سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کی رخصتی

‏سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا کی رخصتی

حضرت فاطمہ ؓ سے عقد کی درخواست سب سے پہلے حضرت ابوبکر ؓ اوران کے بعد حضرت عمر ؓ نے کی تھی؛ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ جواب نہیں دیا، اس کے بعد حضرت علی ؓ نے خواہش کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، تمہارے پاس مہر ادا کرنے کے لیے کچھ ہے؟ بولے ایک گھوڑے اور ایک ذرہ کے سوا کچھ نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گھوڑا تو لڑائی کے لیے ہے البتہ ذرہ کو فروخت کردو، حضرت علی ؓ نے اس کو حضرت عثمان ؓ کے ہاتھ چارسو اسی درہم میں بیچا اور قیمت لاکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال ؓ کو حکم دیا کہ بازار سے عطر اورخوشبو خرید لائیں اور خود نکاح پڑھایا اور دونوں میاں بیوی پر وضو کا پانی چھڑک کر خیر وبرکت کی دعا دی

نکاح کے تقریباً کچھ ماہ بعد باقاعدہ رخصتی ہوئی، اس وقت تک حضرت علی ؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے، اس لیے جب رخصتی کا وقت آیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ایک مکان کرایہ پر لے لو؛چنانچہ حارث بن النعمان کا مکان ملا اورحضرت علی ؓ ملکہ جنت کو رخصت کراکے اس میں لے آئے۔

حضرت سیدہ زہرا ؓ کو اپنے گھر سے جو جہیز ملا تھا اس کی کل کائنات یہ تھی، ایک پلنگ، ایک بستر، ایک چادر، دوچکیاں اورایک مشکیزہ، عجیب اتفاق ہے کہ یہی چیزیں حضرت فاطمہ ؓ کی زندگی تک ان کی رفیق رہیں اورحضرت علی کرم اللہ وجہہ اس میں کوئی اضافہ نہ کرسکے۔

ازدواجی زندگی: جگر گوشۂ رسول، حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ بتول رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا  نکاح کے بعد جب حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ، شیرِ خدا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْـــہ کے دولت خانہ میں  تشریف لائیں تو گھر کے تمام کاموں  کی ذمّہ داری آپ پر آ پڑی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے اس ذمّہ داری کو بڑے اَحسن انداز میں نبھایا اور ہر طرح کے حالات میں اپنے عظیم ُ المرتبت شوہر کا ساتھ دیا، 

گھریلو کاموں  کی تقسیم: حضرتِ سیِّدُنا ضَمْرَہ بن حبیب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُمورِ خانہ داری مثلاً چکی پیسنے، جھاڑو دینے، کھانا پکانے کے کام وغیرہ اپنی شہزادی حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمۃُالزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے سپُرد فرمائے اور گھر سے باہر کے کام مثلاً بازار سے سودا سلف لانا، اُونٹ کوپانی پلاناوغیرہ حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے ذمّہ لگا دیئے۔

حیدرِ کرَّار، شیرِ خدا حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاور رسولُ اللہ کی شہزادی ،جنّتی عورتوں  کی سردارحضرت ِسیِّدَتُنا فاطِمۃُالزَّہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے گھر میں  کام کے لئے خادم نہیں  رکھا بلکہ اپنے گھر کے کام خود کیا کرتی تھیں ۔ ہو سکتا ہے کہ کسی کے ذہن میں  آئے کہ وہ اور دَور تھا اب اور زمانہ ہے۔ تو سنئے کہ اس دَور کی عظیم روحانی شخصِیَّت شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت حضرتِ علَّامہ مولانا محمد الیاس عطّارؔ قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے گھر میں  کبھی کوئی کام کرنے والی نہیں رکھی گئی،

حضرت علی ؓ کی زندگی نہایت فقیرانہ وزاہدانہ تھی، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے، ذاتی ملکیت میں صرف ایک اونٹ تھا جس کے ذریعہ سے اذخر(ایک قسم کی گھاس) کی تجارت کرکے دعوت ولیمہ کے لیے کچھ رقم جمع کرنے کا ارادہ تھا

تحریر فاطمہ بلوچ ‎@ZalmayX


Fatima Baloch

فری لانس رائٹر اور بلاگر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: