سب سے اہم ادارے

سب سے اہم ادارے :

دوستو کسی بھی ملک کو خوش اسلوبی سے چلانے،ترقی دینے اور اس کو دشمن عناصر سے محفوظ رکھنے کے لئے چار قوتوں کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ مندرجہ ذیل ہیں:
1 اقتدار اعلیٰ یا حکومت
2 فوج
3 پولیس
4 خفیہ تنظیم یا انٹیلجنس ایجنسی
دوستو اگر یہ چاروں ارکان باہم مربوط ہوں تو اس ملک کو کوئی دشمن شکست نہیں دے سکتا نا ہی اس ملک میں کسی قسم کی کوئی غیر قانونی سرگرمی پروان چڑھائی جا سکتی ہے۔ حکومت ،فوج اور پولیس کے بارے میں بتانے کی ضرورت نہیں کیونکہ ان ارکان کو سب ہی جانتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ ارکان کیسے کام کرتے ہیں یا ان کا طریقہ کار کیا ہوتا ہے عام طور پر ہمارے ہاں سب سے اوپر حکومت کو سمجھا جاتا ہے یا فوج کو کہ وہ ملک کا انتظام احسن انداز میں چلانے کے لئے سب سے بہتر انداز میں کام کرتے ہیں فوج ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرتی ہے جب کہ حکومت یا اقتدار اعلیٰ ملک کے لئے بجٹ آئین اور دیگر سہولیات فراہم کرتی ہے۔ پولیس ملک کے اندر موجود ہوتی ہے اور اس بات کی یقین دہانی کرواتی ہے کہ قوانین کی پاسداری کی جائے اور قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں عمل میں آتی ہے اور اس طرح ملک کا اندرونی نظام بھی مربوط اور اعليٰ رہتا ہے مگر سب سے اہم اور بنیادی ادارہ جو کسی ملک کا ہوتا ہے وہ ہوتا ہے خفیہ تنظیم یا انٹیلجنس ایجنسی یہ ایک ایسا ادارہ ہوتا جو پورے ملک کا انتظام چلا رہا ہوتا ہے اور اس ادارے کو پورے ملک کے طول و عرض کی پوری پوری خبر ہوتی ہے اور یہ ادارہ ملک کے سیاہ و سفید کا مالک ہوتا ہے یعنی ہم تو حکومت کوہی سب سے اوپر کا ادارہ سمجھتے ہیں مگر یہ ادارہ حکومت سے بھی زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے خفیہ تنظیم یا انٹیلجنس ایجنسی کا تعارف مندرجہ ذیل ہے:
خفیہ تنظیم یا انٹیلیجنس ایجنسی کا تعارف
اس ادارے کا سب سے بنیادی مقصد ملک کے طول و عرض کی معلومات جمع کرنا اور ملک کے اندر ہر سرگرمی کی خبر رکھنا اس ادارے کا دائرہ کار صرف ملک کی سرحد تک ہی محدود نہیں ہوتا بلکہ ان کا اصل کام تو بیرون ملک میں سرائیت کرکے وہاں کی معلومات حاصل کرنا ہوتا ہے اور وہ اس بات کی خبر لیتے ہیں کہ آیا کہ یہ ملک کہیں ہمارے ملک کے خلاف کوئی سازش تو نہیں کررہا اور خاص کر دشمن ممالک میں ان کا دائرہ کار بہت وسیع ہوتا ہے اور ایک ایک لمحے کی ان کو خبر ہوتی ہے ان کے جاسوسوں کا اندازہ لگانا مشکل ہی نہیں تقریباً نا ممکن بھی ہوتا ہے یہ کسی بھکاری کے روپ میں ہوسکتا ہے یا ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کے علاقے کا خاکروپ بھی جاسوس ہو یا رات کو پہرہ دینے ولا بھی جاسوس ہوسکتا ہے رکشے کا ڈرائیور بھی ہوسکتا ہے اصل بات تو یہ دوستوں کو کیا اپنے خونی رشتہ داروں کو بھی نہیں بتاتے کہ ہم کیا کرتے ہیں اور کہاں کام کرتے ہیں اتنا منظم ہوتا ہے یہ ادارہ
ابتدا یا تاریخ
دوستو یہ تو تھا انٹیلجنس ایجنسی کا مختصر تعارف تو اب اس ادارے کی تاریخ میں اہمت کا جائزہ لیتے ہیں کہ یہ ادارہ کتنا پرانا ہے یا اس ادارے کو سب سے پہلے کس ملک نے یا کس سلطنت نے سب سے پہلے ایجاد کیا تو دوستو جیسا کہ آج کل کے جدید دور میں مغرب کی اندھی تقلید میں تقریباً ہر اچھی چیز یا اچھے کام کا سہرا مغربی یا یورپی اقوام کے سر ہی سجایا جاتا ہے کہ یہ کام سب سے پہلے انھوں نے ہی کیا ہوگا تو شاید آپ سوچ رہے ہونگے کہ اس قدر اہم اور بنیادی ادارہ بھی یورپی اقوام نے ہی ایجاد کیا ہوگا تو آپ بالکل غلط ہیں یہ ادارہ اسلام کے آغاز میں ہی قائم کردیا گیا تھا گو کہ اس کا الگ نام اور حیثیت نہیں تھی مگر یہ ادارہ کسی نا کسی طرح ملت اسلامیہ میں موجود ضرور رہا جس کی مدد اے ہمارے خلفاء و سلاطین کو سلطنت کے اندر چپے چپے کی خبر رہتی تھی تقریباً کوئی بھی اسلامی سلطنت ایسی نہیں تھی جس میں جاسوسی کا نظام نا ہو مثال کے طور پر عباسی خلیفہ ہارون الرشید نے اپنے وقت میں تقریباً چھ ہزار بوڑھی عورتوں اور بوڑھے مردوں کو ملک کے گوشے گوشے میں پھیلا رکھا تھا جو اس کو ملک کے تمام حالات سے باخبر رکھتے تھے ملتِ اسلامیہ کے دور عروج میں مسلم جاسوس دنیا کے کونے کونے میں موجود تھے تو ان یورپیوں کو تو ہوش ہی جا کے اٹھارہویں صدی میں آیا ہے اس سے پہلے ان کو شراب اور غلیظ کاموں کے علاوہ آتا ہی ہیا تھا تو اس قدر عمدہ ادارہ اسلام ہی کے فرزندان کی ایجاد ہواکتی ہے نا کہ یورپیوں کی اور اب بھی ہر ملک کا ایک ادارہ ہوتا ہے اب جدید دور میں انٹیلجنس ایجنسی کہتے ہیں یہ ہر ملک کا سب سے مین ادارہ ہوتا ہے

صابر حسین

@SabirHussain43

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: