قوم کو دو مخالف دھڑوں میں تقسیم کرنے والے ہمارے سیاست دان اور میڈیا چینلز کے اینکر

پُوری قوم کو مخالف دھڑوں میں تقسیم کرنے والے ہمارے سیاستدان اور میڈیا چینلز کے اینکرز!

یہاں پوری قوم کو انتہا درجے کا شدت پسند بنادیا گیا ہے۔ کسی کا کچھ بس نہیں چلتا۔ عوام کی ایک دوسرے کو بس گالیاں اور گالیاں۔ عجیب و غریب القابات۔ اس سے کیا ہوگا؟ نفاق اور انتشار سے بڑھ کر کسی قوم کی ھلاکت کے لئے اور کیا چاہئے؟ یہ کام ہمارا دشمن نہیں بلکہ ہمارا سیاسی نظام اور میڈیا بخوبی انجام دے رہا ہے۔

ہمارے میڈیا چینلز کا اس میں بڑا ھاتھ ہے۔ برسوں بیت گئے وہی ایک فارمیٹ دیکھتے ہوئے کہ ہر اینکر روزانہ رات کو دو ن لیگ دو پی ٹی آئ دو پیپلز پارٹی اور دو کوئ دوسرے تجزیہ نگار بٹھا کر انتہائ بے سروپا اور اوٹ پٹانگ اور غیر اہم قسم کے موضوعات پر ان کو آپس میں لڑواتے ہیں تلخ کلامی کرواتے ہیں اور قوم کو اگلے دن تک کے لئے ایک دوسرے کی مادر چادر کرنے کے لئے چھوڑ دیتے ہیں۔ ان کی ریٹنگ اور پیسہ بنتا ہے ۔ میرے اور آپ کے سامنے ایک دو نہیں درجنوں ایسے اینکرز ہیں جو آج سے پانچ دس سال پہلے جوتیاں چٹخاتے پھرتے تھے اور آج بنگلوں، گاڑیوں اور بڑے بزنس کے مالک ہیں۔ جن کو اسکوٹر دستیاب نہیں تھی وہ آج مرسیڈیز میں ڈرائیور لے کر گھومتے ہیں۔ زرا ان کی بھی تو چھان بین کی جائے کہ کیا ایک صحافی یا ٹی وی اینکر اتنا پیسہ بناسکتا ہے؟ ان کے لئے بی جمالو سے بہتر کوئ اصطلاح نہیں ہوسکتی جو روزانہ بُھس میں ایک نئ چنگاری ڈال کر قوم و ملک میں انتہا درجے کا انتشار پھیلاتے ہیں۔ان کے بینک بیلنس پھل پھول رہے ہیں لیکن قوم کو نفسیاتی مریض بنادیا گیا ہے۔

کیا کبھی آپ نے انکو اور ان کو لڑانے والے اینکروں کو
ایک ساتھ کسی کی بہن بیٹے کی شادی کی تقریب میں دیکھا ہے ؟
یہ وہاں کیسے شِیر و شَکَر ہوتے ہیں۔ ایسے ہوتے ہیں جیسے ایک دوسرے کو بہن بیٹی دے رکھی ہو ۔۔
اگر زندگی میں سکون چاہتے ہیں تو ان پروگرامز کو دیکھنا بند کردیجئے۔

ساجدعثمانی

@sajidusmani01

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: