حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے کا حال

حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے کا حالتحریر اکرام اللہ نسیم حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے پروردگار عالم نے اپنے بڑے احسان و کرم کے ساتھ حضرت سیدنا آدم علیہ السلام کی پیدائش کا ذکر کیا چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہےوَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةًؕ-قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَۚ-وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَؕ-قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَاور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا: میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں تو انہوں نے عرض کیا : کیا تو زمین میں اسے نائب بنائے گا جو اس میں فساد پھیلائے گا اور خون بہائے گاحالانکہ ہم تیری حمد کرتے

ہوئے تیری تسبیح کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں ۔

فرمایا:بیشک میں وہ جانتاہوں جو تم نہیں جانتےجب فرشتوں نے یہ حکم باری تعالیٰ سنا معلوم کرلیا کہ آدم علیہ السلام نے خدا کا بڑا برگزیدہ اور نیک بندہ ہوگا کیونکہ اللہ رب عزت نے حضرت سیدنا آدم علیہ السلام کے تخلیق سے پہلے ہی اللہ پاک نے اسکا تذکرہ ملائکہ کی مجلس میں کیا دوسرا یہ کہ وہ اللہ رب العزت کا نائب بن کر دنیا میں حکومت کرے گا مگر فرشتوں کو یہ بات معلوم ہوئی کہ اسکا خمیر اور مادہ ایسے اجسام الطبائع سے بنایا جائے گا

جن سے قوت شہویہ اور غضبیہ بھی صادر ہونگے جس سے خومخواہ فسادات ظاہر ہونگے اسکے بعد فرشتوں نے رب تعالیٰ سے انتہائی عاجزی کیساتھ سوال کیا کہ ہم آپکی تسبیح و تقدیس کے لیے کافی ہے ہمارے میں مادہ شہویہ اور غضبیہ بھی موجود نہیں اس پر رب تعالیٰ نے فرمایا کہ جو کچھ مجھے معلوم ہے وہ آپ کو معلوم نہیں

اس سوال وجواب کو اللہ جل جلالہ نے قرآن مجید میں یو بیان فرمایاوَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةًؕ-قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَۚ-وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَؕ-قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مالاتعلمون

اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا: میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں تو انہوں نے عرض کیا : کیا تو زمین میں اسے نائب بنائے گا جو اس میں فساد پھیلائے گا اور خون بہائے گاحالانکہ ہم تیری حمد کرتے ہوئے تیری تسبیح کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں( یہاں تک فروشتوں کا سوال تھا آگے اللہ تعالیٰ نے جواب دیا) فرمایا:بیشک میں وہ جانتاہوں جو تم نہیں جانتےخلیفہ کا یہ مطلب نہیں کہ ہے درپے تمام انبیاء کرام خلیفہ رہیں گے

فرشتوں نے اتجعل حسد بغض کے طور پر نہیں کہا بلکہ فرشتے جنات کے حالات سے واقف تھے انسان دل کے اندر ہر شئے کی خواہش کرسکتا ہے مگر فرشتے نہیں وہ ان خواہشات سے پاک ہےلیکن اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو جواب دیا کہ باوجود انسان میں فسادات ہونے کے مصلحتیں بھی تو ہیں وہ میں ہی جانتا ہوں تمہارا علم وہاں تک نہیں پہنچ سکتا میں جانتا ہوں ان میں انبیاء صدیقین بھی ہونگے انبیاء شہداء بھی ہونگے عابد ذاکر اولیاء نیکوکار ابرار مقرب بارگاہ الٰہی ہوں گے اور علماء صلحاء متقی پرہیز بھی ہونگے علماء مجاہدین بھی ہونگے

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پہلے زمین پر جنات کئی ہزار سال حکومت کرتے رہے سب سب زمین پر قابض تھے جیوانات نباتات سے نفع اٹھاتے تھے آسمان پر چڑھ جاتے تھے پھر جنوں نے فساد مچایا خون ریزی کی پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ جنات کو زمین سے دور کردو رسالہ ان آلودگی سے زمین پاک ہو جائے پھر فرشتوں نے خدا کے موافق مطابق جنوں کو مار مار کر جنگوں اور پہاڑوں جزیروں تک محدود کردیا

ٹویٹر اکاؤنٹ ہینڈل

@realikramnaseem

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: