ازبکستان کے خوبصورت لوگ خوبصورت شہر اور میرا سفر


‎”عمران ہوٹل، لوٹاگردی، اور شہرِ تاشکنت”

‎جی تو ہم تاشقند پہنچ چکے ہیں عمران ہوٹل ہو  اگلے دو ہفتوں کے لیے ہماری قیام گاہ ٹھہرا،. یہاں میں اس ہوٹل کے سٹاف کا زکرِ خیر ضرور کرنا چاہوں گا،. ہوٹلز کی سٹینڈرڈائزیشن / رینکنگ کے لحاظ سے شاید یہ ڈیڑھ /دو  ستارہ ہوٹل ہو مگر اسکا سٹاف اپنی خوش اخلاقی، تعاون  اور میزبانی میں “فائیو سٹار” سے ہرگز کم نہیں.، بلکہ یوں کہیئے کہ ہمارے سارے گروپ کے ازبکستان بارے مثبت تاثرات میں #بنیاد کا کام اس سٹاف کی مہمان نوازی اور کیئرنگ رویہ نے ہی کیا ہے.،، بالخصوص کچن کی ذمہ دار “نؤبہار” نے ہم سب پر #پروفیشنل_ازم، خدمت، ملنساری اور خوش اخلاقی کی وہ چھاپ چھوڑی ہے کہ اب جب جب تاشقند کی کہانی آئے گی “نوبہار” کے بہار آفریں رویے کو بھی بتایا، سنایا، دہرایا جائے گا،.. اُزبک میں بولوں تو “رحمت ، عزیز نوہر”🙏

‎اس ضمن میں یہ بھی زکرِ خیر ضروری ہے کہ،..

‎الحمدللہ ہونے کی وجہ سے پاکستانی ہمارے تینتیس کے گروپ نے بھی اپنے ان مہربان میزبانوں پر بہت مُثبت اثر چھوڑا ہے، اور ہم سب نے بھی پاکستانی ہونے کی وجہ سے اُنہیں اپنے قیام کے دوران بہت عزت و تکریم دی، پھر آخری دن سب نے ملکر  باہمی مالی تعاون سے ایک معقول رقم سٹاف کو بطورِ تشکر تعریفی ٹوکن ھدیہ بھی کی،. ماشاءاللہ زیادہ تر ازبک لوگ محنتی اور خوددار  ہیں.،، (نیچے ہوٹل سٹاف میں سے نؤبہار اور فخر دین کی پکچر ہے، – شکریہ کو ازبک میں رحمت  کہتے ہیں “رحمئت سٹاف عمران ہوٹل” – 

‎جی تو ہم تاشقند کے مشرقی حصے میں واقع یشنوبوڈ ضلع کے عمران ہوٹل میں #قیامت پزیر ہوچکے ہیں،. یہاں آدھی رات ہو چکی ہے،..

‎دراصل اسلام آباد سے موسمی خرابی کے باعث فلائٹ کی چار گھنٹے کی تاخیر ہوئی، پھر تاشقند پہنچنے پر گروپ ڈنر اور ہوٹل رومز وغیرہ کی الاٹمنٹ پر کافی وقت کھپ گیا،. یوں گویا سارا گروپ تقریباً بارہ گھنٹے سے زائد سے سفر میں تھا،.. لہذا چیک_اِن کرتے ہی #روپبلک حسبِ معمول امور ہائے ضروری سرانجام دینے جوق در جوق بیت الخلاء وارد ہوئے تو انکشاف ہوا کہ مسلمانوں کی سیکنڈ لاسٹ ایجاد کا تو یہاں سرے سے رواج ہی نہیں،.

‎أعوذ باللہ،.. عیش ھذا یا رجل 🤭

‎ خیر یہ ساری رات تو ٹشو پیپر رگڑ کر اسی تشویش میں گزری کہ یہ #امریکی سسٹم والی سازش صرف میرے ساتھ کی گئی ہے یا سب رومز ہی یہاں #چراغِ_طہارت سے محروم ہیں،.. یہ تشویش شاید اسلئے بھی تھی کیونکہ ہم پاکستانی اپنی عمومی نفسیات میں “اگر سب کے ساتھ یکساں مسئلہ ہوتو کمفرٹ محسوس کرتے ہیں”،.. لہذا جواب کیلئے اگلی صبح تک کا انتظار کیا گیا،

‎اور جناب علی الصبح ملنے والا جواب یہ تھا کہ،.

‎اس ہوٹل میں تو کیا  اس ملک کے شرق و غرب میں بھی کہیں کموڈ کے ساتھ  لوٹا شریف یا اسکے ڈیجیٹل ورژن مسلم شاور کا تکلف موجود نہیں،..***F مطلب مارے گئے 😥😥،.

‎جی تو بہت کیا کہ انکے کسی بڑے بزرگ سے ملا جائے اور اُسے اس مفید ایجاد المعروف #لوٹا کے فیوض و برکات و استعمالات سے متعارف کرایا جائے،. مگر پھر زبان کی رکاوٹ کے ہاتھوں جانے دیا 😡،.. 

‎کیونکہ نامعلوم مؤرخ لکھتے ہیں کہ معلوم انسانی تاریخ میں پہیئے کے بعد دوسری مفید ایجاد لوٹا ہی ہے،.. اور کبھی یہ استحقاق صرف بادشاہوں کو ہوتی تھی کہ فقط شاہی حمام ہی لوٹا یاب ہوتے تھے،.مگر شومئی قسمت کہ اب تو لوٹے #ایوانوں سے لیکر #کریانوں تک ہر جگہ ہی بِکتے /  رُلتے پھرتے ہیں.،،

‎خیر مزاح اپنی جگہ مگر حقیقت یہی ہے کہ لوٹے کا یہ سنجیدہ ترین معاملہ ہمیں دو ہفتے درپیش تھا اور ریسیپشن والے کو لوٹا سمجھانے کا مطلب تھا لوٹا بن کر دکھانا 😎، کیونکہ انگلش میں وہ گونگا تھا اور ازبک زبان میں ہم سب پیدائشی تھتھے 😷، 

‎(بلکہ یہ صرف اس ہوٹل کا ہی مسئلہ نہیں تھا، دراصل اس ملک کی پچانوے فیصد آبادی کا مسئلہ ہے کہ وہ لوٹے سے نابلد اور انگلش کے گونگے ہیں، لہذا یہاں آنے سے پہلے لوٹا لانا، اور بکرے، مینڈھے، گھوڑے، مرغی وغیرہ وغیرہ کی آوازیں نکالنا سیکھ کر آئیں تاکہ ہمارے عزیز دوست عباس قادری  کی طرح آپ کم از کم ریسٹورنٹس پر کھانا آرڈر کرتے وقت تو کرسٹل کلیئر بات چیت کر سکیں، *مآخوذ از سچا واقعہ 😄😄😄)،.. 

‎تو قصہ مختصر اس سنگین مسئلے کے حل کیلئے ناشتہ کرتے ہی ہم تین افراد #لوٹاگردی (تلاشنے) کو نکل پڑے،. ہوٹل سے نکلتے ہی ہم نے #ٹیوا_ٹیکنالوجی کی مدد سے بائیں طرف کو چلنے کو شُبھ جانا اور نکل پڑے شہرِ تاشقند سے لوٹا دریافت کرنے،..

‎اب سڑک کے کنارے کنارے چلتے ہم پر شہرِ تاشقند منکشف ہو رہا تھا،. #دارالحکومت کے بیچو بیچ چلتی لگژری گاڑیوں کے جلو میں پرانے ماڈل کی کاریں بہت زیادہ بھلی لگ رہی تھی، یہاں 80 / 85 ماڈل کاریں عام استعمال میں ہیں،.. روڈز ضرورت کی حد تک  وسیع تھے اور روڈز کے اطراف میں ہر جگہ پیدل چلنے کے صاف ستھرے اور وسیع راستے تھے،.. پہلی نظر میں شہر بہت بھلا اور اپنا اپنا سا لگ رہا تھا کیونکہ ٹریفک کا نظام کافی حد تک ہم سے ملتا جلتا، چھوٹی گاڑیوں کی بہتات اور کیری ڈبے کی موجودگی بھی کافی حد تک ہم سے مماثل تھی، بلکہ اُِکا دُکا ٹریکٹر اور گدھا گاڑی کے جلوے نے تو باقاعدہ مغالطہ میں مبتلا کر دیا کہ کہیں رات کو ٹریول ایجنٹ #رحونی طور پر واپس گوجرانوالہ تو نہیں چھوڑ آیا 😄،..

‎بہرحال پھر ذرا سا غور کیا تو،.. 

‎روڈز کی صفائی، آلودگی پر کنٹرول، وال چاکنگ کی عدم موجودگی، حکیم عامل باوا بنگالی کے اشتہارات نا ہونا، سیاسی شخصیات کی قد آور ہورڈنگز وغیرہ نا ہونا، #شیونگ_کریم تک کی مارکیٹنگ کیلئے جگمگاتی نسوانی جلووں والی بڑی بڑی سکرینز کی عدم دستیابی، کوڑے کرکٹ کے ڈھیر ندارد ہونا اور ہر مارکیٹ کے سامنے ناجائز تجاوزات کا وجود صفر ہونا وغیرہ وغیرہ جیسے کچھ عوامل کی وجہ سے، فوری طور پر دوبارہ یقین ہوگیا کہ نہیں، نہیں فی الحال تاشقند ہی ہے.،،

‎(ویسے شکر ہے مزکورہ تمام خوبیاں، ہمیں دنیا بھر میں اپنے شہروں سے غافل نہیں ہونے دیتیں 😉، ورنہ تو ہم شاید بھٹک ہی جائیں).،

‎خیر باغات اور درختوں میں گِرا ہوا تاشقند دیکھ کر گزشتہ روز کے سفر کی ساری کلفتیں ذہن سے اتر رہی تھی ۔ کشادہ سٹرکیں، درختوں کی لمبی قطاریں، ہر طرف سبزہ اور ہر گھر کے ساتھ باغیچہ گویا اسلام آبادی ٹچ لگ رہا تھا،. ٹریفک کی سہولت عام لگ رہی تھی، ٹیکسی، الیکٹرک بس اور آٹو بس کے ساتھ ساتھ میٹرو بھی موجود تھی،. ہم شہر سے محظوظ ہوتے جا رہے تھے اور چلتے جا رہے تھے کیونکہ ابتک ہمیں ہماری اہم ضرورت #المعروف لوٹا کہیں نظر نہیں آیا تھا،.. لیکن اب تک کئی کلومیٹر تک شہر کا ایک سِرا ڈُِسکوّور دریافت  کر لینے پر مجھے دو چیزیں بہت اچھی لگ رہی تھی،

‎1: اس شہر میں کہیں کوئی چاینہ کٹنگ،. ہاؤسنگ سوسائٹیز کے نام پر انفراسٹرکچر کا ستیاناس،.اور  ہائی رائزز کی کثرت نا تھی،. بلکہ شہر بھر میں ایک کلاسیکی سادگی تھی،. سوویت ٹائمز کی کسی عالیشان بلڈنگ کے عقب میں عام سا ڈھابہ بھی اُتنا ہی باوقار و خود مختار لگ رہا تھا جتنی وہ عالیشان بلڈنگ – 

‎2: دوسری چیز یہ کہ ان لوگوں نے ابھی تک ہماری طرح  #برانڈز کا روگ نہیں پالا،. فوڈ سے لیکر دیگر ضروریاتِ زندگی تک انکے ہاں کافی سادگی اور انکا لوکل پراڈکٹس پر تکیہ واضع نظر آ رہا تھا،. اس معاملے میں یہ کوئی نوے کی دہائی  کا پاکستان سمجھ لیں جب ہم نے بھی ابھی تک اتنے سارے روگ نا پالے تھے اور ہم اپنے آپ پر قدرے مطمئن، خوش، صحت مند اور طویل الاجل تھے،..

‎ہمارا دور اندھیروں کا دور ہے لیکن 

‎ہمارے دور کی مٹھی میں آفتاب بھی ہے

‎ہم شہر کی ایک سمت چلتے ہی جا رہے تھے کیونکہ ہمیں #چراغِ طہارت کی تلاش کے ساتھ ساتھ شہر دیکھنے کا بھی تجسس تھا اور نامعلوم سیانے کہہ گئے کہ نئ دلہن کے ساتھ اور نئے شہر میں انسان عموماً فاصلے اور وقت سے بے نیاز کہیں دور ہی نکل جاتا ہے،.. بہرحال کوئی آٹھ کلومیٹر چل لینے کے بعد راستہ بدلا تو ایک پلاسٹک کے برتنوں کی شاپ نظر آئی، دکاندار کو ہم نے  ایک مشہور وزیر صاحب  کی فوٹو دکھا🙏 کر لوٹا ایکسپلین کرنے کی بھرپور کوشش کی مگر اس نے ہمیں چند قدم آگے ایک دوسری دکان کی راہ دکھا دی، جہاں واقعی لوٹے لٹک رہے تھے،. یوں ہم نے ایک عدد لوٹا خریدا اور خُدا کا شکر بجا لایا کہ دیارِ غیر میں اس نے ہمیں #کُوزہ_طہارت عطا کیا –

‎ >> کہتے ہیں قبلہ یوسفی صاحب سے کسی نے پوچھا تھا کہ روسی ریاستوں کی سیر کا بہترین وقت کونسا ہے،.

‎انہوں نے برجستہ جواب دیا “جوانی کا”… (اگلی قسط جناب یوسفی صاحب کے قول کی روشنی میں لکھنے کی کوشش کروں گا)،…  دیکھتے رہنا

تحریر ساجد عثمانئ

@sajidusmnai01 

اسلام آباد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: