اندھیری رات کا مسافر

اندھیری رات کے مسافر دن کا آغاز گرم اولے برساتا ہوا سورج آگ کی تہہ میں لپٹی ہوئ زمین آگ کے شعلوں میں سے گزرتی ہوئی ہوا سے ہوا۔جب ہوا نازل ہوتی ہے یا نازل کی جاتی ہے ہر سر سبز چیز راکھ میں تبدیل ہونے کے قریب پانی گرم بخارات میں تبدیل ہونے کے قریب ہر زندہ جسم اپنے اختتام کے قریب۔

لوگ تباہ ہونے شروع ہوتے ہیں قیامت دیکھنے کو ملتی ہے۔ابھی تو دن کا آغاز تھا دنیا کا امتحان تھا نفسی نفسی کا عالَم تھا زندہ رہنا مشکل ہر سانس زندگی کے وقت کی معیاد کو بڑھانے کی بجائے کم کرنے کے مترادف۔عجیب دنیا تھی جو خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی عجیب لوگ تھے جو نام تو انسان لیکن کردار میں چنگیز خاں کے باپ تھے ہٹلر کے باپ تھے ہنی بال کے باپ تھے ہر ظالم سے بڑھ کر ظالم تھے۔وہ اتنے طاقتور تھے ظلم کرنے کیلئے وقت کی رفتار میں اضافہ کر دیا گیا ظلم میں اضافہ کر دیا گیا۔

ہر زندہ چیز ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئ انسانوں نے پہاڑوں میں پناہ لی۔بے گھر کئے گئے مال متاع چھین لیا گیا ظلم کے پہاڑ توڑ دئے گئے انسان کو اپنی شناخت چھین جانے کا خطرہ لاحق ہوا۔وقت کی رفتار میں اضافہ ہوا آگ میں لوگ جلنے شروع ہوئے دنیا خوش ہوئ باہر کی دنیا کے لوگ خوش ہوئے۔

ایک خواب تھا ایک حقیقت تھی ایک پہاڑ تھا ایک میدان تھا ایک امید تھی ایک نوید تھی اِسی نوید نے انسانوں کو زندہ رکھا ایک قوت دی ایک مزاحمت عطا کی۔۔لوگ بے گھر ہو ہوچکے تھے مصنوعی آسمانی آگ ابھی بھی برسائ جا رہی تھی ہجرت میں موجود قافلوں پر حملہ ہو چکا تھا ماسوائے چند مویشی اور خون میں لت پت انسانوں کے سوا سب ختم ہوچکا تھا۔

مال دولت کی لالچ دی جا چکی تھی لوگ ایک سخت جال میں پھنسائے جا چکے تھے۔مزاحمتی لوگوں کو دنیا سے الگ تھلگ اندھے کوئنے میں پھینکا جا چکا تھا دنیا خاموش تھی اندھی تھی بہری تھی ظالم تھی قاتل تھی۔ طاقتور ممالک اس ظلم کی داستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ ملا رہے تھے ان کا ایک ظالم بلاک تشکیل دیا جا چکا تھا خوش ہو رہے تھے کیونکہ انسان قتل ہو رہے تھے اپنا انجام بھول چکے تھے اپنا زوال بھول چکے تھے سارا دن یہی ظلم چلتا رہا انسان قتل ہوتے رہے جانور تک شرمندہ تھے۔دن کا زوال شروع ہوا طاقتوروں کا زوال شروع ہوا عرصہ دراز سے مظلوم لوگوں میں جذبہ حریت میں اضافہ ہوا سنگلاخ پہاڑوں میں پناہ گزین لوگ آزادی کیلئے باہر نکلے اُن کے حوصلے پست ہوچکے تھے لوگ ابھی بھی آزادی کیلئے میدان میں موجود تھے وہ تمام حربے استعمال کر چکے تھے ناکام تھے نا امید تھے واپسی کی راہ دیکھنے میں مصروفِ عمل تھے۔

زوال سامنے تھا شکست سامنے تھی شرمندگی استقبال کیلئے صفِ اوّل میں کھڑی مسکرا رہی تھی۔رات اندھیری ہوچکی تھی حریت پسند انسانوں کا برفانی نوکیلے سنگلاخ وادیوں سے گزرنا بہت مشکل اور خطرہ سے خالی نہ تھا۔جذبہ آزادی سے مصنوعی آسمانی آگ بجھائ جا چکی تھی نمی آنا شروع ہوئ زندگی واپس لوٹنا شروع ہوئ۔میدان میں آئے حملہ کیا گوریلا جنگ لڑی گئ ظالم اور مظلوم کے درمیان براہ راست جنگ کا آغاز ہوا عرصہ دراز سے وہ ابھی بھی جنگ کے اصولوں سے نا واقف تھے مایوس تھے زندگی امن اور سکون سے جینا چاہتے تھے۔

جب اِن پر چاروں اطراف سے حملہ ہوا چند مارے گئے چند پکڑے گئے چند بے ہوش ہوگئے۔دنیا کو ہوش آیا اخلاقیات یاد آئیں اصول و قوانین یاد آئے۔طاقت مغلوب ظالم مغلوب دنیا مغلوب نام نہاد فلسفہ مغلوب تمام تباہی اور طاقت کی علامت ہتھیار مغلوب تمام منصوبے مغلوب۔مغلوب ہو چکے تھے مورچے چھوڑ چکے تھے شکست قبول کر چکے تھے شرمندہ کئے جا چکے تھے طاقت اور تمام منصوبے زمین میں دفن ہو ہوچکے تھے۔اب وقت ہے خوشحالی کا امن و سلامتی کا دنیا کو پیغام دینے کا۔اندھیری رات کے مسافر ہمیشہ خوش رہیں آباد رہیں قوانین پر قائم و دائم رہیں ظالموں کیلئے آہنی دیوار اور مظلوموں کیلئے امید بنے رہیں اور جذبہ حریت زندہ رہے امن کی جیت ہو انسان کی جیت ہو

@ShahabSaqibKhan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: