(عظیم حریت راہ نما (حصہ اول

‏عنوان: عظیم حریت رہنما(حصہ اول)
:ٹویٹر ہینڈل
‎@HarisMalikzada:

سن 1947ء میں  بھارت نے ریاست جموں کشمیر   پر فوجی جبری  قبضہ کر لیا جو کہ مسلم اکثریتی ، پاکستان کے ساتھ الحاق کرناچاہتے تھے۔ بھارتی فوج سے آزادی حاصل کرنے کے لیےکشمیری عوام  کے ساتھ مل کر مختلف حریت رہنما کئی دہائیوں سے   جانثاری اور بہادری کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بن کر عظیم اور ناقابلِ فرموش جدوجہد کی کہ بغیر کسی اسلحہ و ہتھیا ر کے بھارتی فوج کو ناکو چنے چبوادیےلیکن اسلام ، پاکستان اور جموں کشمیر کی آزادی کے لیے ضمیر کا سودا نہیں کیا۔ آج میں انہیں عظیم و بہادر حریت رہنما کا ذکر کرو ، جن پر ظلموں ستم کے پہاڑ توڑ ڈالے، گھروں میں نظر بند کیا، جیلوں میں قید کیا، مارا پیٹا گیا وغیرہ ہر طرح کا ظلم کیا لیکن ان کا آزادی کا حوصلہ  اور امید کو ختم کیا کم بھی نہ کر سکے ، ویسے تو کئی جموں کشمیر کے رہنما   تھے لیکن اکثر ان میں سے وقت آنے پر ذاتی مفاد کے لیے ظالم بھارتی فوج سے ہاتھ ملا لیا اور مقبوضہ جموں کشمیر پر کٹھ پتلی حکومت کے طور پر بیٹھ گئےان کٹھ پتلی اور ضمیر فروش رہنماؤں میں  شیخ عبداللہ،  فاروق عبداللہ،عمر عبداللہ،محبوبہ مفتی،مفظر حسین بیگ ،عبدالرحمان ویری،ساجد غنی لون،محمد یوسف تاریگامی وغیرہ کئی اور شامل ہیں موجودہ وقت میں اسے انہیں ” گپکار  گینگ “کا نام سے جانا جارہا ہے، جنہوں نے مقبوضہ جموں کشمیر کی آزادی کی تحریک اور  امید کو نقصان پہنچایاہے، لیکن میں یہاں صرف عظیم حریت رہنما  کا ذکر کرو گاجنہیں قیامت تک یاد رکھاجائے گا۔

عظیم حریت رہنماؤں کی تصاویر آپ آرٹیکل سے پہلے آویزں دیکھے سکتے ہیں جن کی ترتیب یوں ہے:

٭ اوپر  دائی طرف سے مسرت عالم، آسیہ اندرابی، سید علی گیلانی۔

٭نیچے دائی طرف سے  یاسین ملک، میر واعظ عمر فاروق، شبیر احمد شاہ۔

سید علی گیلانی:-

سید علی گیلانی سب سے بڑے ، ذہین ، بہادر   حریت رہنما تھے ، جوانی سے ہی آزادی کی تحریک میں شامل تھے ۔ سید علی گیلانی  29 ستمبر  1929 ء میں  مقبوضہ جموں کشمیر کے علاقہ برمولا میں پیداہوئے، سید علی گیلانی نے شروع میں  سوپور اور باقی لاہور ، پنجاب میں تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے مسجد وزیر خان سے منسلک مدرسے میں تعلیم حاصل کی اور بعد میں اورینٹل کالج میں داخلہ لیا،اس نے اسلامی الہیات کا  کورس ادیب علیم کو مکمل کیا ، اردو میں ایک ادیب فاضل کورس اور فارسی اور انگریزی کے دیگر کورسز مکمل کیے۔   1946ء میں فارغ التعلیم ہوتے ہی علی گیلانی جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس میں شامل ہوکر پارٹی یونٹ کے سیکرٹری مقرر ہوگئے تھے۔ وہ جماعت اسلامی کے بانی مولانا ابوالاعلیٰ  سے ملاقات کی اس سے علی گیلانی ایک سخت گیر اسلام پسند نظریے سے اجاگر ہوئے جس کے تحت اسلام کو پورے سیاسی نظام کی بنیاد بننا پڑا۔علی گیلانی  1953 سے جماعت اسلامی کشمیر کے رکن رہے ، اور اس کے سرکردہ رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ گیلانی سوپور حلقہ سے تین بار قانون ساز اسمبلی کے رکن بھی ۔ پھر  تحریک حریت کی بنیاد رکھی ، جو کہ جموں کشمیر کی آزادی کی  جماعتوں کا مجموعہ آل پارٹیز حریت کانفرنس ْکا ایک اہم جزو ہے۔ علی گیلانی مقبوضہ جموں  کشمیر کی آزادی کی تحریک کے سب سے اہم و بنیادی رہنما اورجموں  کشمیری جہاد کے باپ مانے جاتے تھے۔ اسی دوران آزادی کی مہم  میں علی گیلانی کو جیلوں میں قید اور گھر میں نظرِبند بھی کیا جاتا رہا ہے، کئی دفعہ  نوجوان کشمیریوں کو شہید کرنے اور جیلوں  میں قید  کرنے پر بھوک ہڑتال بھی کرتے رہے ۔ 29 نومبر 2010 کو علی  گیلانی پر مختلف دفعات کے تحت چھوٹے الزامات لگائے گئے جن میں زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا تھی ، پاسپورٹ ضبط کر کے بیرون ملک علاج کے لیے  جانے نہیں دیا جاتا رہا ہے۔  01 ستمبر 2021 ء کو سید علی گیلانی شدید  ظلم کی وجہ بزرگی میں بیمار رہے  اور سری نگرمیں وفات پاگئےلیکن آخری وقت تک جموں کشمیر کی آزادی کی جدوجہد جاری رکھی، پاکستانی کی آئندہ نسلیں ہمیشہ یاد رکھے گئی۔ سید علی گیلانی کا ایک خوبصورت بول ہے،” ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے”، گیلانی صاحب کی پر امید تقاریر پر ان کی وفات پر دل روتاہے۔

مسرت عالم:-

مسرت عالم جولائی 1971 ء میں سری نگر میں پیدا ہوئے ، مقبوضہ جموں کشمیر میں کرفیو کی وجہ سے تعلیم گھر پر ہی حاصل کی اور گزر بسرکے لیے دادا کی کپڑے کی دکان سنبھال لی، لیکن بھارتی ظلم بربریت نے ان کے حوصلہ پست نہیں کیےاور ان کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لی،  سید علی گیلانی کی حریت پارٹی میں شامل ہوئے۔ انہوں نے 2010 میں مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی مظالم کے کیخلاف مقابلے کے لیے  پتھراؤ کرنے والی ریلیوں میں نمایاں کردار ادا کیا ، مسرت عالم کشمیر  کی آزادی کے نعرہ بلند کیے ہیں، کشمیر پر ان کا موقف یہ ہے کہ اسے پاکستان کا حصہ بننا چاہیے۔  17 اپریل 2015 کو کشمیر پولیس نے سرینگر میں پاکستان کا جھنڈا بلند کرنے پر گرفتار کیا تھا۔ مسرت عالم کی گرفتاری کے خلاف احتجاج میں بھارتی فوج نے کئی نوجوان اور خواتین کو شہید کیا  جس سے جموں و کشمیر میں کشیدگی پیدا ہوئی لیکن یکم ستمبر 2015 کو  دوبارہ جیل کے احاطے میں حراست میں لیا گیا جب حکام نے  جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے  حکم کے بعد رہا کر دیا۔تاہم پولیس نے  دوبارہ گرفتار کیا اور کسی نامعلوم مقام پر لے گئی۔  بھارتی حکومت نے مسرت عالم کیخلاف27 جعلی  مقدمات  درج کیےہیں، لیکن ان میں سے بیشتر میں وہ یا تو بری ہو چکے ہیں یا عدالتوں نے انہیں ضمانت پر رہا کر دیا ہے ۔سید علی گیلانی کی موت کے بعد اپ کوحریت کانفرنس کاچیر مین منتخب کیا ہے لیکن اپ ابھی نظربند ہیں۔ مسرت عالم کا خوبصورت بول :”ہم مٹی کے بیٹے ہیں اور ہمیں یہاں رہنے کا حق ہے، یہ ہماری زمین ہے۔ “

آسیہ اندرابی:-

آسیہ اندرابی 1962ء میں  جموں کشمیر میں پیداہوئی، انتہائی بہادر ، بلند حوصلہ اور باپردہ خاتون ہے۔آپ  نے بائیو کیمسٹری میں گریجویشن  اور کشمیر یونیورسٹی سے عربی میں ماسٹر کیا۔    1990 میں ڈاکٹرعاشق حسین سے شادی کی اور تین سال بعد ان پر  انسانی حقوق کے کارکن کے قتل کا جھوٹا الزام لگا  کر 1993 میں جیل  بھیج دیا ، وہ ابھی تک جیل میں ہے۔  دین اسلام اور مقبوضہ جموں کشمیر کی آزادی کی بنیاد پر1980ء میں  پارٹی  دختران ملت قائم کی ، بانی رہنما اور چیئرپرسن ہیں ، ‘آل پارٹیز حریت کانفرنس’ کا حصہ ہے۔   شوہر عاشق حسین بھی مقبوضہ جموں کشمیر، پاکستان کے ساتھ الحاق  کے  میں شامل ہیں ۔آپ نے مقبوضہ جموں کشمیر کی آزادی  کے لیے سید علی شاہ گیلانی کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔ آسیہ اندرابی نے وادی بھارتی فوج کی کشمیر ی عورتوں کی  عصمت دری   کے خلاف  مختلف مظاہروں میں حصہ لیا ہے،آپ خواتین کو  حوصلہ دیتی کہ  وہ بھارتی ظلم و بربریت کا مقابلہ کر سکیں۔ آپ کو  1993 میں گرفتار کیا گیا اور بعد میں 1994 میں رہا کر دیا گیا، 2007 سے 2009 تک پھر  گرفتار کیا گیا ، جس کی وجہ سے وہ 2010 میں مسلسل 2 سال تک قید رہی۔ 28 اگست 2010 کو فوجی ظلم کے خلاف اور آزادی کے لیے آواز اٹھانے پر  گرفتار کیا، 12 ستمبر 2015 کو  ایک گائے ذبح کی اور ایک ویڈیو جاری کی تاکہ مقبوضہ  جموں و کشمیر میں گائے کے گوشت کی فروخت پر پابندی کی مخالفت کی جا سکے۔  17 ستمبر 2015 کو دوبارہ پاکستانی پرچم لہرانے اور فون پر پاکستان میں ایک کانفرنس سے خطاب کرنے پر گرفتار کیا گیا۔ 25 مارچ 2015 کو کشمیر میں پاکستانی پرچم لہرایا اور پاکستانی قومی ترانہ گانے  پر مقدمہ درج کیا گیا۔  6 جولائی 2018 کو بھارتی انسداد دہشت گردی تنظیم جعلی  الزام میں حراست میں لیا۔ آپ کا خوبصورت بول :”میں ایک پرجوش لڑکی تھی،میں باہر تعلیم حاصل کرنے کی خواہش پر اس اعتراض سے حیران رہ گئی، لیکن اس مایوس کن حالت میں مائل خیرآبادی کی کتاب ‘خواتیں کی باتیں’ میری مدد کے لیے آئی۔ “

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: