شہادت حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ

‏امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت

15 رمضان المبارک 3 ہجری کا دن حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی ولادت کا دن ہے۔ آپ پیارے آقا و مولا ﷺ کے نواسے، حضرت سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم اور حضرت سیدۃ النساء، سیدہ کائنات فاطمۃ الزھراء سلام اللہ علیہا کے بڑے شہزادے ہیں۔ آپ جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔
28 صفر المظفر 50 تاریخ کا وہ سیاہ دن ہے جب نواسہ رسولؐ خلیفۃ المسلمین حضرت امام حسنؓ درجہ شہادت پر فائز ہوئے ۔حضرت شاہ ولی اللہ کے فرزندنامور عالم اہلسنت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی امام حسن ؓاور امام حسین ؓ کی شہادت کو شہادت رسولِ خداؐ سے تعبیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آدم سے لے کر عیسی ٰ ؑ تک تمام پیغمبران کے اوصاف، کمالات اور خوبیاں خاتم الانبیاء محمد مصطفی ؐ میں جمع ہو گئی تھیں ۔

مگر ایک کمال باقی رہ گیا تھا وہ تھا شہادت کا مرتبہ وہ حضور کو خود حاصل نہیں ہوا تھا اس کا راز یہ تھا کہ اگر حضور ؐ کسی جنگ میں شہید ہو جاتے تو اسلام کی شوکت متاثر ہوتی ۔حکمت الہی اور کارسازی نے یہ پسند فرمایا کہ شہادت کا کمال بھی حضور ؐ کو مل جائے ۔

کیونکہ حسن ؓو حسین ؓ کا رسول کریم ؐ کا بیٹا ہونا دلائل سے ثابت ہے اس لئے ان دونوں نواسوں کی شہادت رسول ؐ کی شہادت ٹھہری
شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رقم طراز ہیں کہ امام حسن ؑ کی شہادت کا سبب آپ کی بیوی جعدہ بنت اشعث کی جانب سے دیا جانے والا زہر تھا۔

جعدہ نے امام حسن کے بعد خاندان طلحہ کے ایک شخص سے شادی کر لی،
اور اس سے کئی بچے ہوئے، جب ان بچوں کے خاندان اور خاندان قریش کے درمیان تکرار ہوتی تو انہیں کہا جاتا ”یا بنی مسمّة الازواج ” ( اے ایسی عورت کے بیٹو جو اپنے شوہروں کو زہر دیتی ہیں ۔
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: اشعث نے امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب(ع) کے خون سے اپنے ہاتھ رنگین کیے، اس کی بیٹی جعدہ بنت اشعث نے امام حسن(ع) کے خون سے اپنے ہاتھ رنگین کیے اور اس کے بیٹے محمد بن اشعث نے امام حسین(ع) کے خون سے اپنے ہاتھ رنگین کیے۔
تحریر محمد اسماعیل آزاد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: