آر ایس ایس کا نظریہ اور اسکی حقیقت

آر ایس ایس بھارت کی بدنامِِ زمانہ دہشت گرد تنظیم ہے جو راشٹریہ سیوک سنگھ کا مخفف ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی اسے باضابطہ طور پر ایک دہشت گرد تنظیم تسلیم کیا گیا ہے۔ لیکن اس تسلیم شدہ امر میں بھی یہ امر نہایت قابلِ غور اور معنی خیز ہے کہ امریکہ ہو یا کوئی یورپی ملک، کسی نے بھی آج تک اِسے دہشت گردی کے عالمی قوانین کے تحت دہشت گرد تنظیموں کی اُس فہرست میں شامل نہیں کیاجو اقوام متحدہ کے چارٹر اور امریکہ کی نافذ العمل پالیسی کے تحت مرتب کی گئی ہے۔

عالمی برادری کے اس نوٹس نہ لینے کے مشن کے باعث آر ایس ایس کے تانے بانے وسیع ہی نہیں، وسیع تر ہوتے جا رہے ہیں۔ بھارت میں رہنے والے مسلمانوں پر ہی نہیں، مقبوضہ کشمیر کے ہزاروں نہتے کشمیریوں پر بھی آر ایس ایس نے اپنے بہیمانہ مظالم کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے اُس کی دہائی اب پوری دنیا میں سنائی دینے لگی ہے۔ کشمیری جس بربریت کا شکار ہیں آج کا مورخ جب بھی اُن کی مظلومیت کی داستان لکھنے بیٹھے گا تو خون کے آنسو رو دیگا۔

مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سوشل میڈیا پر ہی نہیں، بین الاقوامی میڈیا پر بھی زیر بحث ہے۔ ہر روز کی ایک نئی کہانی سامنے آتی ہے جو ساری دنیا کی توجہ کا مرکز بن جاتی ہے لیکن دنیا پریشان ہے اور نا ہی حیران۔ دنیا کے جو تجارتی اور علاقائی مفادات بھارت سے جُڑے ہوئے ہیںغالباً یہی وجہ ہے کہ کوئی بھارت کے خلاف نہیں بولتا، لیکن یہ سلسلہ کب تک چلنا ہے۔

ہر اندھیری رات کے بعد بالآخر ایک نئی صبح نے طلوع ہونا ہی ہوتا ہے۔ یقینا مظلوم کشمیریوں کی یہ شبِ تاریک بھی گزر جائیگی اور ایک روشن صبح طلوع ہو گی۔ ایسی صبح، جس میں مظلومیت کا کہیں کوئی ماتم نہیں ہو گا۔ آزادی کی نکھری اور اُجلی سحر ہو گی، جو ہمیں ہر طرف نظر آئیگی۔ہم بات کر رہے تھے آر ایس ایس کی، جس کا بھیانک چہرہ دنیا کو بار بار دکھانا اِس لیے بھی ضروری ہے کہ اُس کی ریشہ دوانیاں ہر روز بڑھتی جا رہی ہیں۔

آر ایس ایس ایک بنیاد پرست ہندو تنظیم ہے جو دنیا میں ہندو ازم کے فروغ کیلئے کام کر رہی ہے۔ اس تنظیم کا پہلا ماٹو بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی ہے۔ مختلف ذرائع او ر طریقے اختیار کر کے یہ بھارت اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو ہندو ازم کی طرف لا رہے ہیں۔ مودی سرکار نے آر ایس ایس کے ذریعے مقبوضہ وادی میں ہندوئوں کو بسانے کی سعی بھی شروع کر دی ہے تاکہ مسلمانوں کی اکثریت والے علاقے اقلیت میں بدل سکیں۔آر ایس ایس پر لبرل تجزیہ کار یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ یہ تنظیم ہمیشہ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کیخلاف استعمال ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود اس تنظیم کو ’’بین‘‘ کرنے کی سعی نہیں کی گئی۔ شاید بھارتی سرکار کے اس حوالے سے اپنے کچھ مفادات ہوں لیکن یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے اور تاریخ کا حصہ بھی کہ سابق وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے گاندھی کے قتل کے بعد آر ایس ایس پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اس سے قبل برطانوی دورِ حکومت میں بھی آر ایس ایس پر پابندی عائد کی گئی۔کیونکہ اس تنظیم کی یورپ میں دائیں بازو کی تنظیموں خصوصاً جرمن نازیوں سے وابستگی تھی۔ 1975ء اور 1977ء کے درمیان جب اندرا گاندھی وزیراعظم تھیں انہوں نے ہندوستان میں ایمرجنسی نافذ کی تو آر ایس ایس پر ایک بار پھرپابندی عائد کر دی گئی۔ دسمبر 1992ء میں آر ایس ایس کے کارکنوں نے ہی بابری مسجد کو شہید کیا تھا۔ جس پر ناصرف ہندوستان بلکہ پاکستان کے مسلمان بھی شدید غم و غصے اور اضطراب میں مبتلا رہے۔وزیراعظم نریندر مودی جب آٹھ سال کے تھے تب اس تنظیم میں شامل ہوئے اور آر ایس ایس کے ایک سرگرم رکن کی حیثیت سے اس کیلئے کام کرتے رہے۔ نریندر مودی کے قریبی رفقا اور کابینہ میں شامل بیشتر وزراء کا تعلق بھی آر ایس ایس سے ہے۔راشٹریہ سیوک سنگھ ہندوستان میں قریباً تمام اہم ہندو بنیاد پسند تنظیموں کی ’’مدر پارٹی‘‘ ہے۔ اس میں دشو ہندو، پریشند، شیوسینا اور بھارتیہ جن سنگھ شامل ہیں۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ نے پورے ہندوستان میں ہزاروں ہندو مدارس قائم کر رکھے ہیں۔ ہندوستان کے ہر اہم شہر اور قصبے میں اسکی شاخیں موجود ہیں۔ ان مراکز میں عسکریت پسندی کی تربیت اُن کے نصاب کا لازمی جزو ہے۔آر ایس ایس کے ایجوکیشن ونگ نے جولائی 2019ء میں اتر پردیش میں’’ آر ایس ایس ملٹری سکول‘‘ کے قیام کا اعلان کیا تھا جس پر لبرل بھارتیوں کی طرف سے آر ایس ایس کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک بھارتی اخبار کی رپورٹ کیمطابق تنظیم 2012ء کے بعد سے مسلسل ترقی کر رہی ہے اور اہم بات یہ ہے کہ ہندوستان کی سول سوسائٹی، بیورو کریسی، مسلح افواج، خصوصاً بھارت کی سیکورٹی ایجنسیوں میں آر ایس ایس کیلئے خاموش حمایت پائی جاتی ہے۔ ہندوستان کے پہلے آرمی چیف کوڈاندیرا نے تنظیم سے خطاب میں اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ آر ایس ایس اُنکے دل کے کتنے قریب ہے۔سمجھنے کی بات یہ ہے کہ آر ایس ایس نے ہندوستان کو انمول خدمات فراہم کی ہیں جس کے باعث انڈین سرکار بھی تنظیم کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ آر ایس ایس اقلیتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کے ساتھ عصمت دری کے واقعات میں بھی ملوث رہی ہے۔

ء2002 میں جب نریندر مودی گجرات کے وزیراعلیٰ تھے تو اُنکے حکم پر صرف تین دن میں آر ایس ایس کے کارکنوں نے دس ہزار کے قریب مسلمانوں کا قتلِ عام کیا۔ناصرف انڈین بلکہ بین الاقوامی اخبارات و جرائد کی ایسی رپورٹس موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ آر ایس ایس نے بھارتی اقلیتوں پر کس قسم کے بہیمانہ ظلم ڈھائے ہیں۔ آر ایس ایس کی ہسٹری دیکھ کر کوئی شک ہی نہیں رہ جاتا کہ وہ ایک منظم دہشت گرد تنظیم ہے۔

تحریر: محمد عثمان

Jabbli Views
فالو کریں

Jabbli Views

جبلی ویوز ایک میگزین ویب سائٹ ہے، یہ ایک ایسا ادارہ ہے جس کا مضمون نگاری اور کالم نگاری کو فروغ دینا اور اس شعبے سے منسلک ہونے والے نئے چہروں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے،تاکہ وہ اپنے ہنر کو نکھار سکیں اور اپنے خیالات دوسروں تک پہنچا سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: