قرآن کے سائنسی معجزات پارٹ ۷,قرآن حکیم اور سمندر کی گہرائیاں و انٹرل ویووز۔

ڈسکرپشن: گہرے سمندروں میں زندگی کے بارے میں قرآن، اس میں اندھیرے اور جدید سائنسی دریافتوں کی کس طرح تصدیق کرتا ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اَوۡ کَظُلُمٰتٍ فِیۡ بَحۡرٍ لُّجِّیٍّ یَّغۡشٰہُ مَوۡجٌ مِّنۡ فَوۡقِہٖ مَوۡجٌ مِّنۡ فَوۡقِہٖ سَحَابٌ ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعۡضُہَا فَوۡقَ بَعۡضٍ ؕ اِذَاۤ اَخۡرَجَ یَدَہٗ لَمۡ یَکَدۡ یَرٰىہَا ؕ۔۔۔۔۔۔سورہ نور آیت 40

ترجمہ: یا ( کافروں کے اعمال ) اس گہرے سمندر کی تاریکیوں کی مانند ہیں جسے موج نے ڈھانپا ہوا ہے ( پھر ) اس کے اوپر ایک اور موج ہے ( اور ) اس کے اوپر بادل ہیں ( یہ تہ در تہ ) تاریکیاں ایک دوسرے کے اوپر ہیں،جب ( ایسے سمندر میں ڈوبنے والا کوئی شخص ) اپنا ہاتھ باہر نکالے تو اسے ( کوئی بھی ) دیکھ نہ سکے ،۔۔۔۔۔۔۔

اس آیت میں سمندروں میں پائے اندھیرے کا ذکر ہے ، جہاں انسان اپنا ہاتھ بڑھائے تو وہ اسے نہیں دیکھ سکتا ہے، سمندروں میں تقریباً 200 میٹر سے نیچے کی گہرائی سے تاریکی شروع ہوجاتی ہے۔ اس گہرائی میں ، روشنی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے (تصویر 1 دیکھیں)، اور 1000 میٹر کی گہرائی تک روشنی کا بلکل بھی نام و نشان نہیں ملتا(1)۔ آبدوز یا خصوصی آلات کی مدد کے بغیر انسان چالیس میٹر سے زیادہ گہرائی میں ڈبکی لگانے کے قابل نہیں ہے۔

انسان سمندروں کے گہرے تاریک حصے میں جدید آلات کی امداد کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا ، جیساکہ 200 میٹر کی گہرائی میں۔

تصویر نمبر 1: 3 سے 30 فیصد سورج کی روشنی سمندر کی سطح پر سے منعکس ہوتی ہے۔

باقی روشنی کے سپیکٹرم کے تقریبا تمام ساتوں رنگ ، پہلے 200 میٹر میں ایک کے بعد ایک کر کے جذب ہوتے جاتے ہیں، سوائے نیلی روشنی کے.

(Oceans, Elder and Pernetta, p. 27.)

سائنس دانوں نے حال ہی میں اس تاریکی کو خصوصی آلات اور آبدوزوں کے ذریعہ دریافت کیا ہے جن کی مدد سے وہ سمندروں کی گہرائی میں غوطہ زن ہوسکتے ہیں۔

ہم پچھلی آیت میں درج ذیل جملے سے بھی سمجھ سکتے ہیں ، “… جسے موج نے ڈھانپا ہوا ہو ( پھر ) اس کے اوپر ایک اور موج ہو ( اور ) اس کے اوپر بادل …. “، یہ کہ سمندروں کے گہرے تاریک پانیوں کو لہروں نے ڈھانپا ہوا ہے ، اور ان لہروں کے اوپر دوسری لہریں ہیں۔

اس بات سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ لہروں کا دوسرا مجموعہ دراصل سطحی لہریں ہیں جو ہم سطح سمندر پر دیکھتے ہیں ، کیونکہ آیت میں ذکر کیا گیا ہے کہ دوسری لہروں کے اوپر بادل ہیں۔

لیکن پہلی لہروں کا کیا مطلب ہے؟ سائنسدانوں نے حال ہی میں دریافت کیا ہے کہ سمندری سطحہ کے نیچے گہرائی میں اندرونی لہریں موجود ہوتی ہیں جو “مختلف کثافتوں کی تہوں کے درمیان ڈینسٹی انٹرفیس پر واقع ہوتی ہیں۔(2)” (تصویر 2 دیکھیں)


مختلف کثافتوں کے پانی کی دو پرتوں کے درمیان انٹرفیس میں انٹرنل/اندرونی لہریں۔ ایک زیادہ کثیف (نیچے والی) ، دوسری کم کثیف۔

(Oceanography, Gross, p. 204.)

اندرونی لہریں سمندروں کے گہرے پانیوں کو ڈھانپتی ہیں کیونکہ گہرے پانیوں میں ان کے اوپر والے پانیوں کی نسبت زیادہ کثافت ہوتی ہے

اندرونی لہریں سطح کی لہروں کی طرح ہی عمل کرتی ہیں۔سطحی کی لہروں کی طرح یہ بھی ٹوٹ سکتی ہیں۔ اندرونی لہروں کو انسانی آنکھ سے نہیں دیکھا جاسکتا ،لیکن کسی مخصوص جگہ پر درجہ حرارت یا نمک کی تبدیلیوں کا مطالعہ کرکے ان کا پتہ لگایا جاسکتا ہے۔ [3]

اور یہ انٹرل ویووز یا اندرونی لہروں کی دریافت حال ہی میں جدید آلات کے ذریعے ممکن ہوئی ہے، بھلا آج سے 14 سو سال قبل عرب کے صحراؤں میں کیسے کوئی سمندروں کی اس خاصیت کا بغیر ان جدید آلات کے پتا لگا سکتا تھا،سوائے اس کے کہ ان سمندروں کو بنانے والا اس کو اس کا علم عطا کرے؟ جو کہ اس کائنات کے خالق نے اپنے آخری پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بطور وحی عطاء کیا۔


حاشیہ

  1. Oceans, Elder and Pernetta, p. 27.
  2. Oceanography, Gross, p. 205.
  3. Oceanography, Gross, p. 205.

Follow me on Twitter

سید محمد علی

Syed Muhammad Ali

Student of Electrical Engineering,Blogger, Website Designer, Graphic Designer, Website Manager and Social Media Manager

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: