7 ستمبر 1974 یومِ ختم نبوت ﷺ

ستمبر ۷، یوم ختم نبوت اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو پیدا فرمایا اور اسے اشرف المخلوقات بنایا۔ تمام انسانوں کو عقل عطاء فرما کر اشرف المخلوقات کا درجہ عطاء فرمایا کیوں کہ باقی مخلوقات اور انسان میں اسی عقل و شعور کا فرق ہے جس سے انسان صحیح غلط میں فرق کر کے اپنے لیے بہتر فیصلے کر سکتا ہے۔اور بہتر فیصلے عقل و شعور سے ہی ہوتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:وَ مَنْ یُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا كَثِیْرًاؕ-وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ(سورۃ البقرة ۲۶۹)” اور جسے حکمت و دانائی مِلی اُسے بہت بھلائی ملی اور نصیحت نہیں حاصل کرتے مگر عقل والے”

اور نبی محترم حضرت محمد ﷺ خاتم النبیین نے فرمایا:من يرد الله به خيرا يفقهه في الدين۔ (صحیح البخاری71)یعنی اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں تو اسے دین کی سمجھ بوجھ عطاء فرما دیتے ہیں۔جی ہاں یہ عقل و شعور ہی ہے جس سے انسان اپنے رب کو پہچانتا ہے اور اسکے بھیجے گئے حق کو سمجھ کر اس حق کی راہ پر گامزن ہوتا ہے۔

بنی نوع انسان کی تخلیق کے بعد سے کچھ عرصہ تک تو سارے انسان ایک ہی قوم یعنی اللہ کے ماننے اور پہچاننے والے رہے تھے پھر جب تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا اور شیطان نے اپنا شَر پھیلا کر کچھ انسانوں کو سیدھی راہ سے ورغلایا تو اللہ تعالیٰ نے انسان کی رہنمائی کے لیے وقتاً فوقتاً انبیاء کرام علیہم السلام مبعوث فرمائے۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہوا ہے.فَبَعَثَ اللّہُ النَّبِیِّیْنَ مُبَشِّرِیْنَ وَمُنذِرِیْنَ وَأَنزَلَ مَعَہُمُ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ لِیَحْکُمَ بَیْْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُواْ فِیْہِ ﴿البقرہ:۲۱۳﴾پس اللہ نے نبی بھیجے جو ﴿راست روی پر﴾ بشارت دینے والے اور ﴿کج روی کے نتائج سے﴾ ڈرانے والے تھے اور ان کے ساتھ کتاب برحق نازل کی ، تاکہ حق کے بارے میں لوگوں کے درمیان جو اختلافات رونما ہوگئے تھے، ان کا فیصلہ کرے۔

اسی رشدُ ہدایت والے سلسلے میں آخری نبی حضرت محمد ﷺ ہیں۔ یعنی جو سلسلہ نبوت شروع ہوا تھا وہ آپ ﷺ کی نبوت کے ساتھ مکمّل ہو گیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی نبوت میں قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کی رہنمائی کے سارے پہلو اسی شریعت میں رکھ دیے ہیں۔ اب قیامت تک آنے والا ہر شخص اپنے مسائل کے حل کیلئے شریعت محمدی سے رجوع کرے گا تو یقینی طور پر مکمّل رہنمائی پائے گا۔ کیوں کہ خود اللہ تعالیٰ نے ہی اسکی وضاحت فرما دی ہے۔الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا المائدۃ:۴)کہ آج کے دن ہم نے تمہارا دین کامل کر دیا ہے۔ گویا قرآن شریف کو مکمل شریعت قرار دیا ہے۔اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے قیامت تک آنیوالے ہر انسان کیلئے رہنمائی کا ذریعہ کر دیا ہے اور فرمایا کہ اب یہ سلسلہ نبوت بھی مکمّل ہو گیا ہے۔ اب آپ ﷺ کے بعد کوئی اور نبی نہیں آئے گا۔ چنانچہ ارشاد ہوا،مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠(۴۰)محمد (ﷺ) تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے آخر میں تشریف لانے والے ہیں اور اللہ سب کچھ جاننے والاہے۔اسی طرح کچھ احادیث میں بھی ذکر آیا ہے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه، أنَّ رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ((إنَّ مَثَلي ومثلَ الأنبياء منْ قَبلي، كَمَثَلِ رجلٍ بنى بَيْتًا، فأحْسَنَهُ وأجْمَلَهُ، إلا مَوْضعَ لَبِنَةٍ من زاوية، فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفونَ بِهِ، ويَعْجَبونَ له، ويقُولونَ: هَلَّا وُضِعَتْ هذه اللَّبِنَة؟!))، قال: ((فأنا اللَّبِنَة، وأنا خاتمُ النَّبيِّينَ))؛ رواه الشيخان، واللفظ للبخاري سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری مثال اور پیغمبروں کی مثال ایسی ہے، جیسے ایک شخص نے ایک محل بنایا نہایت عمدہ اورخوبصورت۔ لوگ اس کے گرد پھرنے لگے اور کہنے لگے: ہم نے اس سے بہتر عمارت نہیں دیکھی مگر ایک اینٹ کی جگہ خالی ہے، اور میں وہی اینٹ ہوں۔“ (جس سے نبوت کا محل پورا ہو گیا اب دوسرا کوئی نبی نیا میرے بعد نہ ہو گا)۔ 14930 – 5959 دوسری جگہ ارشاد فرمایا:حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” ” إِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدْ انْقَطَعَتْ فَلَا رَسُولَ بَعْدِي وَلَا نَبِيَّ “’’اب نبوت اور رسالت کا انقطاع عمل میں آ چکا ہے لہٰذا میرے بعد نہ کوئی رسول آئے گا اور نہ کوئی نبی۔‘‘ (ترمذی شریف) تو قارئین کرام ختم نبوت کے اتنے واضح دلائل موجود ہیں کہ اس میں کسی قسم کے شک و شبہ باقی نہیں رہتا کہ محمد ﷺ خاتم النبیین ہیں اور آپﷺ️ کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا۔ لیکن پھر بھی جھوٹے لوگ اُٹھ کر نبوت کا دعویٰ کر دیتے ہیں جیسے کہ کذاب مرزا غلام قادیانی نے کیا تھا۔

کچھ لوگ اس کے ساتھ چل دیئے جو کہ باقی مسلمانوں کو بھی ورغلانے میں لگ گئے۔ ایسا ہی ایک واقعہ پاکستان میں ہوا جو کہ قدرت کی طرف سے ختم نبوت قانون کا بیش خیمہ ثابت ہوا۔پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں 22 مئی 1974 کو نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء تفریحی و معلوماتی دورہ پر بذریعہ ریلوے پشاور جا رہے تھے کہ گاڑی چناب نگر اسٹیشن پر رکی جہاں پر کچھ قادیانی اپنا کفریہ لٹریچر تقسیم کر رہے تھے تو وہ لٹریچر لیکر ان طلباء کے پاس بھی آگئے۔ جب طلباء نے قادیانی لٹریچر دیکھا تو اسے لینے سے انکار کر دیا اور ختم نبوت زندہ باد کے نعرے بھی لگائے۔جس پر قادیانی رسوا ہو کر اسٹیشن سے چلے گئے لیکن انہوں نے اس کا بدلہ لینے کا فیصلہ کر لیا اور طلباء کی واپسی پر انہوں نے غیر قانونی طور پر ٹرین کو رکوا کر طلباء پر بے انتہا تشدد کیا۔اس حملے کے نتیجے میں پہلے طلباء نے ملک گیر ہڑتال کی اور پھر مذہبی جماعتیں بھی میدان میں آ گئیں اور ختم نبوت قانون کیلئے سب مسلمانوں نے ملکی سطح پر جدو جہد شروع کر دی۔

یہ سلسلہ بڑھتا ہوا وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی ایماء پر پارلیمنٹ میں پہنچا جہاں پوری پارلیمنٹ کو خصوصی کمیٹی میں بدل کر اس پر تحقیقات کا حکم دے دیا اور ساتھ میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کہا کہ پارلیمنٹ جو بھی فیصلہ کرے گی ہمیں منظور ہوگا۔اس سلسلے میں 30 جون 1974 سے 24 اگست تک کوئی 28 قومی اسمبلی کے اجلاس ہوئے جس میں فریقین یعنی ایک طرف تمام مسلمان جماعتوں اور دوسری طرف قادیانیوں نے اپنے اپنے دلائل پیش کیے۔ 24 اگست کو وزیراعظم نے اس کیس کے فیصلے کی تاریخ 7 ستمبر مقررہ کی جس پر پہلے قومی اسمبلی میں قرارداد 106 میں سے 106 ووٹ قادیانیت کے خلاف ووٹ سے پاس ہوئی اور پھر اسی دن 7:30 شام سینیٹ سے بھی یہ بل مکمل حمایت کے ساتھ منظور ہوا۔

اس نئے قانون کے مطابق تمام قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا اور ان کے دیگر گروہ جیسے لاہوری و احمدی ہیں انکو بھی اسلام سے خارج قرار دیا گیا۔ اب اس قانون کے تحت قادیانی اپنی عبادت گاہ کو مسجد نہیں کہہ سکتے، اپنے کفر کی تبلیغ نہیں کر سکتے، عبادت گاہوں پر مساجد کی طرح مینار نہیں بنا سکتے اور اپنے آپ کو مسلمان بھی نہیں کہہ سکتے۔ اس قانون کی منظوری کے بعد عالم اسلام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور تمام مسلمانوں نے سجدہ شکر ادا کیا۔جس طرح 1974 میں مسلمانان پاکستان نے ختم نبوت کی حفاظت کی ہے اسی طرح آج بھی بڑھتے ہوئے قادیانی اثر ورسوخ کو روکنے کیلئے تمام غیرتمند مسلمان اپنا کردار ادا کریں اور اپنے اور اپنی آنیوالی نسل کے ایمان کی حفاظت یقینی بنائیں۔

Syed Moin uddin Shah

Syed Moin uddin Shah Ms. Management Sciences Islamia University Bahawalpur Follow his Twitter account http://twitter.com/BukhariM9‎

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: