چاند دو ٹکڑے ہونا

‏چاند دو ٹکڑے ہو گیا

ایک روز ابو جہل دوسرے سرداروں کے ساتھ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا:
“اے محمد! اگر تم سچے ہو تو ہمیں چاند کے دو ٹکڑے کرکے دکھاؤ، وہ بھی اس طرح کہ ایک ٹکڑا ابو قبیس پہاڑ پر نظر آئے اور دوسرا قعیقعان پہاڑ پر نظر آئے۔”
مطلب یہ تھا کہ دونوں ٹکڑے کافی فاصلے پر ہوں تاکہ اس کے دو ٹکڑے ہونے میں کوئی شک نہ رہ جائے۔
اس روز مہینے کی چودھویں تاریخ تھی۔ چاند پورا تھا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ عجیب فرمائش سن کر فرمایا:
“اگر میں ایسا کر دکھاؤں تو کیا تم ایمان لے آؤ گے ۔”
انہوں نے ایک زبان ہو کر کہا:
“ہاں!بالکل! ہم ایمان لے آئیں گے۔”
“آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالٰی سے دعا فرمائی کہ آپ کے ہاتھ سے ایسا ہوجائے،چنانچہ چاند فوراً دو ٹکڑے ہوگیا۔ اس کا ایک حصہ ابوقبیس کے پہاڑ کےاوپر نظر آیا، دوسرا قعیقعان پہاڑ پر، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“لو اب گواہی دو۔”
ان کے دلوں پر تو قفل پڑے تھے، کہنے لگے:
“محمد نے ہم لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا ہے۔”
کچھ نے کہا:
“محمد نے چاند پر جادو کردیا ہے مگر ان کے جادو کا اثر ساری دنیا کے لوگوں پر نہیں ہو سکتا۔”


مطلب یہ تھا کہ ہر جگہ کے لوگ چاند کو دو ٹکڑے نہیں دیکھ رہے ہوں گے۔ اب انہوں نے کہا:
“ہم دوسرے شہروں سے آنے والوں سے یہ بات پوچھیں گے۔”
چنانچہ جب مکہ میں دوسرے شہروں کے لوگ داخل ہوئے تو انہوں نے چاند کے بارے میں ان سے پوچھا، آنے والے سب لوگوں نے یہی کہا:
“ہاں ہاں! ہم نے بھی چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھا ہے۔”
یہ سنتے ہی مشرک بول اٹھے:
“بس! پھر تو یہ عام جادو ہے، اس کا اثر سب پر ہوا ہے۔”
کچھ نے کہا:


“یہ ایک ایسا جادو ہے جس سے جادوگر بھی متاثر ہوئے ہیں۔”
یعنی جادوگروں کو بھی چاند دو ٹکڑے نظر آیا ہے۔
اس پر اللہ تعالٰی نے سورہ قمر کی آیات نازل فرمائی۔
“ترجمہ: قیامت نزدیک آ پہنچی اور چاند شق ہوگیا اور یہ لوگ کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو ٹال دیتے ہیں اور کہتے ہیں، یہ جادو ہے جو ابھی ختم ہو جائے گا۔
مختلف قوموں کی تاریخ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ چاند کا دو ٹکڑے ہونا صرف مکہ میں نظر نہیں آیا تھا بلکہ دوسرے ملکوں میں بھی اس کا مشاہدہ کیا گیا تھا۔
اسی طرح ایک دن مشرکین نے کہا:
“اگر آپ واقعی نبی ہیں تو ان پہاڑوں کو ہٹادیجئے جن کی وجہ سے ہمارا شہر تنگ ہورہا ہے۔ تاکہ ہماری آبادیاں پھیل کر بس جائیں۔ اور اپنے رب سے کہہ کر ایسی نہریں جاری کرادیں جیسی شام اور عراق میں ہیں اور ہمارے باپ دادوں کو دوبارہ زندہ کراکے دکھائیں۔ ان دوبارہ زندہ ہونے والوں میں قصی بن کلاب ضرور ہو، اس لئے کہ وہ نہایت دانا اور عقل مند بزرگ تھا۔ ہم اس سے پوچھیں گے، آپ جو کچھ کہتے ہیں، سچ ہے یا جھوٹ، اگر ہمارے ان بزرگوں نے آپ کی تصدیق کردی اور آپ نے ہمارے یہ مطالبے پورے کردیئے تو ہم آپ کی نبوت کا اقرار کرلیں گے اور جان لیں گے کہ آپ واقعی اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں، اللہ تعالٰی نے آپ کو ہماری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے…جیسا کہ آپ دعوی کرتے ہیں۔”


ان کی یہ باتیں سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“مجھے ان باتوں کے لئے تمہاری طرف رسول بنا کر نہیں بھیجا گیا بلکہ میں تو اس مقصد کے لیے بھیجا گیا ہوں کہ ایک اللہ کی عبادت کرو۔
تحریر: فاطمہ بلوچ ‎@ZalmayX

Fatima Baloch

فری لانس رائٹر اور بلاگر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: