فرمان نبویؐ پر سائنسی تحقیق آپ. ﷺ کی جزیرۃ العرب کے متعلق پیشن گوئی پوری ہوئی جو کہ قیامت کے علامات میں سے ایک ہے

‏‎فرمان نبوی پر سائنسی تحقیق

1993

میں

امریکی جیوجکل سیٹلائٹ نے ایسی تصاویر جاری کیں جن میں واضح ہوا تھا. کہ خطہ عرب جو صحرا ہی صحرا ہےکبھی سربز و شاداب ہوا کرتا تھا. ہر نوع اقسام کے جانور تھے جبکہ دریا اور جھیلیں بھی موجود تھیں. تصاویر سے ماہرین نے واضح کیا کہ یہ سب ‏اب بھی عرب جزیرے میں دبا ہوا ہے. اس تحقیق نے مسلمانوں کے ایمان کو روشنیوں سے منور کردیا کیونکہ 1400 سال پہلےاللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ و سلم نے فرمایا تھا کہ ’قیامت سے پہلے سرزمینِ عرب دوبارہ سرسبز ہو جائیگی۔

اس حدیث مبارکہ کے 2 مطلب ہیں کہ عرب خطہ کبھی سرسبز و شاداب تھا.‏جو 1993 میں سچ ثابت ہوا اور اسے ثابت کیا ناسا کے سائنسدانوں نے جبکہ دوسرا مطلب یہ ہے کہ جب تک یہ خطہ دوبارہ سرسبز نہیں ہوگا قیامت نہیں آے گی.

اب تاریخ شاہد ہے کہ 1930 تک پورا عرب ریت ہی ریت تھا. یہاں سے تیل دریافت ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ خطہ عالمی دلچسپی کا مرکز بن گیا. ‏وہ خطہ جو صرف مسلمانوں کی مذہبی عقیدت تک محدود تھا. پوری دنیا کھنچی چلی آئی. آج سعودی عرب میں مصنوعی طریقہ کار کے تحت فصلیں اگائی جارہی ہیں. پہاڑوں پر سبزہ لگایا جا رہا ہے.

جس سے تقویت ملتی ہے کہ فرمان مصطفی کا دوسرا مطلب بھی پورا ہونا شروع ہوگیا ہے. یعنی یہ قیامت کے آثار ہیں. ‏2013میں آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک ٹیم نے5 سالہ پروگرام شروع کیا جسکا مقصد سیٹلائیٹ تصاویر کی روشنی میں جزیرہ عرب کی فزیکلی تحقیق کرناتھا.8ملین یورز کی لاگت پرمبنی اس تحقیق کےدوران زمین میں 30سے100میٹر تک کھدائی بھی کی گئی اورثابت ہواکہ حجازمقدس کی پہاڑیوں سےلیکر کویت کے60فیصدحصے ‏پر 850 کلومیٹر لمبا دریا تھا. 2 لاکھ سال پہلے اسمیں پانی ہی پانی تھا.

دریاےکویت 5 کلومیٹرچوڑا تھا.5000سے11000 سال پیچھے جائیں تو اس دریا کی باقیات ملنا شروع ہوجائنگی.پھر یہاں گرم ہواؤں/ریت کےطوفان نے زور پکڑا اور پانی بتدریج سینکڑوں میٹرز نیچےچلاگیا. جسے صرف کنووں کی مددسےنکالا ‏جانے لگا. موجودہ سعودی عرب کے جنوبی حصے میں بھی کبھی 3 بڑے دریا تھے. جنکی تحقیق کے لئے مزید سیٹلائیٹ تصاویر کی ضرورت ہے.جزیرہ عرب دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے.

جو 12 لاکھ 50 ہزار مربع میل پر پھیلا ہوا ہے. بحرین عراق سعودی عرب کویت امارات قطر اومان اردن اور یمن اس میں شامل ہیں. ‏80 فیصد رقبے پر اکیلا سعودی عرب واقع ہے. ماہرین ارضیات کے مطابق یہ جزیرہ 23 سے 56 ملین سال پہلے ریڈ سی کےسرکنے سے وجود میں آیا تھا. جو اس سے پہلے براعظم افریقہ کا حصہ تھا.

ٹرو جرنلزم سائنسدانوں کی تمام کوششوں کا معترف ہے جنہوں نے میرے نبی کے فرمان پر تحقیق کی اور سچ ثابت کیا ‏سائنس چونکہ تجربات و مشاہدات کا نام ہے. اس لئے اب ہم بطور مسلمان تمام غیر مسلمز کو اس تحقیق کی روشنی میں بمعہ ثبوت قائل کرسکتے ہیں. اور بھی ہزاروں مثالیں موجود ہیں جن میں سائنس نے قرآن و حدیث پر تحقیق کرکے سچا ثابت کیا. لیکن ہم بطور مسلمان آج بھی سائنس کو کافروں کی سازش قرار ‏دیتےہیں.حالانکہ سائنس کوغلط کہناسائنس کی سب سےبڑی کتاب قرآن مجیدکی تعلیمات سےروگردانی ہے.

جس سیٹلائٹ کوہم مہنگی ترین ٹیکنالوجی کہہ کر ردکردیتےہیں اسی نے ثابت کیاکہ رحمت عالم نہ صرف1400سال پہلےصادق تھےبلکہ قیامت تک بھی رہنگے. سائنس کےکچھ مقاصدسےآپ اختلاف کرسکتےہیں لیکن مکمل ردنہیں.

True Journalizm

Coloumnist | Blogger | Space Science Lover | IR Analyst | Social Servant Follow on twitter www.twitter.com/truejournalizm MSc Mass Communication

0 0 ووٹس
Article Rating
سبزکرائب
مطلع کریں
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
تمام کمنٹس دیکھیں
0
Would love your thoughts, please comment.x
%d bloggers like this: