اندھی لالچ

تحریر:حبیب الرحمٰن خان
عنوان: آندھی لالچ
انسان روز اول سے ہی تجسس اور لالچ کا آسان شکار رہا ہے۔ جس کے نتائج ہمیشہ ہی انسان کے لیے نقصان کا باعث بنے
نتیجہ چاہۓ جلدی آیا یا دیر سے آیا لیکن انسان خسارے میں رہا
لیکن تعجب اس بات کا ہے کہ انسان نے خود کو ان سے بچانے کی کوشش نہیں کی
ہر دفعہ شکست کھائی لیکن پھر بھی ان دونوں عوامل کا مرید رہا
روس نے افغانستان پر قبضہ کرنے کی کوشش کی اور کھربوں ڈالر کا نقصان اٹھایا۔معاشی طور پر اس قدر ناتواں ہو گیا کہ سوویت یونین کا شیرازہ بکھر گیا
تمام ریاستیں الگ ہو گئیں۔کچھ احباب کا خیال ہے کہ گورباچوف اس کے زمہ دار ہیں جبکہ میں اس بات سے متفق نہیں۔
میرا خیال ہے کہ ڈوبتی ناؤ کو بچانا کسی کے بس میں نہیں۔ جب گورباچوف اقتدار میں آیا تو مقابلے میں امریکہ، یورپی یونین دیگر پڑوسی ممالک کھڑے تھے سوویت یونین کی معاشی حالت انتہائی ناگفتہ بہ تھی اس کے پاس اس کے علاؤہ چارہ نہیں تھا کہ روس کو بچانے کے لیے اضافی وزن اتار پھینکے
اس کے معاشی طور پر تباہی ہونے اور افغانستان سے نکل جانے کے بعد امریکہ کی رال ٹپکنے لگی
تو امریکی سی آئی اے نے ایک خاص منصوبہ بندی کر کے افغانستان میں داخلے کا راستہ ہموار کیا۔
اور بیس سال تک کھربوں ڈالر خرچ کیے ہر حربہ آزمایا لیکن افغانستان کی جغرافیائی حیثیت سے ناواقفیت ، موسمی حالات سے مقابلے کی سکت نہ رہی جبکہ مقابلتاً مقامی آبادی کی اکثریت جو کہ یک لسانی اور ایک مذہبی عقیدے سے اتفاق و اتحاد کی زنجیر کی مثل تھی
انتہائی صبر و استقلال سے مقابلہ کرتی رہی
اور بالآخر فتح سے ہم کنار ہوہی
لیکن قابل غور بات یہ کہ ہر دو بڑی قوتوں نے افغانستان پر قبضہ کرنے کا کیوں سوچا
یہی وہ گتھی ہے جس سے عام آدمی ناواقفیت رکھتا ہے
افغانستان کے پاس آخر ایسی کون سی سونے کی چڑیا تھی کہ جس کے حصول کے لیے دونوں طاقتوں نے بڑا جانی و مالی نقصان اٹھایا۔
محترم احباب
روس کے پڑوس میں ایک سرد اور برف سے ڈھکا ہوا سمندر ہے جسے کیسپیئن سی (Caspian Sea )کہتے ہیں اس سمندر میں رب العالمین نے تیل کے بے پناہ زخائر رکھے ہوۓ ہیں۔ لیکن اس تیل کو خریداروں تک پہنچانے کا راستہ افغانستان سے ہوتا ہوا پاکستان (ممکنہ طور پر بلوچستان) سے گزر کر گرم پانی تک پہنچاتا ہے اور یہاں سے پھر بڑے بحری جہازوں کے زریعے دنیا کے دیگر ممالک تک پہنچایا جا سکتا ہے
سو اس راستے کواپنے قبضے میں لینا مقصود تھا
اور کمال یہ ہوا کہ انڈیا اور ایران نے بھی اس کے لیے ہاتھ پاؤں مارے لیکن جب بڑی قوتیں ہی شکست کا شکار ہو گئیں تو ان کی کیا اہمیت ہو گی
اور سی پیک کو بھی ناکام کرنے کا مقصد یہی تھا کہ پاکستان کسی بھی طرح اس راستے کو اتنے بڑے تیل کے زخائر کو دنیا تک پہنچانے کا سبب نہ بن سکے اور ایک اہم فریق ہونے کے ناطے مالی طور پر مستحکم نہ ہو سکے
لیکن رب العالمین کے فضل و کرم سے پاکستان رہتی دنیا تک قائم رہے گا

حبیب_خان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: