں تک پہنچا سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: